
عمران خان کے سابق پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کا نام اسٹاپ لسٹ سے نکالنے کا حکم بھی جاری کر دیا گیا ہے اس کے علاوہ عمران خان کے خلاف دہشت گردی کے کیس کو ختم کرنے کے لےء درخواست سماعت کے لئے منظور ہو گئی ہے۔ اگر 10 اپریل 2022ء عمران خان حکومت کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد سے عدالت کا عمران خان اور تحریک انصاف کو ریلیف بہم پہنچانے کے احوال واقعی کا مطالعہ کریں تو ممکنہ حد تک تحریک انصاف کو ہر کیس میں ریلیف دیا گیاہے اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔(ن) لیگی اتحادی عمران خان پر مختلف مقدمے قائم کر کے یہ سمجھ رہے ہیں کہ بس اب عمران خان نااہل ہوا چاہتا ہے۔
فارن فنڈنگ کیس ہو یا توشہ خانہ کیس یہ ایسے کیسز ہیں جن سے عمران خان کا بچ نکلنا کسی طور بھی ممکن نظر نہیں آتا لیکن حقیقت ابھی تک اس کے برعکس ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے ایسی صورتحال سے متعلق بہت خوبصورت بیان دیا ہے کہ ”مسلم لیگ نے عمران خان پر مقدمات کے حوالے سے امیدیں لگا رکھی ہیں جبکہ تاریخی اعتبار سے ریکارڈ بنتا ہے کہ عمران خان کو کچھ نہیں ہونے والا۔اے آر وائی نیوز پر عائد حکومتی پابندی بھی ختم کر دی گئی ہے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیمرا اور حکومت کا موقف سنے بغیر ہی عمران خان کی لائیو تقریر پر پابندی کو وقتی طور پر کالعدم قرار دے دیا ہے تاکہ وہ ٹیلی تھون اور دیگر سرگرمیوں میں شمولیت کے ذریعے سیلاب زدگان کی امداد کر سکیں۔
عمران خان نے سیلاب زدگان کی امداد تو کیا کرنی ہے وہ جلسے ضرور کر رہے ہیں اور ان کی لائیو کوریج بھی خوب ہو رہی ہے اپنے جلسوں میں وہ بلا روک ٹوک اپنے مخالفین پر حسب سابق دشنام اور نفرت انگیزی کا پرچار کر رہے ہیں۔
مصطفی کمال پاشا کے کالم’’ قوم فکری و عملی طور پر تقسیم ہو چکی؟‘‘سے اقتباس
واپس کریں