دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
حکمت سے کام لیجئے ۔ رؤف حسن
No image پاکستان دہشت گردی سے نمٹنے کی طویل اور تکلیف دہ تاریخ رکھتا ہے ۔ سابق سوویت یونین کے خلاف جنگ میں کود پڑنے سے اس نے اس بیماری کا پہلے پہل مزہ چکھا۔ وہاں سے ہمارے ہاں کلاشنکوف اور منشیات کاوہ کلچر آیا جس سے بچ نکلنے کے لیے ہم آج بھی ہاتھ پائوں مار رہے ہیں ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری شمولیت نے اس بحران کو مزید گہرا کردیا ، اور کئی ایک سکیورٹی آپریشن کرنے کے باوجود ہم ابھی تک اسے شکست نہیں دے پائے ۔ اس دوران دہشت گردی کی شدت میں کبھی کبھار کمی آئی ہوگی لیکن اس کے خونی پنجے بدستور پھیلتے رہے ۔ یہ مزیدتباہ کن اور ہلاکت خیز ہوتی گئی ۔
اگرچہ امید کا دامن تھامنے میں کوئی حرج نہیں لیکن ہمیں اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ صرف طاقت کے استعمال سے ہر چیلنج سے نہیں نمٹا جاسکتا ۔ اس سے پیدا ہونے والی پیچیدگیاں ایسے گہرے چرکے لگادیتی ہیںجن کامندمل ہونا ناممکن ہوتا ہے ۔ اس خطرے سے نمٹنے کی حکمت عملی زیر بحث لاتے ہوئے ہمیں ماضی کے تجربے کو سامنے رکھنا ، اور سیکھے گئے اسباق کی روشنی میں آگے بڑھنا چاہیے ۔
باہر کی جانب دیکھنے سے پہلے ہمیں اپنے گھر کی طرف دیکھنا چاہیے کہ ہمارا مسئلہ کیا ہے اور ہم دہشت گردوں کا پسندیدہ ہدف کیوں بن چکے ہیں؟ چند روز پہلے قومی سلامتی پر پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے گورننس کی ناکامی کی نشان دہی کی جس کی وجہ سے پاکستان عسکریت پسندی سے نمٹنے میں ناکام رہا ہے ۔ انھوں نے ایک اہم، لیکن عام فہم سوال اٹھایاکہ یہ صورت حال کب تک جاری رہے گی؟ کب تک گورننس کا خلا پاک فوج اپنے شہدا کے خون سے پُر کرتی رہے گی ؟ دہشت گردی کے زہر ناک پنجوں کو توڑنے کے لیے کچھ بھی کرنے سے پہلے ہمیں بلا شبہ اس سوال کا جواب تلاش کرنا ہوگا۔
اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ حکمرانی کی ناکامیاں رہی ہیں، لیکن موجودہ دور میں ان کی سنگینی انسان کو لرزا دیتی ہے۔ تین سال قبل اقتدار کی کرسیوں پر براجمان ہونے کے بعد سے آئین، قانون کی حکمرانی، جمہوریت، انسانی حقوق اور ریاست کےمفادات کے ساتھ بھیانک کھیل کھیلا گیاہے۔ہاں، گورننس کی سنگین ناکامیاں ہیں۔ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے جو پہلا چیلنج ہمیں درپیش ہے وہ آئین اور قانون کی حکمرانی کے خلا کو دور کرنا ہے۔ ہمیں اتحاد اور اتفاق کی ضرورت ہے تاکہ دہشت گردی اور اس کے گھناؤنے کارندوں کا مقابلہ کرنے کیلئے قوم کو اکٹھا کیا جا سکے۔ ایک منقسم قوم اس کا شکار تو بن سکتی ہے ، اس کیخلاف فاتح بن کر نہیں ابھر سکتی ۔
یہ ایک سادہ سا معاملہ ہے۔ ہمیں اسے حل کرنے کے لیے مسئلہ فیثا غورث کی ضرورت نہیں۔ ہم سے پہلے آنے والوں نے آئین نامی ایک کتاب چھوڑی جس میں ملک کو ذمہ دارانہ طریقے سے چلانے کے رہنما اصول موجود ہیں۔ ان میں سے ایک ایسی حکومت کے قیام کیلئے آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کا انعقاد ہے جسے عوام کا مینڈیٹ حاصل ہو۔ 8فروری نے اس مستحکم بنیاد کو تباہ کر دیا جس پر ریاست کو آگے بڑھنا تھا۔ باہر کی طرف دیکھنے سے پہلے ناقص حکمرانی کی سنگین بیماری پر توجہ دینی چاہیے۔ اس کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ۔ ضروری ہے کہ تدارک قانون کی کتاب کے مطابق ہو۔غیر جانبدار انتظامیہ کی نگرانی میں فوری طور پر انتخابات کرائے جائیں۔ اس میں کوئی مداخلت نہ ہو، اور عوام کی پسند کی حکومت کو اپنے منشور پر عمل درآمد کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔عوام کے اعتماد اور حمایت کیساتھ ایک نمائندہ حکومت کو قانونی حیثیت حاصل ہوگی ۔ملک، دوست اور مخالف بھی اس کا احترام کرینگے ۔اس وقت ایسے عناصر کے ساتھ بات چیت کا عمل شروع کیا جائے جو اپنے حق سے محرومی محسوس کرتے ہیں اور جو دہائیوں پر محیط محرومیوں کی وجہ سے ہم سے لڑ رہے ہیں۔ کو اگر ہم بیٹھ کر ان کی باتیں سنیں ۔ انھیں کچھ حقیقی شکایات ہو سکتی ہیں، وہ گمراہ بھی ہو سکتے ہیں، انھیں بیرونی حمایت اور حوصلہ افزائی ہو سکتی ہے – ۔ ایک جائز حکومت ان عناصر سے طاقت کی پوزیشن سے بات کریگی تو اسکی کامیابی کے امکانات روشن ہوں گے ۔ اسکے بعد ہی ہم اصل پریشانی پیدا کرنے والوں کو ان لوگوں سے الگ کر سکیں گے جو زندگی کے مرکزی دھارے میں واپس آنے کیلئے تیار ہیں۔ ریاست کو مؤخر الذکر کو رسد فراہم کرنی چاہئے تاکہ وہ معمول کی زندگی کا از سرنو آغاز کریں۔ وہ ہمارا اثاثہ ہیں، اور ہمیں کھلے بازوؤں کیساتھ انکا استقبال کرنا چاہئے۔ ہمیں انکی حقیقی شکایات اور محرومیوں کو دور کرنے کی کوششیں شروع کرنی چاہئیں اور ملک کے شہری ہونے کے ناتے انکے مطالبات کی تکمیل کو یقینی بنانا چاہئے۔
اس ابتدائی مرحلے سے گزرنے کے بعد ہم ان عناصر سے نمٹنے کیلئے کوئی حکمت عملی وضع کرسکتے ہیں۔ جن علاقوں میں کارروائی ہو، انھیں نقصان نہ پہنچے۔ ان علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو بے گھر نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ان کی حفاظت کی جائے۔ کامیابی کے لیے ایک جامع نقطہ نظر کی ضرورت ہوگی جسے لوگوں کی فعال حمایت اور شرکت کے ساتھ نافذ کیا جائے ۔
اب جبکہ آرمی چیف نے بیماری کی صحیح تشخیص کر لی ہے، ملک کے اندر سیاسی استحکام پیدا کرنے کیلئے پہلا قدم آئین کی پاسداری کرنا ہے۔ اگر ہم ایسا کرتے ہیں، تو ہم اس لعنت پر قابو پانے میں نصف کامیابی حاصل کرچکے ہوں گے۔ لیکن اگر ہم قانون کے راستے پر نہیں چلتے تو ہمیں دہشت گردی کے کینسر پر قابو پانے کیلئے ضروری لوگوں کی حمایت حاصل نہیں ہوگی۔ یہ اپنا راستہ کھو دینے کے مترادف ہو گا۔
واپس کریں