دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
نورستان اور کوہستان: مشترکہ زبان، ثقافت اور لازوال روایات کی کہانی
No image (تحریرخالد خان )افغانستان کے دور افتادہ پہاڑوں میں واقع نورستان ایک ایسی سرزمین ہے جو فطری حسن، قدیم روایات اور گہری ثقافتی جڑوں سے مالا مال ہے۔ اس علاقے کے زیادہ تر باشندے کوہستانی زبان بولتے ہیں، جو پاکستان کے کوہستانی عوام کی زبان، رہن سہن اور طرزِ زندگی سے بے حد مشابہت رکھتی ہے۔ فلک بوس پہاڑوں اور گھنے جنگلات میں چھپے ہوئے یہ علاقے صدیوں سے اپنی تہذیب و تمدن کو محفوظ رکھے ہوئے ہیں، جو لسانی ماہرین اور محققین کے لیے ہمیشہ سے توجہ کا مرکز رہے ہیں۔
نورستان ایک لسانی گلدستہ ہے جہاں چھ بڑی زبانیں—کتہ وری، کامویری، آشکون، تریگامی، پروسانی اور وائیگلی—بولی جاتی ہیں۔ یہ تمام زبانیں داردی لسانی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں، جو ہند-ایرانی زبانوں کی ایک شاخ ہے۔ ان میں سے کئی زبانیں پاکستان کے کوہستانی علاقوں میں بولی جانے والی زبانوں سے بے حد مشابہت رکھتی ہیں۔ ماہرینِ لسانیات کے مطابق، نورستان کی تریگامی زبان پاکستان کے توروالی لہجے سے کافی مماثلت رکھتی ہے۔ یہ مماثلتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دونوں علاقوں کے باشندے کسی دور میں ایک ہی ثقافتی اور نسلی اکائی کا حصہ رہے ہوں گے، جن کے درمیان وقت اور سرحدوں نے فاصلہ پیدا کر دیا۔
تاریخی طور پر، نورستان اور کوہستان کے باسیوں کی زبانوں کو "کافری زبانیں" کہا جاتا تھا۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ نورستان کے لوگ طویل عرصے تک اسلام قبول کرنے سے گریزاں رہے۔ جب یہ لوگ اپنے قدیم مذاہب پر قائم رہے تو انہیں "کٹار کافر" کہا گیا، اور یہی اصطلاح بعد میں پشتو زبان میں ایک محاورہ بن گئی، جس کا مطلب "ضدی اور سخت گیر" لیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ آج بھی کئی داردی زبانوں میں "کٹار" کا مطلب وہی لیا جاتا ہے، یعنی "ناقابلِ تسخیر مزاج"۔ نورستان کا اسلامی تشخص ایک طویل تاریخی سفر کا نتیجہ ہے، جس میں ثقافتی مزاحمت، جبری تبدیلیِ مذہب اور تاریخی محرکات نے اہم کردار ادا کیا۔
نورستان اور کوہستان کے باشندے فطرت کے قریب، سادہ مگر مہمان نواز اور مضبوط اعصاب کے مالک ہیں۔ ان کے طرزِ زندگی میں آج بھی قدیم داردی ثقافت کی جھلک نمایاں ہے۔ ان کے مکانات روایتی داردستانی طرزِ تعمیر کے عکاس ہیں، جو لکڑی، پتھر اور مٹی سے بنائے جاتے ہیں۔ یہ گھر نہ صرف موسم کی سختیوں کا مقابلہ کرتے ہیں بلکہ زلزلوں سے بچاؤ کے لیے بھی بہترین ڈیزائن کیے گئے ہیں۔ گھروں پر کی گئی لکڑی کی نقش و نگاری، ان کے فنِ تعمیر کی مہارت اور حسن کا ایک جیتا جاگتا ثبوت ہے۔
ان پہاڑی علاقوں میں زندگی سخت ہے، مگر یہاں کے لوگ اپنی روایات، زمین اور ماحول سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان کا دن کھیتی باڑی، مال مویشی پالنے اور روایتی دستکاریوں میں گزرتا ہے۔ سخت ترین موسمی حالات اور محدود وسائل کے باوجود، وہ فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر زندگی بسر کرتے ہیں۔ ان کا طرزِ زندگی ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ خوشی سہولتوں میں نہیں، بلکہ سادگی میں ہے۔
مہمان نوازی کوہستان اور نورستان کے لوگوں کا طرۂ امتیاز ہے۔ اگر کوئی اجنبی ان کے علاقے میں قدم رکھے تو یہ لوگ اپنی بہترین چیزیں اس کے لیے پیش کرتے ہیں۔ پاکستان کے کوہستانی علاقوں میں جب کوئی مہمان آتا ہے، تو میزبان اپنے گھر کے سب سے اچھے کمرے اسے دیتے ہیں، خود کسی دوسرے گوشے میں سونے پر راضی ہو جاتے ہیں، اور مہمان کی ہر ممکن خدمت کو اپنے لیے باعثِ عزت سمجھتے ہیں۔ یہ مہمان نوازی محض کھانے پینے تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ میزبان اپنے مہمان کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، اس کے تجربات سنتے ہیں، اور اپنی ثقافت سے روشناس کراتے ہیں۔
نورستان میں بھی یہی روایات زندہ ہیں۔ یہاں کے لوگ نہ صرف مہمان کو پناہ اور کھانا دیتے ہیں، بلکہ محبت بھری محفلوں میں اپنے تجربات اور قصے کہانیاں بھی بانٹتے ہیں۔ ان کے ہاں کسی اجنبی کو انکار کرنا یا اس کی عزت میں کمی کرنا ایک سنگین بے ادبی سمجھی جاتی ہے۔ یہ روایات صدیوں سے ان کی ثقافتی شناخت کا حصہ ہیں، جو انہیں ایک مضبوط اور متحد معاشرہ بناتی ہیں۔
انسانی تاریخ میں ایسے معاشرے کم ہی بچے ہیں جو جدید دنیا کی سہولتوں کے بغیر بھی خوشحال ہوں، اور کوہستان و نورستان ان معدودے چند جگہوں میں شامل ہیں۔ یہاں کے لوگ سادگی، خود کفالت اور محنت کے اصولوں پر کاربند ہیں۔ ان کے ہاں دولت کی ہوس نہیں، بلکہ قدرت کے حسن، خاندانی نظام، اور دیانت داری کو اصل دولت سمجھا جاتا ہے۔
قدرتی حسن کے لحاظ سے بھی یہ علاقے بے مثال ہیں۔ پاکستان کے کوہستانی علاقے میں سندھ دریا کا مٹیالا پانی، اس خطے کی صدیوں پرانی کہانیاں سناتا محسوس ہوتا ہے۔ بلند و بالا پہاڑوں کے درمیان چھوٹے چھوٹے گاؤں ایک خوبصورت خواب کی مانند دکھائی دیتے ہیں۔ چاندنی راتوں میں پہاڑوں میں گونجتی ندیوں کی موسیقی سننے لائق ہوتی ہے۔ موسمِ بہار میں جنگلی پھول کھل اٹھتے ہیں، اور خزاں میں سنہری پتوں کا فرش بچھ جاتا ہے۔ ہر موسم اپنی ایک نئی داستان لے کر آتا ہے، اور یہ لوگ فطرت کے رنگوں کے ساتھ اپنی زندگی گزارتے ہیں۔
مادی ترقی سے دور ہونے کے باوجود، ان لوگوں کی زندگیوں میں سکون اور طمانیت کی دولت موجود ہے۔ یہ لوگ جدید شہروں کی طرح دوڑ میں شامل نہیں، بلکہ اپنی ثقافت، زمین اور قدرتی وسائل کے ساتھ جینے کے فن سے واقف ہیں۔ آج کی دنیا میں جہاں لوگ ذہنی دباؤ، بے سکونی اور ماحولیاتی تباہی کا شکار ہو رہے ہیں، وہیں کوہستان اور نورستان کے لوگ اپنی فطرت سے جڑے ہوئے طرزِ زندگی کی بدولت خوشحال ہیں۔
یہ علاقے ہمیں زندگی کے وہ سبق دیتے ہیں جو جدید دنیا میں کھو چکے ہیں۔ یہ ہمیں سکھاتے ہیں کہ حقیقی سکون قدرت کے قریب رہنے، خاندانی اقدار کو اپنانے اور خود کو کم میں خوش رکھنے میں ہے۔ جب بڑے شہروں کے لوگ ترقی اور دولت کے پیچھے بھاگ رہے ہیں، تب نورستان اور کوہستان کے باسی سادگی، روایات، اور مہمان نوازی کے اصولوں کے ساتھ زندہ ہیں۔
یہ کہانی صرف پہاڑوں میں بسنے والے ان لوگوں کی نہیں، بلکہ انسانیت کی ازلی جستجو کی بھی ہے—کہ ہم اپنی جڑوں سے جُڑے رہیں، قدرت کی خوبصورتی کو محسوس کریں، اور زندگی کو اصل معنوں میں جینے کا ہنر سیکھیں۔ نورستان اور کوہستان کے یہ پہاڑی لوگ ہمیں بتاتے ہیں کہ اصل خوشی، طاقت، اور سکون ہمیشہ انہی اقدار میں پنہاں رہیں گے، جو آج بھی ان کے ہاں زندہ ہیں۔
واپس کریں