دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پشاور پولیس کا جرائم پیشہ افراد کے خلاف مجوزہ آپریشن: حقیقت یا دکھاوا؟خالد خان
No image خیبر پختونخوا، خاص طور پر پشاور، میں قبضہ گروپ، سود خور، انڈر پلے مافیا، اور منشیات فروشوں کے نیٹ ورکس جڑیں مضبوط کر چکے ہیں۔ یہ گروہ محض چند بدمعاشوں پر مشتمل نہیں بلکہ ایک پورا سسٹم ہیں، جنہیں سیاسی، انتظامی، اور سماجی سرپرستی حاصل ہے۔ ان کی سرگرمیاں نہ صرف اخلاقی و سماجی زوال کا باعث بن رہی ہیں بلکہ دہشت گرد گروہوں کو بھی تقویت فراہم کر رہی ہیں۔
یہ گروہ اتنے طاقتور ہو چکے ہیں کہ ریاستی ادارے بھی بےبس نظر آتے ہیں۔ پولیس، خفیہ ایجنسیاں، اور عدلیہ— سب میں ان کے رابطے موجود ہیں، جو انہیں وقت پر اطلاعات اور قانونی تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ مدارس، فلاحی ادارے، اور دیگر مذہبی تنظیمیں بھی ان کے مالی تعاون سے مستفید ہوتی ہیں، جبکہ عدالتوں میں موجود وکلاء اور سرکاری اہلکار ان کے لیے راہ ہموار کرتے ہیں۔
پشاور میں ان گروہوں کے خلاف ایک بڑے آپریشن کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ اس آپریشن کو ایک پولیس افسر کے نام سے جوڑا جا رہا ہے، جنہیں ایک نجات دہندہ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایک ادارہ واقعی اتنا کمزور ہو گیا ہے کہ ایک ہی شخص پر انحصار کرے؟ اگر ادارے مضبوط ہوتے، تو کسی ایک افسر کی موجودگی یا عدم موجودگی سے کوئی فرق نہ پڑتا۔
ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ آپریشن کے آغاز سے پہلے ہی اس کا اتنا چرچا کیوں کیا جا رہا ہے؟ سرکاری سطح پر اس آپریشن کی تشہیر کرنے کا مقصد کیا ہے؟ کیا واقعی پولیس ان نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے سنجیدہ ہے، یا یہ سب کچھ مجرموں کو خبردار کرنے کی ایک حکمتِ عملی ہے تاکہ وہ پیشگی اقدامات کر سکیں؟
یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس نام نہاد آپریشن کے لیے ایک نئی فہرست مرتب کی گئی ہے، جس میں جرائم پیشہ افراد کے نام شامل ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی یہ فہرست غیر جانبدار ہے؟ اطلاعات کے مطابق، اس فہرست کی تیاری میں دیگر ایجنسیوں اور اداروں کی بجائے صرف سپیشل برانچ، مقامی پٹواریوں اور ذاتی تعلقات کو استعمال کیا گیا ہے، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ پسند اور ناپسند کا مکمل خیال رکھا گیا ہے۔
پشاور پولیس کے تمام اعلی افسران کو قبضہ گروپوں، بھتہ خوروں، منشیات فروشوں، اور دیگر جرائم پیشہ عناصر کی تفصیلات پر مشتمل یہ فہرست فراہم کر دی گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، پشاور میں 25 سے زائد منظم قبضہ گروپس سرگرم ہیں، جو جعلی دستاویزات اور محض سٹامپ پیپرز کے ذریعے جائیدادوں پر قبضے کرتے ہیں۔ تاہم، اصل سوال یہ ہے کہ کیا پولیس واقعی ان کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی کرے گی؟
ان نیٹ ورکس میں بعض غیر ملکی عناصر، بالخصوص افغان شہری بھی شامل ہیں، جنہیں بعض بااثر حلقوں کی سرپرستی حاصل ہے۔ ان میں متعدد افغانیوں کے پاس پاکستانی شناختی کارڈز بھی ہیں بلکہ بعض تو اسمبلیوں کے رکن بھی ہیں۔یہ گروہ صرف پشاور تک محدود نہیں بلکہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی سرگرم ہیں۔ فہرست میں شامل کئی افراد پولیس اور سول افسران کے ساتھ براہِ راست کاروباری تعلقات رکھتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا پولیس واقعی ان ’اپنوں‘ پر ہاتھ ڈالنے کی جرات کرے گی؟
یہ بھی ایک کھلی حقیقت ہے کہ بعض مجرم آج معزز شہری بن چکے ہیں۔ ان کے کالے دھن کو قانونی کاروبار میں تبدیل کر دیا گیا ہے، اور وہ سیاست و تجارت میں اپنی جگہ بنا چکے ہیں۔ کیا پولیس ایسے افراد پر بھی ہاتھ ڈالے گی، یا صرف نچلے درجے کے مجرموں کو قربانی کا بکرا بنایا جائے گا؟
پشاور میں کیے جانے والے پولیس آپریشنز کی تاریخ کو دیکھیں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ اکثر کارروائیاں نمائشی ثابت ہوئی ہیں۔ کچھ عام مجرموں کو قربانی کا بکرا بنا کر اصل مجرموں کو بچا لیا جاتا ہے۔ کیا یہ آپریشن بھی ایسا ہی ہوگا؟ یا واقعی کوئی تبدیلی آئے گی؟
اگر واقعی پولیس کو بااختیار بنانا ہے، تو اسے سیاسی دباؤ، اندرونی سازشوں، اور مافیا کے اثر و رسوخ سے آزاد کرنا ہوگا۔ ورنہ یہ آپریشن بھی محض وقتی سرخیوں میں جگہ پانے کے بعد ماضی کا حصہ بن جائے گا۔
اس مجوزہ آپریشن کے کیا نتائج نکلیں گے، وقت ہی اس سوال کا جواب دے گا۔
واپس کریں