دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ڈیپ اسٹیٹ اور ہارڈ اسٹیٹ: حقیقت یا سراب؟ ارشد زمان
No image ہیلری کلنٹن نے 2011 میں ایک انٹرویو کے دوران ”ڈیپ اسٹیٹ“ کے تناظر میں پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان میں ایک ایسی غیر منتخب اسٹیبلشمنٹ موجود ہے جو پالیسی سازی پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اس بیان کے بعد یہ بحث چھڑ گئی کہ آیا پاکستان واقعی ایک ڈیپ اسٹیٹ ہے یا نہیں؟ ڈیپ اسٹیٹ کیا ہے؟ ڈیپ اسٹیٹ (Deep State) اس غیر مرئی مگر طاقتور ریاستی ڈھانچے کو کہا جاتا ہے جو رسمی حکومتی اداروں کے پیچھے رہ کر ریاستی فیصلوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس میں فوجی اسٹیبلشمنٹ، بیوروکریسی، انٹیلی جنس ایجنسیاں، عدلیہ، بڑے کاروباری ادارے اور بعض اوقات میڈیا کے با اثر عناصر شامل ہو سکتے ہیں۔ پاکستان میں یہ اصطلاح خاص طور پر فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سیاسی معاملات میں کردار کے حوالے سے استعمال کی جاتی ہے۔ ہارڈ اسٹیٹ کیا ہے؟ پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے حالیہ بیانات میں ملک کو ایک ”ہارڈ اسٹیٹ“ بنانے کی بات کی ہے۔ ہارڈ اسٹیٹ (Hard State) ایک ایسا نظامِ حکومت ہوتا ہے جہاں طاقت، جبر اور سخت گیر پالیسیوں کے ذریعے ریاستی کنٹرول قائم رکھا جاتا ہے۔ ایسی ریاست میں قانون نافذ کرنے والے ادارے، فوج، خفیہ ایجنسیاں اور بیوروکریسی فیصلہ سازی میں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں، جبکہ جمہوری اور عوامی رائے کو نظر انداز کر کے سخت اقدامات کیے جاتے ہیں۔
ڈیپ اسٹیٹ اور ہارڈ اسٹیٹ میں کیا فرق ہے؟ اگر ڈیپ اسٹیٹ اور ہارڈ اسٹیٹ کی تعریفات کو دیکھا جائے تو بظاہر دونوں میں زیادہ فرق نظر نہیں آتا، لیکن چند نمایاں فرق درج ذیل ہیں : • ڈیپ اسٹیٹ ایک خفیہ نظام ہوتا ہے، جو پس پردہ رہ کر پالیسی سازی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ • ہارڈ اسٹیٹ کھلے عام سخت گیر طرزِ حکمرانی اختیار کرتا ہے اور طاقت کے مظاہرے سے حکومتی امور چلاتا ہے۔ • ڈیپ اسٹیٹ میں فیصلے پس پردہ ہوتے ہیں، جبکہ ہارڈ اسٹیٹ میں یہی قوتیں براہِ راست سخت گیر پالیسیاں نافذ کرتی ہیں۔ کیا یہ غیر علانیہ مارشل لا کا اعتراف ہے؟ اگر ڈیپ اسٹیٹ غیر جمہوری قوتوں کے پس پردہ کنٹرول کا نام ہے اور ہارڈ اسٹیٹ اس کنٹرول کے عملی مظاہرے کو ظاہر کرتی ہے، تو کیا ہم یہ سمجھیں کہ آرمی چیف کے بیان سے ملک میں غیر علانیہ مارشل لا کا اعتراف اور اعلان کیا گیا ہے؟ یہ ایک سنجیدہ سوال ہے جس پر مختلف حلقوں میں بحث جاری ہے۔ بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ بیان ریاستی قوتوں کے جمہوری نظام پر غالب آنے اور جمہوری روایات کو مزید محدود کرنے کا اشارہ ہے۔ اگر ایسا ہے تو کیا یہ ریاستی جبر میں اضافے کی طرف ایک قدم نہیں؟ یہ حقیقت ہے کہ طاقت کے بل بوتے پر چلائی جانے والی پالیسیاں وقتی طور پر کچھ مسائل کو دبا تو سکتی ہیں، لیکن ان کا نتیجہ ہمیشہ مزاحمت، انتشار اور عدم استحکام کی صورت میں نکلتا ہے۔ قومی سلامتی، سیاسی استحکام اور معاشی ترقی کا انحصار طاقت کے بجائے شفافیت، دیانت داری اور عوامی شمولیت پر ہے۔
ریاستی مسائل کی بنیادی وجوہات پاکستان کو درپیش بنیادی مسائل درج ذیل نکات کے گرد گھومتے ہیں : 1۔ فوج کا سیاست، معیشت اور میڈیا میں غیر آئینی کردار 2۔ انتخابی عمل میں انجینئرنگ اور جمہوری اداروں کی کمزوری 3۔ احتساب کے غیر شفاف اور غیر منصفانہ نظام 4۔ عدلیہ پر دباؤ اور قانون کی بے بسی 5۔ جبری گمشدگیاں اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں 6۔ بیرونی طاقتوں پر غیر ضروری انحصار اور آزاد خارجہ پالیسی کی عدم موجودگی 7۔ دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی اور ریاستی پالیسیوں میں تضادات 8۔ محب وطن اور محبِ اسلام قوتوں کی راہ میں رکاوٹیں اگر یہ بنیادی مسائل جوں کے توں رہیں تو طاقت کے ذریعے نظام کو چلانے کی ہر کوشش ناکامی پر منتج ہوگی، اور ریاست میں بداعتمادی اور بے یقینی مزید بڑھے گی۔
مسائل کا حل کیا ہے؟ ریاستی مسائل کا دیرپا حل صرف بنیادی اور حقیقی اصلاحات میں ہے، جن میں شامل ہیں : 1۔ فوج کا سیاست، معیشت اور میڈیا سے مکمل انخلا • قومی سلامتی کے ادارے اپنی اصل پیشہ ورانہ ذمہ داریوں پر توجہ دیں۔ • کسی بھی قسم کی کاروباری سرگرمیوں میں مداخلت بند کی جائے۔ 2۔ تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے یکساں اور شفاف احتساب • کرپشن کے خاتمے کے لیے بلا امتیاز کارروائی ہو، چاہے وہ سول ہو یا عسکری۔ • سابقہ اور موجودہ اعلیٰ حکام (سول و ملٹری) کے اثاثے عوام کے سامنے رکھے جائیں۔ 3۔ جبری گمشدگیوں کا خاتمہ اور انصاف کی فراہمی • جبری گمشدگیوں کا فوری خاتمہ کیا جائے اور اگر کسی پر الزامات ہیں تو انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے۔ • متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔ 4۔ شفاف انتخابات اور جمہوری عمل کی بحالی • الیکشن انجینئرنگ کو ہمیشہ کے لیے ختم کیا جائے۔ • سیاسی جماعتوں کو برابری کی بنیاد پر انتخابات میں حصہ لینے دیا جائے۔ 5۔ عدلیہ کی آزادی اور قانون کی حکمرانی • عدلیہ پر دباؤ اور سیاسی اثر و رسوخ فوری ختم کیا جائے۔ • انصاف کے عمل کو شفاف، تیز، اور آزاد بنایا جائے۔ 6۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف عملی اقدامات • ریاست کو کسی بھی دہشت گرد گروہ کی حمایت یا خاموشی فوری ختم کرنا ہوگی۔ • دہشت گردی کے خلاف وقتی اور عارضی کارروائیوں کے بجائے دہشت گردی کے اسباب کو ختم کرنا ہو گا۔ • دہشت گرد عناصر کے خاتمے کے لیے حکمت عملی ٹارگیٹڈ آپریشنز پر مبنی ہونی چاہیے، نہ کہ وسیع فوجی آپریشنز جو کبھی بھی پائیدار امن کا ضامن نہیں بنے۔ 7۔ آزاد اور خودمختار خارجہ پالیسی • امریکی اور دیگر بیرونی دباؤ سے نکلنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔ • پاکستان کی خارجہ پالیسی ملکی مفادات اور نظریاتی اساس کے مطابق تشکیل دی جائے۔ • قومی خودمختاری کو مستحکم کرنے کے لیے غیر ملکی انحصار کم کیا جائے۔ 8۔ قومی ڈائیلاگ اور وسیع تر اتفاقِ رائے • تمام سیاسی، سماجی اور مذہبی قوتوں کو ساتھ لے کر ایک قومی مکالمہ (National Dialogue) شروع کیا جائے۔ • کسی ایک ادارے یا گروہ کی اجارہ داری کے بجائے متفقہ پالیسی سازی کی ایک پائیدار اور مضبوط پاکستان۔
جب تک یہ بنیادی اصلاحات نہیں کی جاتیں، طاقت کے ذریعے مسائل دبانے کی ہر کوشش وقتی حل تو ہو سکتی ہے، لیکن یہ لاوا ایک نہ ایک دن ضرور پھٹے گا۔ اگر ہم واقعی ایک مستحکم، خودمختار اور باوقار پاکستان چاہتے ہیں، تو ہمیں طاقت، جبر اور غیر شفاف طریقوں سے نکل کر قانون کی حکمرانی، شفافیت اور عوامی شمولیت کی طرف آنا ہو گا۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک مضبوط، خودمختار اور فلاحی ریاست بنا سکتا ہے۔
واپس کریں