دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
نو مئی والا بلنڈر نہ کریں
No image جعفر ایکسپریس پر حملے کے بعد پاک فوج کے ترجمان نے اعلان کیا کہ اب گیمز کے رولز تبدیل ہوگئے ہیں ، یعنی بلا امتیاز ، بلا لحاظ سخت ترین کارروائی کی جائے گی ، ایسا ہی اعلان نو مئی 2023 کو بھی کیا گیا تھا لیکن ہوا یہ کہ الٹی میٹم مذاق بن کر رہ گیا - آہنی ہاتھ سے نمٹیں گے ، دہشت گردوں کو کہیں چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی ، حملہ آوروں نے بزدلانہ وار کیا ، سخت مذمت کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ جیسے ڈائیلاگ نہ صرف اپنا اثر کھو چکے بلکہ سننے والوں کو جھنجلاہٹ میں مبتلا کردیتے ہیں ، ایسی ہی گفتگو سیاسی و عسکری قیادت نے قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں کی ہے - دوسری جانب لوگ تنقید کررہے ہیں کہ کرنا کرانا کچھ نہیں صرف بڑھکیں رہ گئی ہیں - ریاستی اداروں کے پاس بے پناہ طاقت ہوتی ہے- اس کا استعمال موقع کی مناسبت اور زمینی حالات کو مد نظر رکھ کر کیا جائے تو پھر مطلوبہ نتائج حاصل ہونا یقینی ہو جاتا ہے - بلوچستان میں بدامنی طویل عرصے سے جاری ہے لیکن فوج پر مسلسل حملوں نے اب معاملے کی نوعیت بدل دی ہے - کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پر حملہ 11 مارچ کو کیا گیا جس میں کم از کم 18 سیکورٹی اہلکاروں سمیت 26 افراد شہید ہوئے جبکہ بی ایل اے کے 33 دہشت گرد مارے گئے، پاکستانی فوج نے بہترین صلاحتیوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپریشن کرکے 354 مسافروں کو بازیاب کروایا -ٹرین پر حملے کے کچھ گھنٹوں بعد ہی انڈین اور پی ٹی آئی سوشل میڈیا نے جھوٹ کا پہاڑ کھڑا کردیا - عام پاکستانی شہری صدمے کا شکار تھا کہ ناجانے پاک فوج کے کتنے اہلکاروں کو شہید یا اغوا کرلیا گیا ہے - کچھ وقت گزرنے کے بعد حقائق سامنے آئے تھوڑی تسلی ہوئی - بلوچستان میں ایک عرصے سے پنجابیوں کو چن چن کر مارا جارہا ہے ، پھر سیکورٹی اہلکار نشانہ بننے لگے ، تازہ واقعات میں سندھیوں کا خون بھی بہایا جارہا ہے - جعفر ایکسپریس پر حملے کے اگلے روز نوشکی میں پاک فوج کے قافلے پر خود کش حملہ ہوا اور راکٹ برسائے گئے - لیکن سب سے اہم پیش رفت یہ ہے کہ حالیہ واقعات کے بعد پوری دنیا ایک زبان ہوکر دہشت گردوں کی مذمت کر رہی ہے - ریاست پاکستان کے پاس فری ہینڈ آچکا کہ تمام شرپسندوں کو کچل ڈالے - طاقت کا بے رحمانہ استعمال دہشت گردوں کے سرپرست ممالک کے لیے بھی وارننگ ہوگی - اب مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں ، ماہرنگ بلوچ ہو یا کوئی اور کسی کو سڑکیں بلاک کرنے کی اجازت نہ دی جائے -اگرچہ بلوچستان میں ریاست مخالف مظاہروں میں لوگوں کی بڑی تعداد شریک ہورہی ہے لیکن طاقت اور تدبر سے ان عناصر پر قابو پایا جاسکتا ہے - عرب شیوخ کی طرح زندگیاں گزارنے والے بلوچ سرداروں سے کہا جائے کہ ادھر ادھر عیاشیاں کرنے کی بجائے اپنے اپنے علاقوں میں بیٹھ کر آپریشن کو نتیجہ خیز بنانے میں معاونت کریں -فائنل راؤنڈ شروع ہوچکا ، مصالحت اور مذاکرات کی بات اب آپریشن کلین اپ مکمل ہونے کے بعد ہی ہوگی -اس کے ساتھ ہی کے پی کے میں ضرب عضب ٹائپ آپریشن کا فوری آغاز کردیا جائے - کہاں ہیں وہ ارسطو جو مولانا فضل الرحمن کی بروقت نشاندہی کا مذاق اڑاتے تھے کہ باجوہ ، فیض اور عمران کی پالیسیوں کے سبب ٹی ٹی پی کے دہشت گرد پہاڑوں پر آچکے ہیں - آج یہ حالت ہے کہ علما کرام کو بھی چن چن کر قتل کیا جارہا ہے ، جے یو آئی سب سے بڑا ٹارگٹ ہے - پارہ چنار کا مسئلہ الگ سے آتش فشاں بن چکا ہے - حقیقت سے آنکھیں چرانا نری حماقت ہے - پارہ چنار میں خالصتاً فرقہ ورانہ لڑائی ہے - ایک طرف زینبون ہے تو دوسری طرف ٹی ٹی پی والے ، بگن کی آبادی پر مخالف فریق کے بڑے حملے کے بعد عام شہری بھی اس لڑائی کا حصہ بن چکے ہیں - اس مسئلے کا حل طاقت کے استعمال کے ساتھ مذہبی ضابطہ اخلاق پر سختی کے ساتھ عمل درآمد کرکے ہی نکالا جاسکتا ہے - باقی مقامات پر جیسے چاہیں آپریشن کریں -ثابت ہوچکا کہ بلوچستان اور کے پی کے کی حکومتیں اس قابل نہیں کہ اپنی رٹ قائم کرسکیں - آنے والے دنوں میں حالات کا مزید خراب ہونا یقینی ہے ، بچاؤ کا ایک ہی راستہ ہے کہ ریاست مخالف ہر سرگرمی کو طاقت سے کچل ڈالیں - نو مئی کے بعد اگر ، مگر ، کچھ کو پکڑنا ، کچھ کو چھوڑنا ، بندیال گینگ کا ڈٹ کر پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑا ہوجانا ، عدالتوں میں گڈ ٹو سی یو کا رویہ ، عمرانڈو میڈیا کو بے لگام آزادی ، جیل میں عمران خان کو کھانوں ، ملاقاتوں ، پریس کانفرنسوں کی کھلی چھوٹ ، اس نیٹ ورک کے کئی کارندوں کو ملک سے فرار ہونے کا چانس دینا ، کئی کو ملک کے اندر ہونے کے باوجود نہ پکڑنا اور آخر میں انتہائی بھونڈی “ الیکشن منیجمنٹ “ کرنے جیسی غلطیوں نے فوجی سربراہ کا تختہ الٹنے کے سنگین غداری کے کیس کو مذاق بنا کر رکھ دیا ، اب اسٹلیشمنٹ کا سامنا صرف پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا بریگیڈ اور باہر بیٹھے بھگوڑوں کے ساتھ نہیں - بلکہ بیرونی ممالک سے امداد لینے والے جدید اسلحہ سے لیس دہشت گردوں کے ساتھ ہے - ایسے عناصر کو سیاسی عمل میں شریک کرنے کی کوئی بھی کوشش اس وقت تک حماقت ہوگی جب تک گولی کا جواب گولی سے دے کر ریاست کی رٹ بحال نہ کردی جائے - ریاست پاکستان اگر اب واقعی ایسا کرنے جارہی ہے تو یہ کوئی نئی چیز نہیں ، تاریخ بھی یہی ہے ، طریقہ بھی یہی ہے - مستحکم ملکوں میں ہی نہیں بلکہ وہاں بھی جہاں تازہ تازہ نئی حکومت بنی ہے - شام کی حالیہ مثال کو ہی دیکھ لیں ۔ اپنے ہی دس لاکھ شہریوں کا قتل عام اور پچاس لاکھ کو جلا وطن کرنے والی بشار الاسد خاندان کی طویل جابرانہ حکومت کے خاتمے پر آنے والی نئی حکومت کو پاؤں جمانے کا وقت ملنے سے پہلے ہی اکھاڑنے کے لیے بغاوت کرائی گئی ۔ نئے حکمرانوں نے ناتجربہ کار ہونے کے باوجود سخت ترین ایکشن لینے میں کوئی تاخیر کی نہ کوئی لچک نہیں دکھائی ، صرف چار دنوں میں قابو پالیا- حزب اللہ کے لیڈر حسن نصر اللہ کے جنازے میں آنے والے متعدد ایرانی اور عراقی سمندر کے راستے لاذقیہ اور طرطوس آئے جہاں سابق صدر بشار الاسد کے حامیوں علوی عقیدے والے اکثریت میں ہیں ۔ ترکیہ کی حکومت کو سازش کا علم ہو گیا اور اس نے دمشق میں نئی حکومت کو آگاہ کیا ۔ اطلاعات تھیں کہ اسرائیلی طیارے بھی حملہ آوروں کو کور فراہم کریں گے ، ترکیہ نے اپنے لڑاکا طیارے شامی فضاؤں میں مسلسل پروازوں پر لگا دئیے ، شام کی نئی حکومت نے کسی اندرونی یا بیرونی ردعمل کی پروا کیے بغیر سب کا صفایا کردیا ، نتیجہ دیکھ کر دنیا نے بھی چپ سادھ لی -
واپس کریں