
دنیا میں ایسا کوئی مسلہ نہیں جسکا پرامن حل ممکن نہ ہو۔ہر مشکل اپنی کوکھ میں ایک آسان حل رکھے ہوئے ہوتا ہے۔ اگر کوئی واقعی مسائل کے حل میں سنجیدہ ہو تو کوئی مشکل مشکل نہیں ہے۔ پرانے زمانے کے بادشاہوں کو آج کے دور میں اسٹیبلشمنٹ کہا جاتا ہے۔جیسے بادشاہوں کے نو رتن ہوا کرتے تھے ایسے ہی اسٹیبلشمنٹ کا بھی اپنا ایک مخصوص حلقہ ہوتا ہے۔ ان نو رتنوں میں اتنی اخلاقی جرات نہیں ہوتی کہ وہ بادشاہی ٹولے کو حق سچ مشورہ دے، راہنمائی کرے۔ یہ نو رتن ہر وہی بات کرتے ہیں جسے بادشاہ وقت سننا چاہتا ہے۔ وہ مشورہ بھلے سلطنت ڈبو دے یا بادشاہ کو تحت سے تختے پر لیکر جائے، ان نو رتنوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔اور پڑے گا کیوں؟ کیونکہ یہ اس مقام تک ذہانت اور کردار کے بنا پر نہیں بلکہ دیگر ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے پہنچ چکے ہوتے ہیں۔یہ کج کردار لوگ ہوتے ہیں۔ ان کا کوئی دین ایمان اور مٹی و ملک نہیں ہوتا۔ان کی زندگی انہی سے شروع ہو کر انہی پر ختم ہوتی ہے۔
انہی غلط مشوروں، اندازوں اور تجزیوں کی وجہ سے پاکستان کی ریاست مستقل اور مسلسل بلوچوں کے ساتھ الجھی رہی۔ بلوچ ریاست پاکستان کو قابض گروہ سمجھتی ہے اور ریاست بلوچوں کو دیش گروہی قرار دے چکے ہیں۔ نہ ریاست قابض ہے اور نہ ہی بلوچ دیش گروہی ہیں۔ بات صرف غلط فہمیوں اور بےوقوفیوں کی ہے۔ اس مضمون میں ریاست کے سامنے بلوچستان کی سچائی سامنے رکھنے کی ایک کوشش کی جاتی ہے تاکہ ایک دوسرے کا نقطعہ نظر سمجھنے اور سمجھانے میں آسانیاں پیدا کی جائیں ۔ نو رتنوں کی تخلیق کی گئی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی ایک مخلصانہ کوشش کے طور پر اس مضمون کو لیا جائے۔
بلوچستان کا مسئلہ پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی شروع ہوا تھا جب برصغیر کے تقسیم کے وقت بلوچستان کی چار ریاستوں میں سے تین ریاستوں نے پاکستان میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا جبکہ قلات کی ریاست نے اپنے آزاد حیثیت کو برقرا رکھنے کا فیصلہ کیا۔ بہرحال مختصر عرصے میں خان آف قلات نے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کی اور مارچ 1948 میں پاکستان میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ بعض واقفان حال کا کہنا ہے کہ خان آف قلات، احمد یار خان نے پاکستان سے الحاق کا فیصلہ خوش دلی سے نہیں کیا تھا اور الحاق کے دستاویز پر دستخط ثبت کرتے ہوئے ناگواری انکے چہرے سے جھلک رہی تھی۔جہاں اس فیصلے سے خان آف قلات خوش نہیں تھے، وہاں انکے بھائی پرنس عبدالکریم نے اس فیصلے کو مکمل طور پر مسترف کیا تھا ۔ پرنس عبدالکریم اپنے دو ڈھائی سو ساتھیوں سمیت جھلاوان کے صحرائی علاقے میں پناہ گزین یوگئے اور وہاں سے گوریلا کاروائیوں کا آغاز کیا۔ اس وقت پاکستانی فوج کے گیریژن کمانڈر جنرل اکبر خان تھے جنکی کی ساتویں رجمنٹ، اس مزاحمت کو کچلنے کے لیے تیار تھی۔ اس بات کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں کہ پاکستانی فوج کے افسروں نے پربوٹی کے مقام پر قرآن پر حلف اٹھا کر باغیوں کے لئے عام معافی کا اعلان کیا اور پرنس عبدالکریم کو واپس لوٹنے کی دعوت دی۔پرنس عبدالکریم نے پاک فوج پر اعتماد کرتے ہوئے اپنے ساتھیوں سمیت واپس لوٹنے اور ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ کیا۔ ان کی واپسی پر نہ صرف یہ کہ انہیں ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا گیا بلکہ انکو سخت ترین سزائیں بھی دے دی گئیں۔ سرکاری جرگہ نے 4 دسمبر 1948کو تمام باغیوں کو طویل قید وبند اور جرمانے کی سزائیں سنائیں۔
پرنس عبدالکریم کو بھی معاف نہیں کیا گیا۔
یہ ایک موقع تھا کہ ان تائب باغیوں کو حسب وعدہ عام معافی دی جاتی اور انہیں قومی دھارے میں شامل کیا جاتا۔
یہ بات بھی انتہائی قابل غور ہے کہ پرنس عبدالکریم کی بغاوت میں بلوچوں نے بحیثیت قوم پرنس کا ساتھ نہیں دیا تھا اور صرف ان کے ڈھائی سو ذاتی خدمتگار اور مصاحبین انکے ساتھ تھے۔ ہم قطعا یہ نہیں کہہ سکتے کہ بلوچوں نے بحیثیت مجموعی پاکستان کے ساتھ الحاق کو رد کیا تھا۔ پورے بلوچستان صوبے میں پرنس عبدالکریم اور انکے ڈھائی سو ساتھی کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتے تھے مگر غیر ضروری طور پر ایک شخصی فیصلے کو بلوچ قومی بفاوت کا رنگ اور نام دے دیا گیا۔
بلوچستان میں امن وامان کے مسئلہ نے دراصل صدر ایوب خان کے دور میں سر اٹھایا تھا جب ایوب خان وزیر دفاع تھے۔ ایوب خان نے "ون یونٹ " کے تحت پورے مغربی پاکستان کو ایک صوبہ بنا دیا۔ انہوں نے یہ قدم اس وقت کے مشرقی پاکستان کی عددی برتری سے خوفزدہ ہو کر اٹھایا تھا۔ اس ون یونٹ کا سب سے زیادہ فائدہ پنجاب کو ہوا تھا کیونکہ بنگال کے مقابلے میں پنجاب کی حیثیت بہتر ہو رہی تھی جبکہ باقی تینوں صوبے ون یونٹ کے فیصلے سے خوش نہیں تھے ۔ خاص طور پر بلوچستان کو شدید تشویش تھی کیونکہ اس طرح مغربی پاکستان کی اسمبلی میں ان کی صرف ایک یا دو نشستوں کی گنجائش نکلتی تھی۔
بلوچ سرداروں اور سیاست دانوں نے اسے بلوچستان کے تشخص اور خودمختاری پر حملہ سمجھا، اور جب ان کی بات نہیں سنی گئی تو مری قبیلے کے شیر محمد مری اور ان کے ساتھیوں نے حکومت کے خلاف چھاپہ مار کارروائیاں شروع کر دیں۔یہ گھات لگا کر فوجی قافلوں پر حملے کرتے، ریل گاڑیوں پر بم مارتے، سنتریوں پر فائرنگ کرتے اور فوجی کیمپوں کو نشانہ بناتے ۔پاکستان آرمی نے جواب میں ان کے خلاف زمینی کارروائی کے ساتھ ساتھ فضائی حملے بھی کئے۔شیر محمد مری اور ان کے خاندان والوں کے 13 ہزار ایکڑ پر پھیلے ہوئے بادام کے باغات کو تہس نہس کر دیا گیا۔
دسمبر 1964تک تصادم کے شعلے بے قابو ہو چکے تھے، دونوں طرف کا بھاری نقصان ہو رہا تھا۔ دسمبر 1965 میں ایک اور فوجی کارروائی میں 200 فوجی مارے گئے، اس لڑائی میں پاکستان فضائیہ کو بھی استعمال کیا گیا لیکن پاکستانی مسلح دستوں کو پیچھے ہٹنا پڑا۔
ستمبر 1966 میں مری بگٹی علاقے میں تین اطراف سے پاکستانی فوج کےدستے روانہ کئے گئے، لیکن شدید مزاحمت کے بعد انہیں روک دیا گیا ۔بالآخر 28 جنوری 1967 کو حکومت کی طرف سے عام معافی کا اعلان کیا گیا۔ فریقین میں بات چیت ہوئی اور طے پایا کہ سیاسی قیدیوں کو رہا کر دیا جائے گا۔ سرداروں کی سرداریاں اور سرکاری مراعات بحال کر دی جائیں گی۔ یاد رہے کہ صدر ایوب خان نے بعض بلوچ سرداروں کی سرداریاں بطور سزا ختم کر دی تھیں۔ اس طرح بلوچستان میں فوجی کارروائیوں کا سلسلہ جو 1958 میں شروع ہوا تھا ختم ہوا۔
پرنس عبدالکریم کے بغاوت کے علاوہ نواب نوروز خان نے بھی مزاحمت کی تھی۔ جب 1958 میں حکومت پاکستان نے خان آف قلات کے خلاف فوجی ایکشن کیا اور انہیں بغاوت کے الزام میں گرفتار کیا۔ فوج نے جھالاوان پر چڑھائی کر دی اور زہری قبیلے کے نواب نوروز خان نے اپنے جنگجو ساتھیوں کے ہمراہ میر گھاٹ کو اپنا مستقر بنا لیا۔ اس وقت ان کی عمر 90 سال تھی اور ان کے ساتھ لگ بھگ 600 افراد تھے۔ انہوں نے گوریلا کاروائیاں شروع کر دیں۔
مارشل لاء حکام کے لئے یہ مسلح کاروائیاں سخت تشویش کا باعث تھیں۔انہوں نے چند قبائلی سرداروں کو قران کریم کا نسخہ دے کر نواب نوروز خان کے پاس بھیجا کہ آپ کے تمام مطالبات پورے کئے جائیں گے، آپ ہم سے بات کرنے کے لئے بطور مہمان ہمارے پاس آجائیں۔نواب نوروز خان اپنے بیٹوں، بھانجے اور چند رفقاء کے ساتھ ملاقات کے لئے پہنچے تو ان سب کو گرفتار کر کے، راتوں رات بدنام زمانہ قلی کیمپ میں پہنچا دیا گیا۔بعد میں فوجی عدالت میں ان پر مقدمہ چلا۔سات افراد کو پھانسی کی سزا دی گئی، نواب نوروز خان کو معمر ہونے کی وجہ سے عمر قید کی سزا ملی۔یہ ساتوں بلوچستان زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے پھانسی کے پھندے پر جھول گئے۔
نواب نوروز خان کی مزاحمت پر بھی پورا بلوچستان خاموش تھا اور کسی نے بھی ان کا ساتھ نہیں دیا تھا۔صرف خان اور اس کے چند سو ساتھی کاروائیاں کر رہے تھے۔بات چیت کے ذریعے کیا انہیں ٹھنڈا کر کے ہتھیار نہیں رکھوائے جا سکتے تھے؟ بالکل رکھوائے جا سکتے تھے مگر یہ موقع بھی کھو دیا گیا۔
ایوب خان کے طویل دور میں بلوچستان میں مسلسل بد امنی رہی جسکا پہلا سبب ون یونٹ کا نفاذ، دوسرا سبب 1956 کا قانون، تیسرا سبب عام نا انصافی اور چوتھا سبب یہ تھا کہ ایوب خان یہ سمجھتے تھے کہ جبر اور ڈنڈے کے زور پر بلوچوں کو قابو کر لیں گے لہذا انہوں نے پاکستان آرمی کو بلوچستان کے اہم مقامات پر فوجی کیمپ بنانے کا حکم دیا۔ ان فوجی کیمپوں کے قیام سے بلوچوں نے خود کو قید اور حصار میں سمجھا۔ یہی وہ اقدامات تھے جن کی وجہ سے پنجاب سے نفرت کا آغاز ہوا کیونکہ فوج میں اکثریت پنجابیوں کی تھی۔
بلوچستان پر لگائے گئے عسکری زخم اس دوران مسلسل رستے رہے اور بجائے مرہم رکھنے کے ان زخموں کو ناعاقبت اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ناسوروں میں تبدیل کر دیا گیا۔ نواب اکبر خان بگھٹی کا خاتمہ ان لگائے گئے گھاوں میں سب سے گہرا زخم تھا جس سے بلوچستان کی حالت دن بہ دن بگڑتی گئی۔ اس پورے عرصے میں نواب اکبر بگھٹی سمیت تمام بلوچ سرداروں نے ریاست کا دل جیتنے کی کامیاب کوششیں کیں۔ بلوچ سردار فطرتا جابر ہوتے ہیں اور اپنی رعایا کو پھتر کے زمانے میں رکھنا چاہتے ہیں۔اس دوران عام بلوچوں کو کبھی بھی ریاست نے پاکستانی عوام نہیں سمجھا بلکہ ان سے سرداروں کی رعایا کی طوح سلوک روا رکھا گیا۔عام بلوچ کی فلاح و بہبود، ترقی و خوشحالی اورجدید زندگی کے لیئے ریاستی سطح پر کچھ بھی نہیں کیا گیا۔دوسری جانب سرداروں پر ریاست کی نوازشات برستی رہی اور محلاتی سازشوں کے نتیجے میں حکومتیں بنتی اور ٹوٹتی رہیں۔ سردار دن بہ دن طاقتور ہوتے چلے گئے اور عام بلوچ مہذب زندگی کے لکیر سے نیچے چلتے چلے گئے۔ ریاست نے بجائے عوامی تعمیر و ترقی، سرداروں کو پالا اور سرداروں کے ہاتھوں بلیک میل ہوتی رہی۔روشن فکری، تعلیم و تربیت، سیاسی کلچر اور جمہوری جدوجہد کی بجائے سرداری نظام کو مضبوط سے مضبوط کرتے چلے گئے۔دوسری جانب سرداروں نے عوام کی حالت زار کو ریاست کا ظلم قرار دیتے ہوئے بلوچوں کو ریاست سے متنفر کرکے اپنا تابع فرمان اور مطیع بنایا۔ارتقائی عمل کے نتیجے میں بلوچ نوجوانوں میں تعلیم اور شعور کی سطح بڑھتی چلی گئی جو انہیں بغاوت پر آمادہ کرتی رہی۔ بلوچستان کے دور دراز پہاڑوں میں جسمانی طور پر پسماندہ یہ نوجوان بلوچ، ڈیجیٹل میڈیا کے طفیل زہنی طور پر لندن اور نیویارک کی گلیوں میں گھوم رہے ہیں ۔ عدم مساوات، غربت، بد امنی اور بےروزگاری نے انہیں ادھا تیتر ادھا بٹیر بنایا یوا ہے۔ انہیں نظام سے شدید نفرت ہوچکی ہے۔یہ خود سمیت ہر چیز کو بھسم کرنا چاہتے ہیں ۔یہی نفرت، غصہ اور انتقام انہیں دہشت گردوں کے ہاتھوں میں جانے کے لیئے تیار کرتا ہے۔ ناراض بلوچ نوجوانوں کو ریاست کے خلاف بھڑکایا جاتا ہے۔ ان کی ہر بربادی کے لیئے ریاست کو مورد الزام ٹہرایا جاتا ہے۔ انہیں آزادی کا سنہرا خواب بیچا جاتا ہے۔ ان کے راہنما بیرونی پاکستان دشمن آقاؤں کی انگلیوں پر ناچ رہے ہیں۔ بلوچستان کی اہمیت کی وجہ سے جہاں گوادر اور بےتہاشا معدنیات ہیں اور جسکی تزویراتی اہمیت ہے، پاکستان دشمن عناصر وہاں کبھی بھی امن قائم کرنے نہیں دینگے۔بلوچ سرداروں کی غیروں کی ایما پر بھڑکائی ہوئی آگ میں بلوچ نوجوان ایندھن کے طور پر استعمال ہورہے ہیں۔ریاستی کوتاہی کے سبب انہیں سینے سے لگانے کی بجائے مسنگ پرسنز کیا جارہا ہے۔اس عمل کے رد عمل میں روز بروز باغیوں کا اضافہ ہو رہا ہے۔بیرونی سرمایہ، جنگی ساز وسامان، منصوبہ بندی و راہنمائی اس آگ کو روز بروز شدید کرتی جارہی ہے۔ ریاست اپنی مجبوریوں کے بھنور میں ایک سے بڑھ کر ایک کرپٹ نظام بلوچوں پر مسلط کر رہا ہے۔کرپشن، بدعنوانی، اقربا پروری اور بری طرز حکمرانی میں بلوچستان دنیا کا مثالی خطہ بن چکا ہے۔ سول بیورو کریسی کی تباہیاں، سیکیورٹی اداروں میں نچلی سطح پر کرپشن اور سمگلنگ اور سیاسی اشرافیہ کی لوٹ مار کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ ایک شورش زدہ غریب صوبہ جہاں 60 رکنی صوبائی اسمبلی میں 40 وزیر اور مشیر ہوتے ہیں، کونسی انسانیت اور جمہوریت ہے۔ ریاست کا ایک اور سنگین مسلہ اقوام ناشناسی ہے۔چاہے وہ بلوچ ہو یا پشتون، ریاست انکے مزاج، ثقافت، فطرت اور تاریخ کو سمجھتی ہی نہیں۔ کسی ناراض بلوچی یا پشتون پاکستانی کو قتل کرنا مسائل کا حل نہیں بلکہ ایک باغی کا قتل 100 باغیوں کو جنم دیتا ہے جو ایک لامتناہی جنگ و جدل کا راستہ ہموار کرتی ہے۔ ضروری ہے کہ ریاست بلوچستان کے حالات کا ادارک کرتے ہوئے وہاں مختصر ترین زہین، قابل، پیشہ ور اور باکردار لوگوں کی حکومت قائم کرے۔ افسر شاہی کو لگام ڈالتے ہوئے بجائے حاکم کے خادم بنایا جائے۔ریاست کسی بھی سیاسی بلیک میلنگ میں نہ آئے۔سیکیورٹی کو کئی گنا بڑھایا جائے۔عام شہریوں کے لیئے امن کو یقینی بنایا جائے۔ہنگامی بنیادوں پر تعمیر و ترقی کے منصوبے شروع کیئے جائیں۔ کوئی بلوچ نوجوان بے روزگار نہ رہے۔بلوچ معیشت کو بہتر کیا جائے۔بلوچ نوجوانوں کی مثبت زہن سازی کی جائے۔ مختصر سول حکومت سیکیورٹی اداروں کے ساتھ ایک پیج پر رہے اور ایک دوسرے کے بازوں اور طاقت بنیں۔اگر ایسا نہیں کیا گیا تو بلوچستان نہیں رہے گا۔ اور جو ایسا کرنا نہیں چاہے گا وہ پاکستان کو نہیں چاہتا ہوگا۔یہ وہ حقائق ہیں جو نہ تو نو رتن سمجھتے ہیں اور نہ ہی بتانے کا جرات رکھتے ہیں۔
واپس کریں