دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
علمائے کرام کو کون اور کیوں قتل کر رہا ہے؟
No image (رپورٹ ،خالد خان) پاکستان میں دہشت گردی کی نئی لہر، جس میں علمائے کرام کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اپنی کوکھ میں ایک بڑی تباہی لیے ہوئے ہے۔ گزشتہ 14 دنوں میں 16 علمائے کرام ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے، جن میں مفتی منیر شاکر جیسے ہر دلعزیز عالم بھی شامل ہیں۔ دارالعلوم دیوبند ثانی اکوڑہ کے قائد مولانا حامد الحق حقانی کے خون ناحق سے جو سلسلہ شروع ہوا تھا، وہ روز بروز شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
پاکستان کی تاریخ میں علمائے کرام کی شہادتوں کا ایک طویل اور المناک سلسلہ موجود ہے۔ یہ وہ شخصیات تھیں جنہوں نے اپنی فہم، استطاعت اور عقائد کے مطابق دین کی ترویج، اصلاحِ معاشرہ اور حق گوئی کا بیڑا اٹھایا تھا، مگر ان کی آوازیں دبانے کے لیے انہیں سفاکی سے قتل کر دیا گیا۔ کراچی سے خیبر پختونخوا، بلوچستان سے سابقہ قبائلی علاقہ جات اور سندھ سے پنجاب تک، درجنوں جید علمائے کرام کو شہید کیا گیا، جن میں مفتی نظام الدین شامزئی، مولانا حسن جان، مولانا سمیع الحق، مفتی عبدالشکور، مولانا عبدالغنی، مولانا رحیم اللہ حقانی، مولانا سلیم اللہ خان، مولانا عبیداللہ انور، مولانا محمد امین اورکزئی، مولانا یوسف لدھیانوی اور مولانا نعیم اللہ حقانی سمیت کئی نمایاں نام شامل ہیں۔
یہ سلسلہ کسی ایک علاقے یا مخصوص وقت تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک طویل مدت پر محیط ہے۔ علمائے کرام پر حملے محض کسی فردِ واحد کے خلاف انتقامی کارروائیاں نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ معلوم ہوتے ہیں، جس کا مقصد مخصوص نظریات کو دبانا اور دین کے علمبرداروں کو راستے سے ہٹانا ہے۔ دیوبندی مکتبِ فکر سے وابستہ علما خصوصاً نشانے پر رہے کیونکہ ان کی جدوجہد علمی، فکری اور نظریاتی بنیادوں پر مبنی تھی۔ وہ ظلم و جبر کے خلاف آواز اٹھاتے رہے اور اسی پاداش میں انہیں بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔
یہ شہادتیں رکنے کے بجائے وقت کے ساتھ مزید بڑھتی جا رہی ہیں۔ پاکستان میں ہر مکتبِ فکر کے علمائے کرام کو قتل کیا گیا ہے، تاہم پشتون علمائے کرام اور دیوبندی مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علما سب سے زیادہ نشانہ بنے۔ ان شہادتوں کا مقصد محض افراد کو قتل کرنا نہیں بلکہ اس فکری مزاحمت کو ختم کرنا ہے جو یہ علما پیش کر رہے تھے۔
آج بھی جو علمائے کرام زندہ ہیں، وہ بھی محفوظ نہیں۔ شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی، مولانا فضل الرحمن، مولانا عبدالغفور حیدری، مفتی کفایت اللہ، حافظ حمداللہ، مولانا راشد محمود اور دیگر پر کئی قاتلانہ حملے ہو چکے ہیں۔ ان میں سے کچھ خوش قسمتی سے بچ گئے، لیکن ان پر ہونے والے حملے اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ پاکستان میں علمائے کرام کی جان کو مسلسل خطرہ لاحق ہے۔
یہ سب محض اتفاقات نہیں بلکہ ایک تسلسل ہے، جس کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ کوئی بھی حکومت علمائے کرام کے قتل میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے میں سنجیدہ نظر نہیں آتی۔ زیادہ تر مقدمات فائلوں میں دب کر رہ جاتے ہیں اور قاتل نامعلوم ہاتھوں میں محفوظ رہتے ہیں۔ ان شہادتوں کا سب سے المناک پہلو یہ ہے کہ ان کے بعد پیدا ہونے والا خلا پُر نہیں ہو پاتا۔ علم و تحقیق کی شمع جلانے والے ایک ایک کر کے بجھتے جا رہے ہیں، اور معاشرہ اس نقصان کی شدت کو سمجھنے میں ناکام نظر آتا ہے۔
پاکستان میں سب سے زیادہ سستا خون علمائے کرام کا ثابت ہوا ہے۔ ان کے جنازے تو بہت بڑے ہوتے ہیں، مگر ان کے قاتلوں کو کبھی سزا نہیں ملتی۔ یہ محض چند افراد کا معاملہ نہیں بلکہ ایک ایسے سلسلے کی نشاندہی کرتا ہے جو اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ اگر یہ رویہ یونہی جاری رہا تو علم و تحقیق اور حق گوئی کا چراغ مزید مدھم ہوتا جائے گا، اور وہی قوتیں غالب آئیں گی جو علم کے خلاف برسر پیکار ہیں۔
کراچی کے مفتی نظام الدین شامزئی ایک جید عالم تھے، جنہیں بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔ خیبر پختونخوا کے معروف عالم مولانا حسن جان بھی اسی سفاکیت کا نشانہ بنے۔ اکوڑہ خٹک کے مولانا سمیع الحق حقانی، مولانا حامد الحق حقانی اور مولانا نصیب خان کو بھی شہید کر دیا گیا۔ بلوچستان میں مولانا محمد حنیف، مولانا عبدالغنی حقانی، اور مولانا عبدالسلام کو نشانہ بنایا گیا۔ ژوب میں مولانا سید شمس الدین اور فاٹا میں مفتی عبدالشکور اور مولانا معراج الدین بھی اسی راہ میں اپنی جان قربان کر چکے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں مفتی سردار علی حقانی اور مولانا رحیم اللہ حقانی کو بھی شہید کر دیا گیا، جبکہ وزیرستان میں مولانا نور محمد اور مولانا مرزا جان کا خون بہایا گیا۔ باجوڑ میں مولانا نور اسلام نظامی، مولانا ضیاء اللہ جان، مولانا سلطان محمد، مولانا محمد عظیم، مولانا حمید اللہ حقانی، اور مولانا شفیع اللہ بھی اس ظلم کا شکار ہوئے۔
یہ سلسلہ صرف پشتون علمائے کرام تک محدود نہیں رہا۔ کراچی میں مولانا عبدالسمیع، مفتی جمیل، مولانا محمد صالح، مولانا محمد امین اورکزئی، ڈاکٹر حبیب اللہ مختار، مولانا عنایت اللہ خان، مولانا عتیق الرحمن، اور مولانا ڈاکٹر عادل خان کو بھی شہید کر دیا گیا۔ سندھ میں مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو، جبکہ بلوچستان میں مفتی میر عزیز شاہ اور وڈیرہ غلام سرور موسیانی بھی اس ظلم کا شکار ہوئے۔
یہ سوال اہم ہے کہ آخر علمائے کرام کو کون اور کیوں قتل کر رہا ہے؟ اگر پشتون خطے کی بات کی جائے تو یہاں تین بڑے قیادت کے مراکز رہے ہیں: قوم پرست راہنما، قبائلی عمائدین اور علمائے کرام۔ گزشتہ 50 سال میں قوم پرست راہنماؤں اور قبائلی عمائدین کو بے رحمی سے قتل کر دیا گیا۔ اب وہ علمائے کرام چن چن کر نشانہ بن رہے ہیں جنہوں نے اسلام کے نام پر دہشت گردی اور خودکش حملوں کو حرام قرار دیا تھا یا جن کے بعض ریاستی پالیسیوں سے اختلافات تھے۔
مگر حالیہ ٹارگٹ کلنگ زیادہ سنگین عوامل کی نشاندہی کرتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ کوئی نادیدہ قوت ترقی پسند علما کو جو قوم پرستی اور پاکستان پر یکساں یقین رکھتے ہیں، راستے سے ہٹا رہی ہے۔ ان کے جانے سے جو خلا پیدا ہوگا، شاید اسے سخت گیر نظریات سے پُر کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
کیا کوئی طاقت پشتون بیلٹ میں اسرائیل کی طرز پر کسی غیر قانونی ریاست کے قیام کا راستہ ہموار کر رہی ہے؟ ایسی ریاست جو بیک وقت روس، چین، ایران اور وسطی ایشیا کے لیے مستقل خطرہ ہو، اور پاکستان کو بھی عدم استحکام کی طرف دھکیل دے؟ ایک ایسی سخت گیر اور جنگجو ریاست جو ہندوستان کے سر پر بھی تلوار کی طرح لٹکتی رہے اور افغانستان کے نتھنوں میں بھی گھسی ہوئی ہو۔ اگر ایسا ہے تو کیا ایٹمی پاکستان اس سازش کو کامیاب ہوتا ہوا دیکھے گا؟
ہر گز بھی نہیں۔
آنے والے دن خونریز دہشت گردی کے آثار لیے ہوئے ہیں۔ اس سے نبرد آزما ہونے کے لیے وسیع تر سیاسی اتفاقِ رائے اور ریاست کے ساتھ کھڑے ہونے کی اشد ضرورت ہے۔
واپس کریں