
ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کا مطلب ہی بدامنی، معاشی بہتری کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنا اور دہشت گردوں کیلئے ماحول کو سازگار بنانا ہوتا ہے۔ دوسری طرف یہ ریاستی اداروں سے عوام کو بدظن کرنے اور دراڑیں ڈالنے کی مذموم کوششیں بھی ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ایک مخصوص جماعت ان ہی کوششوں میں مصروف ہے۔ اس جماعت کی کوشش ہے کہ معاملہ چاہے ملکی ترقی کا ہو یا انسانی جانوں کے ضیاغ کا ، اس کو اپنے ناپاک عزائم کی نذر کیا جائے۔
یہ سیاست کی آڑ میں کھلی ملک دشمنی نہیں تو اور کیا ہے۔ اس جماعت کی یہ بھی کوشش ہوتی ہے کہ پاکستان اور ریاستی اداروں کو دنیا میں بدنام کیا جائے، نہ انہوں نے عدلیہ کو چھوڑا نہ دفاعی اداروں کو بخشا۔ یہ کونسی سیاست اور جمہوریت ہے کہ ہم نہیں تو ملک بھی نہ ہو۔ اگر کھلے الفاظ میں بات کی جائے تو اس جماعت کا نام پی ٹی آئی ہے۔ اس جماعت نے کبھی ملکی مفاد اور یکجہتی کی کوشش تو کیاکرنی بلکہ بات تک نہیں کی۔
جعفر ایکسپریس کے واقعہ پر افسوس اور دہشت گردوں پر لعنت بھیجنے کے بجائے اس جماعت نے بھارتی جھوٹے اور ناپاک پروپیگنڈے کو آگے بڑھایا۔ پاکستان کی بہادر افواج کی تعریف اور ان سے اظہار یکجہتی و حوصلہ افزائی کے بجائے بدنام اور کمزور کرنے کی ناپاک اور مذموم کوشش کی۔ پاک افواج بلا شبہ پوری دنیا میں اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دلیری اور شجاعت کیلئے مشہور ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جانوں کی جتنی قربانیاں پاک فوج دے رہی ہے دنیا میں اس کی کوئی مثال نہیں ہے لیکن پی ٹی آئی سیاست کے نام پر دنیا کی واحد جماعت ہے جو ملک کی اسی نامور فوج کے خلاف مکروہ پروپیگنڈہ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی۔
جب بھی ملکی یکجہتی اور امن و امان کے لئے دہشت گردی کے خلاف کوئی اجلاس بلانے کا معاملہ ہو یہ جماعت اس میں شمولیت کیلئے بھی شرائط رکھ دیتی ہے۔ حکومت نے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان کیا تو انہوں نے اس میں شمولیت کیلئے بھی بانی کو رہا کرنے اور ان کی شرکت کو لازمی قرار دیا۔ یہ جماعت کھل کر کہتی ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام اور دہشت گردی کا خاتمہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ مشروط ہے گویا کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام اور بدامنی کا یہ کھلا اعتراف ہے لیکن ابھی تک انکے خلاف سوائے عدالتی تاریخیں دینے اور ضمانتوں میں توسیع پر تو سیع دینے کے کوئی ٹھوس کارروائی نہیں ہوئی جو کہ حیران کن ہے۔ حتیٰ کہ سوشل میڈیا پر اداروں کے خلاف باقاعدہ پروپیگنڈہ مہم چلانے والوں کے خلاف جو جے آئی ٹی بنائی گئی ہے وہ بھی پیشی پیشی کھیلنے میں مصروف ہے۔ بار بار پی ٹی آئی کے لوگوں کو بلایا جاتا ہے بیانات کے نام پر گپ شپ ہوتی ہے بات چیت ہوتی ہے اور سب اُٹھ کر چلے جاتے ہیں بشری بی بی تو اس جے آئی ٹی کو کچھ سمجھتی ہی نہیں۔ جے آئی ٹی والے یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ انکے پاس ٹھوس ثبوت موجود ہیں اور پی ٹی آئی کے بلائے گئے رہنماؤں کو وہ ثبوت دکھائے بھی گئے ہیں تو پھر پیشی پر پیشی کے لئے بلانے کے بجائے ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جاتی، عدالتوں میں تاریخیں، بحث مباحثے، دلائل اور ضمانتوں میں توسیع پر توسیع اور جے آئی ٹی میں پیشی پیشی کا کھیل کب تک چلے گا اگر حکومت کے پاس بانی پی ٹی آئی اور دیگر رہنماؤں کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت اور شواہد کسی بھی کیس اور معاملے میں نہیں ہیں تو پھر بانی اور دیگر رہنماؤں کے خلاف مقدمات ختم کیوں نہیں کئے جاتے ، پھر تو یہ محض وقت گزاری ہے جس میں نقصان ملک اور دفاعی اداروں کا ہو رہا ہے جو ملکی ترقی میں رکاوٹ اور پاک فوج کی قربانیوں کی بے قدری کا باعث بنے ہوئے ہیں اور اگر ان لوگوں کے خلاف ثبوت اور شواہد ہیں تو حکومت ان کو عدالتوں سے سزائیں دلوانے میں لیت ولعل سے کیوں کام لے رہی ہے۔ جے آئی ٹی کے نام پر بلاوےاور پیشیوں کا چکر بھی اب کسی منطقی انجام کوپہنچنا چاہئے ۔ ان سب معاملات کو کسی ایک طرف کرکے خاتمہ ہونا چاہئے تاکہ کچھ توبے سکونی کم ہوجائے۔دہشت گردی میں اضافہ انتہائی قابل تشویش ہے اب اس کا خاتمہ ناگزیر ہے اور یہ صرف بیانات، اے پی سی اور نیشنل ایکشن پلانوں سے ہر گز نہیں ہوگا۔ پشاور اے پی سی کے اندوہناک سانحے کے بعد بھی یہ سب کچھ ہوا تھا ، نتیجہ کیا نکلا؟ اب پھر وہی نشستند، گفتند، برخاستند والا معاملہ ہوگا تو یہ ملک وقوم اور پاک فوج کے ساتھ مذاق ہی سمجھا جائے گا۔ اب حکومت کیلئے عسکری اداروں کے سربراہان کے ساتھ اجلاس کرنے، ٹھوس لائحہ عمل بنانے اور سخت کارروائی پر عملدرآمد کرنے کا وقت ہے۔ ملک کے اندر دہشت گردوں کے سہولت کاروں اور حمایتیوں کا قلع قمع کرنے اور دہشت گرد جہاں بھی ہوں ان کے ہینڈلرز جہاں بھی ہیں انکی سرکوبی اور خاتمہ کرنے سے ہی اس ناسور سے ملک کو چھٹکارا مل سکتا ہے۔ اس مقصد کیلئے امریکہ یاکسی سے بھی مدد لینے میں کوئی حرج یا نقصان نہیں ہے ۔ آپ اندازہ کریں کہ وزیراعلیٰ کے پی غیر قانونی افغانیوں کی ملک بدری کی حمایت و تعاون کرنے کے بجائے افغانیوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں اور کھل کر انکی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ افغانوں کو بیدخل کرنے کے بجائے ان کو پاکستانی شہریت دی جائے ۔ وزیر اعلیٰ گنڈا پور کو صوبے میں دہشت گردی کی روز بروز بڑھتی وارداتیں، بے گناہ پاکستانیوں اور سیکورٹی اداروں بشمول کے پی پولیس کی قربانیوں کی کوئی پروا نہیں۔ قوم مطالبہ کرتی ہے کہ حکومت اور ادارے فوری حرکت میں آکر پہلے ملک کے اندر دہشت گردوں کے سہولت کاروں کا خاتمہ کریں اس سے دہشت گردوں کی سرکوبی بھی آسان ہو جائے گی۔
واپس کریں