پاکستان کے خلاف القاعدہ کی نئی حکمتِ عملی: افغانستان میں ابھرتا خطرہ

(خالد خان۔خصوصی رپورٹ) تاریخ گواہ ہے کہ دہشت گردی کبھی جامد نہیں رہتی؛ یہ ہمیشہ نئے چہروں، نئی شناختوں اور مختلف نعروں کے ساتھ جنم لیتی ہے۔ ہر بار ایک نیا محاذ کھلتا ہے، ایک نیا کردار سامنے آتا ہے، اور ایک نئی تباہی جنم لیتی ہے۔ افغانستان، جو پہلے ہی انتہا پسندی کا گڑھ بن چکا ہے، اب ایک نئی خطرناک سازش کا مرکز بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ القاعدہ نے ایک بار پھر اپنی صف بندی کی ہے اور اس مرتبہ اس کا بنیادی ہدف پاکستان ہے۔ ایک تازہ ویڈیو کلپ میں، ایک نیا دہشت گرد گروہ "حرکت انقلاب اسلامی پاکستان" (IIP) منظرِ عام پر آیا ہے، جو مبینہ طور پر القاعدہ کا ایک نیا چہرہ ہے۔ یہ محض ایک اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم حکمتِ عملی کے تحت تیار کی گئی سازش ہے، جس کے پیچھے بظاہر وہی پرانے کردار اور مقاصد کارفرما ہیں، مگر اس بار انداز نیا اور چالاکی میں اضافہ ہوا ہے۔
افغانستان میں ریکارڈ کیے گئے اس کلپ میں IIP نے کھل کر پاکستان کو اپنا اولین ہدف قرار دیا ہے۔ مزید برآں، اس گروپ نے پاکستان میں پہلے سے متحرک دیگر دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ تعاون کی خواہش کا بھی اظہار کیا ہے، جو ایک سنگین اور پیچیدہ خطرے کی نشاندہی کرتا ہے۔ اگر یہ گروہ اپنے عزائم میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے استحکام کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امارتِ اسلامیہ افغانستان (IEA) کے تحریک طالبان پاکستان (TTP) سے تعلقات اور ان کی کھلی حمایت بین الاقوامی سطح پر بے نقاب ہو چکی ہے۔ ایسے میں القاعدہ کا یہ نیا سٹریٹجک اقدام ایک نئی چال دکھائی دیتا ہے، جہاں نام بدل کر پرانے مقاصد کی تکمیل کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق، افغانستان میں القاعدہ کے 50,000 سے زائد ارکان اور اتحادی موجود ہیں، جن میں سے متعدد نے گزشتہ تین برسوں میں بیرونِ ملک دہشت گرد کارروائیوں کی تربیت حاصل کی ہے۔ ان شدت پسند عناصر کو جدید ہتھیاروں، مالی وسائل اور مواصلاتی ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہے، جو انہیں مزید خطرناک بناتی ہے۔ مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ افغانستان میں القاعدہ کے آٹھ تربیتی کیمپ متحرک ہیں، جن میں سے چار کیمپ غزنی، لغمان، پروان، اور اروزگان میں واقع ہیں۔ اس کے علاوہ، پنجشیر وادی میں ایک خاص سٹریٹجک اڈہ قائم کیا گیا ہے، جو جدید ہتھیاروں اور جنگی سازوسامان کے ایک بڑے ذخیرے کے طور پر کام کر رہا ہے۔
افغان طالبان کی حکومت کے تحت، افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کو پناہ دینے کا رجحان خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، طالبان کے زیرِ سایہ 21 سے زائد دہشت گرد گروہ سرگرم ہیں، جو افغانستان کو عالمی شدت پسندی کا نیا مرکز بنا رہے ہیں۔ اس تمام صورتِ حال میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ عالمی برادری کہاں کھڑی ہے؟ کیا دنیا اس بڑھتے ہوئے خطرے کا نوٹس لے گی یا ہمیشہ کی طرح آنکھیں بند کر کے خود کو اس مسئلے سے الگ رکھے گی؟ کیا پاکستان، جو اس وقت براہِ راست اس نئی دہشت گردی کا نشانہ بننے والا ہے، اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے کوئی واضح حکمتِ عملی تیار کر چکا ہے؟
یہ وقت خاموش تماشائی بنے رہنے کا نہیں بلکہ سخت فیصلے کرنے کا ہے۔ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے انٹیلی جنس نیٹ ورک کو مزید مضبوط کرے، تاکہ اس نئے گروہ کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جا سکے۔ سفارتی سطح پر افغان طالبان پر دباؤ ڈالنا ناگزیر ہو چکا ہے تاکہ وہ اپنی سرزمین دہشت گردوں کے لیے استعمال ہونے سے روکیں۔ عالمی فورمز پر اس خطرے کو اجاگر کرنا بھی انتہائی اہم ہے تاکہ دنیا کو باور کرایا جا سکے کہ افغانستان ایک بار پھر دہشت گرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔ داخلی سلامتی کو مستحکم کرتے ہوئے، پاکستان کے اندر موجود دہشت گرد نیٹ ورکس کو بھی توڑنے کی فوری ضرورت ہے، کیونکہ اگر اندرونی محاذ کمزور رہا تو بیرونی حملوں کو روکنا مزید مشکل ہو جائے گا۔
یہ حالات ہمیں ایک تلخ حقیقت کی طرف لے جا رہے ہیں—افغانستان میں جاری دہشت گردی کا کھیل اب ایک نئی شکل میں پاکستان کی سرحدوں پر دستک دے رہا ہے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ "حرکت انقلاب اسلامی پاکستان" محض ایک نئے گروہ کی پیدائش نہیں ہوگی، بلکہ ایک ایسی جنگ کا آغاز ہوگا جس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔ کیا پاکستان اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے تیار ہے؟ کیا عالمی برادری اپنی روایتی بے حسی سے باہر آ کر اس خطرے کا سدباب کرے گی؟ یا پھر ایک اور دہائی اسی آگ میں جھلسنے میں گزر جائے گی؟ یہ سوالات آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کریں گے۔
واپس کریں