
وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ دنوں اپنی حکومت کے ایک سال مکمل ہونے پر وزیراعظم ہاؤس میں ’’یوم تعمیر و ترقی‘‘ تقریب میں یہ دعویٰ کیا کہ اُنکی حکومت نے ملک کو ڈیفالٹ سے نکالا، معیشت کو بحال کیا، اسٹاک مارکیٹ ریکارڈ ایک لاکھ18 ہزار پوائنٹس سے تجاوز کرگئی، افراط زر 38 فیصد سے کم کرکے 2 فیصد پر لے آئے، اسٹیٹ بینک کے شرح سود 22 فیصد سے کم ہوکر 12 فیصد پر آگئی، زرمبادلہ کے ذخائر 6 ارب ڈالر سے بڑھکر 16ارب ڈالر تک پہنچ گئے، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے گزشتہ سال 30 ارب ڈالر کے مقابلے میں 35ارب ڈالر کی ترسیلات زر متوقع ہیں، مخالفین کے دھرنوں کے باوجود ملکی معیشت کو ٹریک پر لے آئے، معاشی اشاریئے بہتر ہوئے، نجی شعبے کے قرضوں میں اضافہ ہوا، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 10 سال بعد 730 ملین ڈالر سے سرپلس رہا، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں سرمایہ کاری بڑھ کر 9.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، ڈالر 278روپے کی سطح پر مستحکم ہے، رواں مالی سال کے پہلے 6 مہینوں میں ملکی ایکسپورٹ 16.5ارب ڈالر اور امپورٹ 27.73ارب ڈالر رہیں جس کی وجہ سے 6مہینے کا تجارتی خسارہ 11.17ارب ڈالر رہا۔ وزیراعظم کے مطابق 2024 ء میں حکومت کا سب سے بڑا معرکہ IMF سے 7 ارب ڈالر کے 3سالہ قرض پروگرام کی منظوری تھی جس پر میں وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی ذاتی کاوشوں کو سراہتا ہوں جس میں وزیراعظم کی IMF سربراہ کرسٹینا جارجیوا سے پیرس میں ملاقات اور جنرل عاصم منیر کی چین، سعودی عرب اور UAE سے مالی امداد اور قرضوں کو رول اوور کرنیکی درخواست اہمیت رکھتی ہے۔ گزشتہ ایک سال میں GDP میں ٹیکس کی شرح 10.6 فیصد رہی، حکومت نے ملکی معیشت کو مضبوط کرنے کیلئے IMF کے مطالبے پر کئی سخت فیصلے لئے ہیں، ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن 1014ارب روپے سے تجاوز کرچکی تھی جس کے باعث ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی ڈبل پنشن ختم کردی گئی ہے یعنی اب وہ صرف ایک ادارے سے پنشن لینے کے مستحق ہونگے۔ حکومت نے گزشتہ بجٹ میں 1761ارب روپے کے اضافی ٹیکسز ، 450ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ اور صنعتی سیکٹر سے 150ارب روپے کی کراس سبسڈی ختم کی، تنخواہ دار طبقے پر گزشتہ بجٹ میں 75ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈالا گیا اور ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا ہدف رکھا گیا ہے، FBR کو رواں مالی سال 12970ارب روپے ٹیکس وصولی کا ہدف دیا گیا ہے جو گزشتہ سال سے 40فیصد زائد ہے لیکن مالی سال 2024-25ء کے پہلے 7مہینوں (جولائی سے جنوری) کے دوران FBR کو 468 ارب روپے شارٹ فال کا سامنا ہے۔ حکومت نے IPPs کیساتھ مذاکرات میں کامیابی حاصل کی ہے اور 5 آئی پی پیز کے معاہدے منسوخ جبکہ 14 آئی پی پیز کیپسٹی چارجز کے بجائے ٹیک اینڈ پے پر منتقل کردیئے گئے ہیں۔ بوگاس سے چلنے والے بجلی گھروں کے ٹیرف کو بھی کم کردیا گیا ہے، امپورٹڈ کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کو مقامی کوئلے پر مرحلہ وار منتقل کردیا جائے گا۔ ان تمام اقدامات سے حکومت کو سالانہ 1500ارب روپے کی بچت ہوگی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے گھریلو اور صنعتی بجلی صارفین کے ٹیرف میں کمی آئے گی۔ وزیراعظم نے خود اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ہمیں اپنی صنعتوں کے بجلی ٹیرف کو مقابلاتی بنانے کیلئے اسے 26روپے (9 سینٹ) فی یونٹ پر لانا ہوگا کیونکہ اس وقت ہمارا ٹیرف خطے میں مقابلاتی حریفوں سے مہنگا ہے لیکن عالمی مالیاتی اداروں آئی ایف سی، ADB، ورلڈ بینک کا حکومت پر زور ہے کہ وہ IPPs معاہدوں کی شرائط بدلنے پر زور نہ ڈالے لیکن اس صورت میں IPPs کے قرضوں کی ادائیگی متاثر ہوگی۔ پاور سیکٹر کے گردشی قرضے بڑھ کر 1250ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں۔حکومت کا بینکوں سے قرضے لے کر اسے ختم کرنے کا پروگرام ہے لیکن IMF کو اس پر تحفظات ہیں۔
وفاقی حکومت نے 5سالہ نجکاری پروگرام متعارف کرایا ہے جس کے تحت 24 حکومتی اداروں کی نجکاری کی جائیگی جس میں PIA سرفہرست ہے لیکن ایک سال گزرنے کے باوجود ابھی تک اس سلسلے میں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ حکومت کی یورپی ایئر سیفٹی ایجنسی سے PIA پر عائد پابندیوں کا خاتمہ اور یورپ کیلئے پروازوں کی بحالی قابل تحسین عمل ہے۔ SIFC پاکستان کے ریکوڈک منصوبے میں سعودی سرمایہ کاری کے معاہدے کیلئے کوشاں ہے۔ لوگ اکثر یہ سوال کرتے ہیں کہ افراط زر میں اتنی زیادہ کمی سے مہنگائی میں کمی کیوں نہیں آئی، حکومت کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال مہنگائی بڑھنے کی شرح تیز ترین تھی جس میں کمی آرہی ہے لیکن عام آدمی کی آمدنی اور قوت خرید کم ہونے کی وجہ سے اشیاء کی طلب میں کمی آئی ہے اور معیشت سکڑنے کی وجہ سے بیروزگاری میں اضافہ ہورہا ہے۔ افراط زر میں اضافہ مارکیٹ میں اشیاء کی طلب میں اضافے کو ظاہر کرتا ہے جس سے معاشی گروتھ میں تیزی آتی ہے لہٰذا افراط زر میں 95فیصد کمی اچھا شگون نہیں کیونکہ یہ لوگوں کی قوت خرید اور طلب میں کمی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک میں GDP گروتھ 5 سے 6فیصد ہونا چاہئے جبکہ ہماری موجودہ گروتھ 2.5فیصد ہے لہٰذا حکومت کو ایکسپورٹ کے ذریعے گروتھ میں اضافہ حاصل کرنا ہوگا۔
واپس کریں