دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
سراج الدین حقانی کا استعفی: نئی جنگ کا پیش خیمہ۔خالد خان
No image افغانستان سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، حقانی نیٹ ورک کے روحِ رواں اور افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، طالبان کے سربراہ ہیبت اللہ اخوندزادہ نے سراج حقانی کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے۔ باخبر حلقوں کے مطابق، طالبان قیادت کے اندرونی اختلافات اور سراج الدین حقانی کی وزارت کی ذمہ داریوں سے طویل غیر حاضری ان کے استعفے کی وجوہات میں شامل ہیں۔ کچھ عرصہ قبل جب سراج الدین حقانی سے کابل کی سیکیورٹی کی ذمہ داری اور بعض دیگر اہم امور لے لیے گئے تھے تو وہ ناراض ہو کر بیرونِ ملک چلے گئے تھے۔ تاہم، اس کی کوئی رسمی تردید یا تصدیق نہ تو ابھی تک طالبان حکومت نے کی ہے اور نہ ہی حقانی نیٹ ورک نے اس پر اظہارِ خیال کیا ہے۔ سراج الدین حقانی کے تحفظات، خوف اور ناراضگی ان کے بھائی کے قتل کے بعد زیادہ واضح ہوئے تھے۔ ان کے بھائی طالبان حکومت کے ایک متحرک اور فعال وزیر تھے، جنہیں دہشت گردی کی ایک کارروائی میں ہلاک کیا گیا تھا۔
مستعفی افغان وزیر داخلہ اور حقانی نیٹ ورک کے رہنما سراج الدین حقانی کے طالبان حکومت سے استعفیٰ کی بنیادی وجہ طالبان قیادت کے ساتھ دیگر اختلافات کے علاوہ خواتین کی تعلیم اور حکومتی پالیسیوں پر متضاد موقف تھا۔ یہ اختلافات اس وقت شدت اختیار کر گئے جب طالبان کے ایک وفد کو افغانستان فیوچر تھاٹ فورم کے لیے قطر جانے سے روکا گیا، جس کی وجہ وفد میں خواتین کی شمولیت بتائی گئی۔
سراج الدین حقانی کا استعفیٰ طالبان انتظامیہ کو درپیش چیلنجز کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے مختلف نظریات طالبان قیادت کو منقسم کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ سراج الدین حقانی مولوی ہیبت اللہ اخوندزادہ کے نائب بھی رہ چکے ہیں۔
سراج الدین حقانی، جو خلیفہ اور سراج حقانی کے نام سے بھی معروف ہیں، اعلیٰ پائے کے افغان سیاستدان اور جہادی رہنما ہیں۔ افغان انقلاب اور سوویت یونین کی افغانستان پر چڑھائی کے دوران پیدا ہونے والے سراج حقانی نے گویا افغان جہاد کے عروج میں آنکھیں کھولی تھیں۔ سراج حقانی، جو 1973 سے 1980 کے درمیانی عرصے میں پیدا ہوئے تھے، جہادی ماحول میں پلے بڑھے اور انتہائی زیرک عسکری کمانڈر سمجھے جاتے ہیں۔ سراج حقانی طالبان کے نائب امیر اور حقانی نیٹ ورک کے سربراہ رہے ہیں، جنہوں نے افغانستان میں امریکی اور اتحادی افواج کے خلاف متعدد حملوں کی منصوبہ بندی اور قیادت کی ہے۔ امریکہ نے ان کے سر کی قیمت 10 ملین ڈالر مقرر کر رکھی تھی۔
حقانی نیٹ ورک کی بنیاد افغان مجاہدین کے صفِ اول کے جہادی رہنما جلال الدین حقانی نے 1970 میں بطور جہادی اور نظریاتی تنظیم رکھی تھی، جو وقت کے ساتھ ساتھ حقانی نیٹ ورک کے نام سے معروف ہوئی۔ حقانی نیٹ ورک پاکستان کے ان وفادار عسکریت پسند تنظیموں میں شمار ہوتا ہے، جس نے اپنے وجود، تنظیم اور کارروائیوں کو افغانستان کے ساتھ جڑے ہوئے پاکستانی قبائلی علاقوں میں جاری رکھا تھا۔ بنیادی طور پر جلال الدین حقانی، انجینئر گلبدین حکمت یار اور احمد شاہ مسعود کا انتخاب ذوالفقار علی بھٹو کے دور کی اسٹیبلشمنٹ نے افغانستان کی پشتون حکومت کے خلاف استعمال کرنے کے لیے کیا تھا، جو سوویت یونین کے خلاف افغان جہاد میں بھی خوب استعمال ہوئے۔ جلال الدین حقانی ایک معروف اور مدبر جنگجو کمانڈر تھے، جنہوں نے سوویت یونین کے خلاف کارہائے نمایاں سرانجام دیے تھے۔
جلال الدین حقانی 1980ء کی دہائی میں سی آئی اے اور آئی ایس آئی کے منظورِ نظر عسکری کمانڈر تھے، جن پر نوازشات کی بارش ہوتی رہی اور مال و اسلحہ کی برسات ہوتی رہی۔ ان کی خوب مالی اور عسکری مدد کی جاتی رہی اور وہ ڈٹ کر روسی افواج کے خلاف لڑتے رہے۔ طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد، حقانی نیٹ ورک طالبان حکومت میں شامل ہوا۔
جلال الدین حقانی کی ضعیف العمری اور خرابیِ صحت کے باعث، حقانی نیٹ ورک کی قیادت ان کے صاحبزادے سراج الدین حقانی نے سنبھالی۔ سراج الدین حقانی نے نہ صرف نیٹ ورک کی عسکری صلاحیتوں کو مزید نکھارا بلکہ اس کے سیاسی اور نظریاتی تشخص کو بھی مستحکم کیا، جو ان کی عسکری اور نظریاتی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ سوویت یونین کے خلاف، امریکہ نے اپنے ہیرو جلال الدین حقانی کے نیٹ ورک کو حسبِ روایت مطلب براری کے بعد دہشت گرد نیٹ ورک قرار دے دیا، جس کی تقلید کئی دیگر طفیلی ممالک نے بھی کی۔
حقانی نیٹ ورک خاص طور پر افغانستان کے جنوب اور مشرقی علاقوں میں سب سے زیادہ منظم اور فعال جہادی نیٹ ورک ہے، جہاں اس نے امریکہ کے قائم کردہ افغان حکمرانوں، فوج، نیٹو اور امریکی افواج کے خلاف زبردست مزاحمت کی اور بھاری نقصانات پہنچائے۔ حقانی نیٹ ورک کے عسکری تربیتی مراکز پاکستان کے سابقہ قبائلی علاقوں، خصوصاً شمالی وزیرستان میں قائم تھے اور آج بھی پاکستان میں نیٹ ورک کی موجودگی تمام عسکری تنظیموں سے زیادہ اور مؤثر ہے۔
حقانی نیٹ ورک کا ہمیشہ سے القاعدہ، طالبان اور دیگر جہادی گروہوں کے ساتھ قریبی تعلق رہا ہے اور ماضی میں مختلف قوتوں کے خلاف مشترکہ کارروائیاں بھی کی گئی ہیں۔ نیٹ ورک کا القاعدہ کے ساتھ تعلق خاص طور پر مضبوط رہا ہے اور دونوں تنظیموں نے ہر موقع پر ایک دوسرے کی بھرپور مدد کی ہے۔
اقوامِ متحدہ نے اس الزام کے تحت حقانی نیٹ ورک کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے کہ یہ اب بھی افغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سرگرم ہے اور خطے میں دہشت گردی اور عسکری کارروائیوں میں ملوث سمجھا جاتا ہے۔ حقانی نیٹ ورک کی عسکری کارروائیوں نے ہمیشہ خطے کی سکیورٹی صورتحال پر گہرا اثر ڈالا ہے اور اسی سبب یہ تنظیم ہمیشہ بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنی رہی ہے۔
سراج الدین حقانی کو پشتون قوم پرست اور دانشور ایک بالکل نئے انداز اور زاویے سے دیکھتے ہیں۔ وہ انہیں پشتونوں کی سرزمین پر ایک نئی جنگ کے آغاز سے تعبیر کر رہے ہیں۔ یہ اہلِ نظر پشتون خطے میں ایک نئی خونریز لڑائی کے مراکز قندھار اور وزیرستان کو سمجھتے ہیں، جو پشتونوں کے دو بڑے قبائلی قومی گروہوں ساربانی اور کرلانی کے درمیان ایک باقاعدہ جنگ کا آغاز ہے۔
احمد شاہ ابدالی سے پہلے اور بعد میں پشتونوں نے کبھی عروج کا دور نہیں دیکھا ہے۔ جنوبی پشتونخوا، بلوچستان کے پشتون سیاسی اور عسکری طور پر کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتے۔ خیبر پشتونخوا کے پشتون قومی دھارے میں شامل ہوچکے ہیں جن کی بقا، ترقی اور خوشحالی پاکستان کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ بعض پشتون تجزیہ کار آخری مرحلے میں افغان طالبان کو پشتون قوم پرستی کی طرف آتے ہوئے دیکھ رہے تھے اور انہیں پشتون عروج کا ذریعہ سمجھ رہے تھے۔ مگر اب ان کی یہ امیدیں دم توڑ چکی ہیں۔ باور کیا جا رہا ہے کہ اندرونی اختلافات کی وجہ سے طالبان حکومت آنے والے دنوں میں بکھر سکتی ہے جو افغان خانہ جنگی کا موجب بنے گی۔ اس نئی شورش کی وجہ سے شمالی اتحاد بھی سرگرم ہو سکتی ہے جو افغانستان کے پشتون اور غیر پشتون علاقوں کی علیحدگی کا مطالبہ کر سکتی ہے۔ شاید لسانی بنیادوں پر افغانستان کی تقسیم پاکستان سمیت بین الاقوامی طاقتوں کے مفاد میں لگتی ہے۔ اگر ایسی کوئی صورتحال سامنے آتی ہے تو طالبان قندھار تک محدود ہو کر رہ جائیں گے، جن کی پھر کوئی حیثیت نہیں ہوگی۔ حقانی نیٹ ورک، جو پاکستان کا وفادار ہے، ڈیورنڈ لائن کے آر پار پشتون علاقے کے نظم و نسق کا نگران اور محافظ ہوگا۔ حقانی نیٹ ورک شمالی اتحاد اور پاکستان کے درمیان ایک بفر زون کا کردار ادا کرے گا۔ حقانی نیٹ ورک کی سابقہ قبائلی علاقہ جات، خصوصاً وزیرستان اور جنوبی اضلاع میں قوت، اٹک پار کے پاکستان کو سیکیورٹی کے ایک دوسرے لہر کی صورت میں محفوظ رکھے گی۔ افغان سرزمین پر چین اور امریکہ کی سرد جنگ کے گرم ہونے کے امکانات بدقسمتی سے بڑے واضح دکھائی دیتے ہیں۔ اس جنگ کے لپکتے شعلوں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے پاکستان کے پشتون بیلٹ میں حقانی نیٹ ورک کی اثر پذیری سیکیورٹی تزویراتی گہرائی سمجھی جا رہی ہے۔
دوسری جانب، حقانی نیٹ ورک کے ساتھ بالواسطہ یا بلاواسطہ جڑے ہوئے مذہبی رہنماؤں اور علما کی ٹارگٹ کلنگ، حقانی نیٹ ورک کو کمزور کرنے کی کوششوں کے سلسلے کو قرار دیا جا رہا ہے۔ پشتونوں کی سرزمین پر خونریزی کے بادل گہرے ہوتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ پشتون قوم پرست جماعتیں اور عوام نہ ہی تو ان حالات کا ادراک کر رہے ہیں اور نہ ہی اس کے لیے کوئی تیاری کر رہے ہیں، جو مستقبل کو مخدوش بنا رہے ہیں۔ بطور افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کا استعفیٰ کوئی معمولی بات نہیں بلکہ ایک نئی جنگ کا پیش خیمہ ہے۔
واپس کریں