دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
آبی مسائل اور ان کا حل ۔ ڈاکٹر حبیب الحق
No image یادش بخیر! محترم مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ کا تازہ ارشاد ہے کہ افغانستان سے دریائے سندھ، دریائے خرم، دریائے ٹوچی اور دریائے وومل چونکہ دریائے سندھ میں گرتے ہیں، لہٰذا سندھ کے لوگوں کا ان سب پر حق ہے۔جناب عالی! آپ اہل سندھ بالخصوص سادات کا استحقاق نہایت محدود کر رہے ہیں۔ یہ تو دریائے سندھ کی ایک شاخ کا بیان ہے، جبکہ دریائے سندھ تو 3200کلومیٹر طویل ہمالیائی اور ایشیائے کوچک کی دیومالائی بلندیوں اور سنٹرل ایشیاء، چائنا، تبت، لداخ، گلگت، خیبرپختونخوا کے دُشوار گزار راستوں اور پنجاب کے میدانوں سے گزرتا آپ کی قدم بوسی کیلئے سندھ حاضر ہوتا ہے جس کے پانی میں بہتا سونا، چاندی، دھاتیں، نمکیات، آبی حیات، کنول کے پھول سب آپ ہی کی ملکیت ہیں۔ آپ کے تازہ ارشاد کی روشنی میں ہم اقوامِ متحدہ سے بھی درخواست کریں گے کہ اس زمین، اس کے راستے پر پڑنے والے چشمے، ندی، نالے، فلورا اور فانا کو وزیراعلیٰ سندھ کے اقتدار اعلیٰ کا حصہ سمجھتے ہوئے متعلقہ ممالک پر مشتمل ایک وسیع بلاک بنایا جائے اور کسی کنونشن میں پروٹوکول تیار کیا جائے تاکہ اس حق ملکیت اور حق استعمال کیلئے مدعوئین ممالک سند جاری کر سکیں۔
وزیراعلیٰ سندھ اسمبلی کی طرف سے دریائے سندھ پر متنازعہ نہروں کی تعمیر کے خلاف قرارداد پیش کرنے کے دوران یہ گل افشانی کر رہے تھے۔ اس وقت آبی وسائل اور نہری پانی کی تقسیم کا تازہ ترین نزاع ملکی سیاسی بساط پر اقتدار کی نئی خواہشات اور چالوں کی خبروں کے پس منظر میں پھیل رہا ہے۔ یہ نزاع اس وقت پیدا نہ کیا گیا جب ان مجوزہ نہروں کیلئے سندھ کی نگران حکومت نے N.O.C جاری کیا۔ شاید آئندہ دنوں میں اقتدار میں شراکت داری کیلئے زیادہ سے زیادہ حصہ وصولی مقصود تھی۔ اب وہ مرحلہ بخوبی و اطمینان ختم ہو چکا ہے۔ مستقبل کی مزید اہم حصہ داری کے بارے موہوم خدشات اُمڈ رہے ہیں تو بزبانِ ترجمان مخصوص سیاست کی شروعات ہو گئی ہیں۔ بلاشبہ حقیقی سیاست خدمت خلق ہی کا نام ہے۔ یہ خدمت جب گروہی اور اخلاقی حقوق کیلئے وقف ہو تو سیادت بھی ہے اور سعادت بھی۔ ہمارے ہاں انتخابی عمل میں ووٹوں کا حصول مقصود ہو، یا بالعموم اقتدار کے اکھاڑے سے باہر ہو کر سیاست معکوس اختیار کر لی جاتی ہے۔ پھر سانحہ کارساز، سانحۂ بہاولپور، سانحۂ لیاقت باغ، جاگ پنجابی جاگ، سندھودیش، ساری تکلیفیں عود کر آتی ہیں۔ تیل، پانی، گیس، معدنیات، گندم، چاول کی زرعی آمدنیوں پر دعوے اور استحصال بھی یاد آ جاتے ہیں، لیکن دفعتاً اقتدار حسب خواہش حاصل ہو جائے تب پاکستان کیلئے ملکی اتحاد و سلامتی، دہشت گردی اور غربت کے خلاف مشترکہ جدوجہد کے خوشگوار نعروں کی دھنیں شروع ہو جاتی ہیں۔ دورانِ اقتدار انتخابی نعروں سے اغماض اور دورانِ محرومی عصبیتوں کی آبیاری نے قومی سیاسی جماعتوں کو علاقائی اور صوبائی سطح تک محدود کر دیا ہے، لیکن جماعتوں کی اس موقع شناسی نے عوامی مسائل کی Inventory میں اضافہ کر دیا ہے۔ بالخصوص آبی وسائل اور توانائی کے میگاپراجیکٹس کھٹائی کا شکار ہو گئے ہیں۔ ملکی وسائل کی تقسیم اور آبی توانائی کے منصوبوں پر طوفان برپا کرنے کی بجائے متعلقہ ماہرین کی متفقہ رائے حاصل کر لی جائے تو اہل سیاست اور منصوبہ سازوں کیلئے فیصلے آسان ہو جائیں۔ نئی نہروں کی تعمیر سے پیدا ہونے والا نیا تنازع ماضی میں ڈیموں کی تعمیر سے متعلق بحران سے مشابہ ہے۔
تب روزنامہ ’’جنگ‘‘ نے اپنی قومی ذمہ داریوں کا ادراک کرتے ہوئے آبی ماہرین سمیت تمام فریقین کو بحث مباحثہ کا موقع فراہم کیا۔ ہم نے بھی اپنی نوخیز انجینئرنگ کے زعم میں روزنامہ ’’جنگ‘‘ کے انہیں صفحات پر تکنیکی مسائل پر اظہارِ خیال کیا۔ جون 1987ء میں شائع ہونے والے اپنے ایک کالم میں بھاشاڈیم اور کالاباغ ڈیم کا تقابلی جائزہ اور دلائل پیش کرتے ہوئے سفارشات کیں کہ فوری مسائل کے حل کیلئے بھاشا کی بجائے کالا باغ ڈیم کی تعمیر شروع کی جائے، البتہ بھاشا ڈیم کو دوسری فوقیت دے دی جائے۔ افسوس کہ اس وقت کے وزیر اعظم نے جمہور ماہرین کی رائے کے برعکس 1998ء میں بھاشا ڈیم کا سنگ بنیاد رکھ دیا اور یوں کالاباغ ڈیم کے منصوبہ کو اپنی ترجیحات سے نکالتے ہوئے سیاسی بساط کی مدد سے وفاقی حکومت کو بزعم خویش مستحکم کر دیا۔ یوں یہ منصوبہ سیاست کی نذر ہو گیا اور اقتدار کی مصلحتوں تلے دب گیا۔ ہم نے بھاشاڈیم کی تکمیل بارے 1987ء میں جن خدشات کا اظہار کیا تھا وہ درست ثابت ہوئے اور آج تعمیراتی سرگرمیاں شروع ہوئے 28سال گزرنے کے باوجود تازہ ترین سرکاری رپورٹ کے مطابق بھاشا ڈیم کا محض 15فیصد کا ممکمل ہوا ہے۔
اب سیاست کی کوکھ سے ستم گر نیا بحران پید اکرنے کے دَرپے ہیں، حالانکہ حقیقت پسندی سے نئی نہروں کا قضیہ بھی ختم ہو سکتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ اس میں سیاسی مصلحت کوشی اور پس پردہ مقاصد کارفرما نہ ہوں۔
ہم نے گزشتہ کالم میں صراحت سے بیان کیا تھا کہ کس طرح پوری مخلوق مفاداتی حصاروں پر مشتمل ہے اور جن میں موجود جاندار اور بے جان کس طرح ایک دوسرے پر انحصار کرتے دائروں میں بندھے ہیں اور ضروریات کا سامان کرتے ہیں۔ Ecology کی اس دنیا میں تبدیلیاں بھی ہوتی ہیں اور اصلاحات بھی۔ چولستان کی مردہ اکالوجی کو زندہ کرنے کیلئے جہاں خوابیدہ زمینوں کی اصلاح کی ضرورت ہے وہاں ان کی آبیاری کیلئے نہری نظام کی بھی اہمیت ہے۔ اگر ایسا ہو جائے تو صحرائے چولستان کو گل و گلزار کیا جا سکتا ہے اور یہاں سے زرعی اور ماحولیاتی لیکن انقلابی Ecology کو پروان چڑھایا جا سکتا ہے۔ صحرائے چولستان کی اس ماحولیاتی Adaptation کے ماڈل کو صوبہ سندھ کی زرعی اور ماحولیاتی بہتری کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ صوبہ سندھ کی زرعی اور ماحولیاتی حیات اور Ecology انحطاط کا شکار ہے اور ازکاررفتہ اور فرسودہ ہو چکی ہے۔ صوبہ سندھ کی یہ قدیم Ecology کے اجزائے ترکیبی دریائے سندھ کے دونوں اطراف لاکھوں ایکڑ اراضی Swamps اور Wet Lands کے زیراثر بے فیض ہو چکی ہے، جس میں آبی پرندوں اور حیات کمیاب ہو چکی ہیں۔ بیشتر زمینوں پر بااثر زمینداروں کا قبضہ ہے، محض علاقائی دھاک کیلئے۔ جبکہ اس کثیر زرخیز پٹی سے زرعی پیداوار کا حصہ قابل ذکر نہیں ہے۔ اگر ہم ان فارغ زمینوں کو دیرینہ استحصال کا شکار ہاریوں میں پیداواری سرگرمیوں کیلئےتقسیم کر دیں اور آبیاری کیلئے نہروں کا جال بچھا دیں تو نہ صرف صوبے کی زرعی اور ماحولیاتی اکالوجی میں خوشگوار انقلاب برپا ہو جائے گا، بلکہ قومی فلاحی منصوبوں کی تکمیل میں حائل جاگیردانہ سوچ کا خاتمہ ہو جائے گا اور یوں دریائے سندھ کی جدید اکالوجی زرعی انقلاب کا باعث بن جائے گی۔
واپس کریں