
مہنگے وسائل سے پیدا کی جانے والی بجلی کی قیمتیںہوشربا طور پربڑھنے سے صارفین پر جو مالی بوجھ پڑا،اس کے پیش نظر ملک میں شمسی توانائی کے استعمال کے رجحان میں غیرمعمولی اضافی ہوا ہےاور لوگ سولر پینل لگانے لگے ہیں۔اس کے نتیجے میں سولر پینلز لگانے والوں کی تعداد دسمبر2024میں 2لاکھ82ہزار ہوگئی،جو اسی سال اکتوبر میں سوادولاکھ سے کچھ زیادہ تھی۔یوں سولر بجلی کی پیداوار 4ہزار میگاواٹ سے بڑھ گئی،جو 2021میں صرف 321میگاواٹ تھی۔اس طرح سولر صارفین کی جانب سے گرڈ صارفین پر 159ارب روپے کا مالی بوجھ منتقل ہوگیا۔اس صورتحال کے پیش نظر وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے نیٹ میٹرنگ کے تحت سولر صارفین سے خریدی جانے والی بجلی کی قیمت کم کردی ہے۔گرڈ صارفین کو ریلیف دینے کیلئے اب سولر صارفین سے بجلی 27روپے کی بجائے دس روپے فی یونٹ خریدی جائے گی۔
تاہم اس فیصلے کا اطلاق نئے سولرپینل لگانے والوں پر ہوگا،موجودہ صارفین اس سے متاثر نہیں ہوں گے۔شمسی توانائی کا استعمال بڑھنے سے گرڈ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جسے حکومت کنٹرول کرنا چاہتی ہے۔مگر سولر پینل لگانے کے رجحان میں اضافے سے اس کو مشکل پیش آرہی ہے۔اس لیے اس نے نئے سولرصارفین سےبجلی خریدنے کی قیمت کم کردی ہے۔جس سےسستی بجلی پیدا کرنے والوں کی حوصلہ شکنی ہوگی۔حکومت کو چاہئے کہ تیل اورگیس کےمہنگے استعمال پر انحصار کم کرے اور سورج،ہوا اور دوسرے سستے طریقوں کو فروغ دے۔توانائی کے بحران کا یہی حل ملک کیلئے سود مند ہوگا۔حکومت کو معاملے کے اس پہلو پر غوروخوض کرنا چاہئے۔واضح رہے کہ اس سے قبل سولر پینلز کی قیمتوں میںاضافےاور بجلی کے بلوں میںشامل ٹیکسوں میں ردوبدل بھی سولر آلات کی مارکیٹ پر اثرانداز ہوا تھا۔اس سے متعلق پالیسی سال بھر کی ہونی چاہئے۔
واپس کریں