دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پہاڑی زبان کو آزاد کشمیر کے تعلیمی نصاب میں شامل کرنے کا مطالبہ
No image (راولاکوٹ۔ آصف اشرف) صدر آزادکشمیر اور وزیراعظم آزاد کشمیر کی منہ بولی "پہاڑی زبان" آزاد کشمیر کے تعلیمی نصاب میں شامل نہ کرنے لاکھوں پہاڑئیے "ناراض" گوجر ی زبان کی شمولیت کا خیر مقدم اکثریتی علاقوں میں بولی جانے والی کثیر ترین ابادی کی زبان کو بھی فوری نصاب میں شامل کیا جائے مطالبہ۔
آزاد کشمیر کے تمام اضلاع میں سب سے زیادہ پہاڑی زبان بولی جا رہی ہے برطانیہ میں پانچ لاکھ افراد پہاڑی زبان بولتے ہیں گوجری دوسرے اور کشمیری تیسرے نمبر پر ہے آزاد کشمیر میں اختیاری طور گوجری زبان نصاب میں شامل کر دی گئی ہے اور جلد کشمیر ی زبان بھی شامل ہوگی مگر سب سے زیادہ بولی جانے والی پہاڑی زبان نظر انداز کر دی گئی بھارتی مقبوضہ کشمیر میں پہاڑی زبان میں قرآن مجید کا ترجمہ بھی کیا گیا پہاڑی پر ریسرچ کی جا رہی ہے مگر میرپور کوٹلی پونچھ باغ اور مظفرآباد کے اکثریتی علاقوں میں بولی جانے والی پہاڑی زبان کو نصاب میں شامل نہ کرنے سخت اشتعال پیدا ہوگیا ہے جلد اعلی حکام سے مل کر پہاڑی زبان کو بھی نصاب کا حصہ بنانے زمہ داری پوری کرنے اور بصورت دیگر کشمیر سے جموں اور یورپ تک اس مطالبہ کو ششدت سے سامنے لانے کی صف بندی شروع ہے۔
آزاد کشمیر کے صدر بیرسٹرسلطان پہاڑی زبان بولنے والے سب سے اہم ترین فرد ہیں جو نجی گفتگو پہاڑی زبان میں کرتے ہیں وزیراعظم آزاد کشمیر انوار الحق سابق صدور ریاست راجہ ذوالقرنین یعقوب خان سابق وزرائے اعظم چودھری مجید راجہ فاروق حیدر عتیق خان عبدالقیوم نیازی تنویر الیاس اور جموں کشمیر پیپلز پارٹی کے صدر حسن ابراہیم کی مادری زبان بھی پہاڑی ہے مگر کسی ایک "ریاست گیر"سیاست کار کو "توفیق"نہیں ہو رہی کہ اپنے باپ دادا کی زبان کو جو نہ آزاد کشمیر کی سب سے بڑی زبان ہے بلکہ جموں راجوری پونچھ اور نیپال راجھستان تک بولی جا رہی ہے اس کو بھی آزاد کشمیر میں نصاب کا حصہ بنوایا جا سکے۔
واپس کریں