
مقبوضہ کشمیر کو ہڑپ کرنے کے یک طرفہ اقدامات پر پاکستان نے ایک بار پھر اپنے سخت جوابی پیغام میں واضح کیا ہے کہ انڈیا بے بنیاد دعوے کرنے کے بجائے 77سال سے قابض کشمیر خالی کرے۔ترجمان دفتر خارجہ کا ہفتہ وار بریفنگ میں کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق تنازع جموں و کشمیر کا پر امن حل جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کے لیے ناگزیر ہے۔بھارتی آئین کے تحت کوئی بھی انتخابی مشق حق خودارادیت دینے کے متبادل کے طور پر کام نہیں کر سکتی۔اسی طرح کشمیری عوام کی دہائیوں پرانی شکایات کو بندوق کے زور پر معاشی سرگرمیوں کے ذریعے دور نہیں کیا جا سکتا۔وہ بھارتی وزیر خارجہ کے ان ریمارکس پر ردعمل دے رہے تھے جس میں جے شنکر نے آرٹیکل 370ہٹانے کے اقدام کو اچھا کام قرار دیتے ہوئے اسے مقبوضہ کشمیر میں ترقی،اقتصادی سرگرمیوں اور سماجی انصاف کی بحالی کا مرحلہ قرار دیا تھا اور مسئلہ کشمیر پر امریکی ثالثی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات پہلے ہی کر لیے ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیر خارجہ نے زمینی حقائق کو غلط انداز میں پیش کیا اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی کیونکہ جموں و کشمیر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے۔بھارتی وزیر خارجہ کے ریمارکس اس مایوسی اور بوکھلاہٹ کی نشاندہی کرتے ہیں جس کا سامنا انہیں لندن میں سکھوں کے مظاہرے اور سلامتی کونسل کی خلاف ورزی پر مبنی 19اگست 2019کے اقدام اور ظالمانہ فوجی محاصرے کے باوجود کشمیری عوام کا استصواب رائے کے مطالبے پر ڈٹے رہنے کے باعث کرنا پڑا۔خطے میں پائیدار امن کا قیام مسئلہ کشمیر کے حل سے وابستہ ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تنازع کی حتمی حیثیت یو این کے زیر اہتمام آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے کیا جانا ہے۔
واپس کریں