
(خالد خان کی خصوصی تحریر) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بلاشبہ ایک محسنِ انسانیت، عالمی راہنما ہیں، جنہوں نے سرمایہ داری نظام کے منحوس چہرے سے جھوٹی انسانیت، جمہوریت اور اعلیٰ اقدار کا نقاب نوچ کر پھینک دیا۔ روزِ اوّل سے ایک انسان نے دوسرے انسان کے استحصال کے لیے مختلف ہتھکنڈے اپنائے ہیں، جو مذہب سے لے کر قومیت، بشری حقوق اور جمہوریت کے ڈھکوسلے تک محیط رہے ہیں۔ ان تمام پردوں میں چھپے ہوئے اصل طبقاتی سوال اور سیاست کو کچلے ہوئے عوام سے پوشیدہ رکھنے کی کوشش کی گئی۔
استحصال کا یہ مذموم سلسلہ صرف سرمایہ دارانہ نظام کے داعی قوتوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس میں مارکسسٹ، سوشلسٹ اور ماؤسٹ ریاستوں اور ان نظریات کے علمبرداروں نے بھی حصہ بقدرِ جثہ ڈال دیا۔ بادشاہت، خلافت، جمہوریت، آمریت اور لبرلزم کے لبادے اوڑھے ہوئے اشرافیہ کی یہی کوشش رہی کہ عوامی محکومیت اور غلامی کو طول دیا جائے۔ اشرافیہ نے عوامی اور سماجی استحصال کے لیے ریاستی قوتوں کو خوب استعمال کیا اور تمام تر قانون سازی غلامی کو برقرار رکھنے کے لیے کی گئی۔ ریاستوں نے اپنے مذہبی، صحافتی اور قلمی دستے تیار کروا کر سرمایہ دارانہ مذہبی توجیحات، ثقافتی اقدار اور سماجی ہیروز تشکیل دیے اور یوں دنیا کو اپنی مرضی سے ہانکتے رہے۔
اس بیچ اگر کہیں سے شعور بیدار کرنے کے لیے اِکا دُکا آوازیں اٹھیں بھی تو ان گلوں کو بے دردی کے ساتھ گھونٹا گیا۔ کچھ اس کمالِ فن کے ساتھ عوامی ذہن سازی کی گئی کہ عوام کے احساس سے غلامی کے تصور تک کو چھین لیا گیا اور انہی اہلِ نظر کو ان کے سامنے دشمن بنا کر پیش کیا گیا، جو درحقیقت ان کے نجات دہندہ تھے۔ عوام الناس کو مذاہب، مسالک، لسانیت، صوبائیت اور قومیت میں تقسیم در تقسیم کیا گیا۔ ان منقسم لوگوں کے ہاتھوں میں جمہوریت، انسانی حقوق، شخصی آزادی اور مختلف سیاسی نظریات کی گُڈّگُڈّیاں دے کر انہیں ایک دوسرے کے خلاف کر دیا گیا۔ یہ تصور عام لوگوں کے اذہان میں اتارا گیا کہ ریاست آدمی سے معتبر اور متبرک ہوتی ہے اور حب الوطنی وہ جذبہ ہے جو دنیا و آخرت میں سب سے اعلیٰ و ارفع وصف ہے۔
اللہ بھلا کرے امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا، جنہوں نے جھوٹ کے سارے بُت توڑ دیے اور ڈنکے کی چوٹ پر کہا کہ دنیا میں مادہ پرستی کے علاوہ کوئی دوسرا فلسفہ وجود ہی نہیں رکھتا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ دنیا کو کسی عالمی راہنما کی نہیں بلکہ عالمی ڈیل میکر کی ضرورت ہے اور وہ بہترین ڈیل میکر ہیں۔ جھوٹ اور بناوٹ کے ملمع میں لپٹی ہوئی چالوں کو، جنہیں سفارت کاری کہا جاتا تھا، یوکرین کے صدر کو لات مارتے ہوئے بے نقاب کر دیا۔ دنیا میں کوئی اخلاق، کوئی سفارت اور کوئی وعدہ نہیں، اگر ہے تو صرف اور صرف مفادات۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان اقدامات نے دنیا میں نئی مفاداتی صف بندیوں کا تیز رفتار آغاز کر دیا ہے، جس میں روایتی دشمن، دوست بننے والے ہیں اور دیرینہ دوست، دشمن بننے والے ہیں، جو سرمایہ دارانہ نظام کو مزید برہنہ کر دے گا۔
اس ظالمانہ نظام سے روایتی سیاست کے ذریعے گلو خلاصی کے امکانات نظر نہیں آ رہے ہیں، کیونکہ جدید مواصلاتی اور نشریاتی نظاموں اور سہولیات کے ذریعے مظلوموں کی منفی ذہن سازیاں کی گئی ہیں اور یہ گھناؤنا عمل ہنوز جاری ہے۔ اگر کوئی امید باندھی جا سکتی ہے تو وہ عالمی نوجوان طبقے سے ہے کہ وہ آنے والے وقتوں میں انسانیت اور طبقات کے نظریے پر متحد ہو کر کسی عالمی انقلاب کو برپا کرے، جس میں مختلف ممالک طبقاتی آزادی حاصل کرتے ہوئے ایک نیا سماج تشکیل دیں۔ اگر ایسی کوئی صورتحال بنتی بھی ہے تو اس سے صرف وہ ممالک اور اقوام بہرہ ور ہوں گے جن کے نوجوانوں نے اس تبدیلی کے لیے قومی ذہن سازی کی ہوئی ہو۔
سردست صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ احسانِ عظیم بھی بہت ہے کہ انہوں نے سب کچھ برہنہ کرکے رکھ دیا۔ البتہ، اس انکشاف کے بعد اصل سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا دنیا اس حقیقت کو قبول کر کے کوئی عملی قدم اٹھائے گی، یا ہمیشہ کی طرح کسی نئے چہرے کو نظام کے داغ چھپانے کے لیے منتخب کر لے گی؟ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ایسے لمحات میں یا تو کوئی حقیقی تبدیلی آتی ہے، یا پھر پرانا استحصالی نظام ایک نئے چہرے، نئے نعرے اور نئی حکمتِ عملی کے ساتھ اپنا تسلط برقرار رکھتا ہے۔ دنیا کے بیدار ذہنوں، خصوصاً نوجوانوں، کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ صرف حقیقت کا مشاہدہ کریں گے یا اسے بدلنے کی کوشش بھی کریں گے۔
واپس کریں