دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
دارالعلوم حقانیہ: دہشت گردی کا گول چکر
No image (خالد خان ۔خصوصی رپورٹ)اکوڑہ خٹک میں واقع دارالعلوم حقانیہ پاکستان اور خطے کی ایک تاریخی اور متنازعہ دینی درسگاہ رہی ہے۔ اسے طالبان کی "جامعہ" بھی کہا جاتا رہا ہے، کیونکہ یہاں سے فارغ التحصیل طلبہ نے افغانستان اور پاکستان کے مذہبی و سیاسی منظرنامے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس مدرسے کے بانی شیخ الحدیث مولانا عبد الحق تھے، جنہوں نے 1947 میں پاکستان کے قیام کے فوراً بعد اس کا سنگِ بنیاد رکھا۔

یہ ادارہ عالمی سطح پر اس وقت مزید مشہور ہوا جب مولانا سمیع الحق کو "بابائے طالبان" کہا جانے لگا۔ 2018 میں اسلام آباد میں ان کے پُراسرار قتل کے بعد ان کے بیٹے مولانا حامد الحق ان کے جانشین بنے۔ 28 فروری 2025 کو مدرسے میں ایک خودکش حملہ ہوا، جس میں مولانا حامد الحق سمیت چھ افراد جاں بحق ہوئے۔ اس حملے کے بعد کئی سوالات نے جنم لیا کہ آیا یہ اندرونی اختلافات کا نتیجہ تھا، داعش کی کارروائی تھی یا اس کے پیچھے کوئی اور محرکات کارفرما تھے۔
یہ مدرسہ افغان جہاد کے دوران بھی ایک اہم مرکز رہا، جہاں سے مولوی جلال الدین حقانی، مولوی یونس خالص اور مولانا محمد نبی محمدی جیسے افغان رہنما دینی تعلیم حاصل کر کے سوویت یونین کے خلاف لڑائی میں نمایاں کردار ادا کرتے رہے۔ اسی تعلق کی بنا پر اس مدرسے کو حقانی نیٹ ورک سے جوڑا جاتا رہا، جو بعد میں امریکی اور افغان حکومتوں کے لیے ایک چیلنج بن گیا۔
پاکستانی ریاستی اداروں کے ساتھ اس مدرسے کے تعلقات ہمیشہ پیچیدہ رہے۔ مختلف حکومتوں نے بعض اوقات اس سے مدد طلب کی اور بعض اوقات اس کے خلاف کارروائیاں بھی ہوئیں۔ جب ملک میں شدت پسندی میں اضافہ ہوا تو حکومت نے مولانا سمیع الحق سے عسکری گروہوں کو ریاست کے خلاف کارروائیاں ترک کرنے پر قائل کرنے کے لیے کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔ اس مدرسے نے متعدد بار خودکش حملوں کے خلاف فتوے بھی جاری کیے اور پولیو ویکسینیشن جیسے معاملات میں مثبت کردار ادا کیا۔
2025 کے حملے کی ذمہ داری کسی گروہ نے قبول نہیں کی، تاہم تجزیہ کار اسے طالبان کے اندرونی اختلافات سے جوڑ رہے ہیں۔ 2024 میں کابل میں حقانی نیٹ ورک کے رہنما اور وفاقی وزیر خلیل حقانی پر بھی حملہ ہوا تھا، جس کے بعد سراج الدین حقانی کو ملک چھوڑنا پڑا۔ بعض مبصرین اس حملے کو داعش کی کارروائی قرار دے رہے ہیں، کیونکہ یہ تنظیم پاکستان اور افغانستان میں مذہبی رہنماؤں کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔
دارالعلوم حقانیہ کو حالیہ برسوں میں مالی بحران کا بھی سامنا رہا اور چندہ مہم چلائی گئی۔ ماضی میں خیبر پختونخوا حکومت نے اس مدرسے کو مالی گرانٹس دی تھیں، جس پر اپوزیشن جماعتوں نے تنقید کی۔ اب سوال یہ ہے کہ مولانا حامد الحق کے بعد اس ادارے کی قیادت کون سنبھالے گا، اور کیا یہ تاریخی درسگاہ اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھ سکے گی؟
اگر غیر جانبدارانہ طور پر دیکھا جائے تو دارالعلوم حقانیہ دیوبند کے بعد دوسرا بڑا مذہبی ادارہ ہے، جس نے اسلامی علوم کی ترویج اور اسلامی طرزِ معاشرت کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ خطے میں اسلام کی اہمیت بڑھتی گئی، اور پاکستان کے تناظر میں مدارس سیاسی حکمرانی، عسکری برتری، قوموں کو جوڑے رکھنے اور امتِ مسلمہ کو متحد کرنے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت اختیار کر گئے۔ دارالعلوم حقانیہ وہ واحد درسگاہ ہے جس سے فارغ التحصیل ہونے والے طالبان فخریہ طور پر اپنے نام کے ساتھ "حقانی" کا لاحقہ لگاتے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے مدارس میں سے 99 فیصد کے روحِ رواں دارالعلوم حقانیہ کے فارغ التحصیل علماء ہیں، جو اس ادارے کو سرچشمہ کی حیثیت دیتے ہیں۔ اس مدرسے سے جاری ہونے والے فتوے اور ہدایات کو تمام مدارس اپنے لیے واجب العمل سمجھتے ہیں۔
اگر تاریخی، سائنسی اور غیر جانبدارانہ تجزیہ کیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ سوویت یونین کے خلاف افغان جنگ دارالعلوم حقانیہ کے بغیر نہیں جیتی جا سکتی تھی۔ اس جہاد کے لیے سپہ سالار اور مجاہدین اسی مدرسے نے فراہم کیے تھے۔ امریکہ اور نیٹو کے افغانستان پر حملے کے بعد بھی دارالعلوم حقانیہ نے جہادی ذمہ داری نبھائی۔ فرق صرف یہ تھا کہ روس کے خلاف جہاد اعلانیہ تھا، کیونکہ اسے امریکہ اور مغرب کی سرپرستی حاصل تھی، جبکہ امریکہ اور نیٹو کے خلاف جہاد گوریلا کارروائیوں تک محدود رہا، جس کی سرپرستی ان افغان طالبان رہنماؤں نے کی جو دارالعلوم حقانیہ سے فارغ التحصیل تھے اور تاحال اس سے قریبی تعلق رکھتے تھے۔
پاکستانی ریاست کے لیے افغان طالبان سے تعلقات بہتر بنانے یا اندرونِ ملک برسرِ پیکار طالبان سے مذاکرات اور تصفیے کی کوششوں میں دارالعلوم حقانیہ ہمیشہ سہولت کار اور معاون رہا ہے۔ یہ ادارہ اسلامی تعلیمات اور حب الوطنی کو ساتھ لے کر چل رہا تھا اور آئندہ بھی خطے میں امن و استحکام کے لیے اس کا کردار واضح نظر آ رہا تھا۔ 28 فروری 2025 کے خودکش حملے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے وہی طاقتیں ہیں جو خطے میں قیامِ امن کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا چاہتی ہیں۔ یہ ممکنہ طور پر ان گروہوں کی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے جو پاکستان اور افغان طالبان کی قربت کے مخالف ہیں اور دونوں کے درمیان پُل کو منہدم کرنا چاہتے ہیں۔
ملک دشمن عناصر ایک منصوبے کے تحت مدارس اور ان کے طلبہ کو ریاست کے خلاف برسرِ پیکار کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ دارالعلوم حقانیہ کے قائدین نے اس نازک موقع پر بھی ملک میں امن قائم رکھنے کے لیے مثبت پیغام دیا، جس پر عمل بھی ہوا، جو کہ قابلِ تحسین ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اس دلخراش سانحے کی فوری اور شفاف تحقیقات کرے اور اصل مجرموں کی نشاندہی، گرفتاری اور سزا کو یقینی بنائے تاکہ ملک دشمن قوتیں اپنے عزائم میں ناکام رہیں۔
واپس کریں