
پائیدار ترقی کی ضامن مستحکم معاشی حکمت عملی اپنانے میں پچھلے ادوار حکومت میں جس غیر ذمے داری سے کام لیا گیا، حکمراں طبقے قرض پر قرض لے کر جس بے دردی سے اپنے شاہانہ اخراجات پورے کرتے رہے، موجودہ حکومت اس کا کفارہ ادا کرتے ہوئے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی ہدایات کے مطابق سخت معاشی اصلاحات کے ذریعے سے قومی معیشت کو پائیدارترقی کی راہ پر ڈالنے کیلئے کوشاں ہے۔ اس حوالے سے آئی ایم ایف سے تین سال کی مدت پر مبنی سات ارب ڈالر مالیت کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کا حصول حکومت کی ایک بڑی کامیابی ہے جس کا پہلا جائزہ لینے کیلئے آئی ایم ایف کا 9رکنی مشن پندرہ روزہ دورے پر تین مارچ کو پاکستان پہنچے گا۔ جائزے کے پہلے مرحلے میں تکنیکی پہلوؤں پراور دوسرے مرحلے میں پالیسی سطح پر مذاکرات ہوں گے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری کا جائزہ لیا جائے گا۔آئی ایم ایف کی ٹیم وزارت خزانہ، وزارت توانائی، پلاننگ کمیشن، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی اور نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی سمیت متعدد سرکاری اداروں کے ذمے داروںسے ملاقاتیں کرے گی۔چاروں صوبوں کے نمائندوں سے الگ الگ بات چیت بھی ہوگی۔ذرائع کے مطابق تنخواہ دار طبقے کو جس ریلیف کی امید حکومت کی جانب سے دلائی جارہی ہے وہ آئی ایم ایف کی رضا مندی سے مشروط ہوگا۔ تاہم حکومت کی معاشی ٹیم کیلئے آئی ایم ایف کو تنخواہ دار طبقے کے ساتھ عشروں سے جاری نا انصافی کے ازالے کی ضرورت پر قائل کرنا مشکل نہیں ہونا چاہیے اور ان طبقات سے وصولی کا مؤثر بندوبست کرکے جن کا بھاری آمدنی کے باوجود انکم ٹیکس میں کوئی حصہ نہیں، تنخواہ دار طبقے کو زیادہ سے زیادہ سہولت مہیا کی جانی چاہیے جو صرف اس لیے دوسروں کے حصے کی ادائیگی بھی کرتا چلا آرہا ہے کہ وزرات خزانہ کیلئے ایک آسان ہدف ہے۔
واپس کریں