
لاہور( نامہ نگار)ڈائریکٹراقبال اکیڈمی، حکومت پاکستان ڈاکٹرعبدالرؤف رفیقی نے کہا ہے کہ کشمیرکاز ایک نظریہ ہے جس کی ترویج و اشاعت ایک فرض کادرجہ رکھتی ہے۔علامہ اقبال کے کلام سے آزادی کی تحریک کے لیے رہنمائی کا کام لیاجاسکتا ہے۔وہ گذشتہ روز انچارج کشمیرسنٹرلاہور جموں وکشمیرلبریشن سیل انعام الحسن کاشمیری سے گفتگو کررہے تھے۔ انچارج کشمیرسنٹرلاہور انعام الحسن نے جموں وکشمیرلبریشن سیل کا تعارف اور کارکردگی بارے ڈائریکٹراقبال اکیڈمی ڈاکٹرعبدالرؤف رفیقی کوتفصیلی آگاہ کیا۔ڈاکٹرعبدالرؤف رفیقی نے کہا کہ کشمیرپاکستان کی شہہ رگ ہے۔
نوجوانوں کو مسئلہ کشمیر کی تاریخ اور تحریک آزادی کشمیر کی موجودہ صورت حال سے آگاہ کرنا وقت کا اہم تقاضا ہے۔علامہ اقبال کا کلام آزادی کے متوالوں، حریت پسندوں میں نئی تڑپ اور نئی امنگ پیدا کرتا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ جموں وکشمیرلبریشن سیل ایک قومی ادارہ ہے جس کی اہمیت و افادیت مسلم ہے۔ ادارے کی سرگرمیوں کا احاطہ مزید وسیع کرتے ہوئے پورے ملک میں پھیلائے جانے کی ضرورت ہے۔جموں وکشمیرلبریشن سیل کے ساتھ مفاہمتی یادداشت عمل میں لاتے ہوئے کشمیرکاز کواجاگرکرنے کے سلسلہ میں مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کریں گے۔
اقبال اکادمی کے زیراہتمام طالب علموں کو کشمیرکاز کے مختلف پہلوؤں اور موضوعات کے تحت علمی تحقیقی کام کروایاجائے گا۔انھوں نے کہا کہ کشمیرکی آزادی کے لیے ضروری ہے کہ ہم تمام تر علاقائی، صوبائی، لسانی، فکری اور مذہبی تعصبات سے بالاتر ہوکر اتحاد ویگانگت کی لڑی میں پروتے ہوئے آواز بلند کریں۔مضبوط ومستحکم پاکستان مقبوضہ جموں وکشمیر کی آزادی کی ضمانت ہے۔ٍجامعات میں مسئلہ کشمیر کے تناظر میں ریسرچ ورک بروئے کارلاکر نئے علمی گوشوں کو سامنے لایاجائے۔
بیرون ملک پاکستانی سفارتخانوں میں مقبوضہ جموں وکشمیر بارے لٹریچر فراہم کیاجائے تاکہ سفراء کو اس مسئلے کی اہمیت کا ادراک ہو اور وہ بہترطور پر کشمیرکاز کے لیے اپنے فرائض منصبی سرانجام دے سکیں۔پاکستان میں موجود غیرملکی سفیروں کو مسئلہ کشمیر بارے وقتاً فوقتاً بریفنگ دینے کے ساتھ ساتھ انھیں تحقیقی مواد بھی مہیا کیاجائے تاکہ وہ اس مسئلے کی حساسیت بارے آگاہ ہوسکیں۔گرلز گائیڈ ایسوسی ایشن اور بوائز سکاؤٹس ایسوسی ایشن کے ساتھ مفاہمتی یادداشت عمل میں لاتے ہوئے مسئلہ کشمیر کواجاگرکرنے کے سلسلہ میں مشترکہ کام بڑی اہمیت کا حامل ہوسکتا ہے۔
اقبال اکادمی حکومت پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس کے پہلے ڈائریکٹرڈاکٹررفیع الدین کا تعلق کشمیر سے تھا۔ ڈاکٹررفیع الدین 1953ء تا1965اکادمی کے ڈائریکٹررہے۔اقبال اکادمی حکومت پاکستان کی طرف سے رواں برس 21اپریل کو اقبال صدارتی ایوارڈ آزادکشمیر (میرپور) سے تعلق رکھنے والے ایک کشمیری پروفیسر ڈاکٹرعارف خان کوان کی مطبوعہ کتاب ”کمال اقبال“ پر عطا کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ڈاکٹرعبدالرؤف رفیقی نے بتایا کہ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں نے حکومت پاکستان کی جانب سے 1999ء میں یوم تکبیر کے موقع پر پہلا کشمیرگولڈ میڈل حاصل کیا۔ یہ گولڈ میڈل کشمیر کے حوالے سے علمی و ادبی کام کرنے کی بنیاد پر عطا کیا گیا۔
واپس کریں