دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پاکستان میں آبی بحران اور ماحولیاتی تبدیلی۔تحریر،خالد خان
No image پاکستان میں پانی کی قلت ایک گھمبیر مسئلہ بنتی جا رہی ہے، جس کی بنیادی وجوہات میں موسمیاتی تبدیلیاں، آبادی میں تیز رفتار اضافہ، اور آبی وسائل کا غیر محتاط استعمال شامل ہیں۔ ہمارے دو بڑے آبی ذخائر، منگلا اور تربیلا ڈیم، خطرناک حد تک کم پانی کے ذخیرے پر پہنچ چکے ہیں۔ منگلا میں موجودہ پانی کا ذخیرہ صرف 0.77 ملین ایکڑ فٹ (10.66 فیصد) جبکہ تربیلا میں 0.92 ملین ایکڑ فٹ (16 فیصد) رہ گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگر پانی کی آمد اور اخراج کی یہی صورت حال برقرار رہی تو منگلا آئندہ 12 دنوں میں جبکہ تربیلا 15 دنوں میں مکمل طور پر خالی ہو سکتا ہے۔
حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، منگلا ڈیم میں پانی کی آمد 4,200 کیوسک اور اخراج 35,000 کیوسک ہے، جبکہ تربیلا ڈیم میں پانی کی آمد 15,500 کیوسک اور اخراج 45,000 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ عدم توازن اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ ملک کے آبی وسائل خطرناک حد تک کم ہو رہے ہیں۔
یہ بحران صرف پاکستان تک محدود نہیں، بلکہ دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث پانی کے ذخائر متاثر ہو رہے ہیں۔ کیپ ٹاؤن، جنوبی افریقہ، 2018 میں ایک شدید پانی کی قلت کے دہانے پر تھا، جہاں "ڈے زیرو" یعنی پانی کے مکمل خاتمے کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔ بھارت میں بھی کئی ریاستیں، جیسے چنئی، پانی کی قلت سے دوچار رہی ہیں۔ عالمی ادارے خبردار کر چکے ہیں کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ دہائیوں میں دنیا کے کئی خطے شدید آبی بحران کا سامنا کریں گے۔
پاکستان میں پانی کی قلت کی بڑی وجوہات میں بارشوں میں کمی، گلیشیئرز کے پگھلنے کی غیر متوازن شرح، اور زیر زمین پانی کے بے دریغ استعمال شامل ہیں۔ اسلام آباد کے اہم ذخائر، سملی اور خانپور ڈیم، پہلے ہی خشک ہو چکے ہیں۔ شہری علاقوں میں پانی کے ضیاع کی روک تھام کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجیز، جیسے پانی کی ری سائیکلنگ اور بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے منصوبے، اختیار کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
ماحولیاتی تبدیلی کے باعث پانی کی قلت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی درجہ حرارت میں اضافے سے برفانی گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، جو ہمارے دریاؤں کے پانی کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ پاکستان میں دریائے سندھ کا انحصار 80 فیصد تک گلیشیئرز کے پانی پر ہے، مگر سائنس دانوں کے مطابق، اگر یہی رجحان جاری رہا تو آئندہ چند دہائیوں میں ہمارے دریا خشک ہونے کا خطرہ ہے۔
مزید برآں، ملک میں پانی کے غیر ضروری استعمال، ناقص پالیسیوں، اور آبپاشی کے پرانے اور غیر مؤثر نظام کی وجہ سے بھی پانی کی قلت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان کی زراعت کا دار و مدار زیادہ تر روایتی نہری نظام پر ہے، جہاں پانی کا غیر مؤثر استعمال بڑے پیمانے پر ضیاع کا سبب بنتا ہے۔ جدید ڈرپ اور اسپرنکلر آبپاشی نظام کو متعارف کروا کر اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے، مگر اس کے نفاذ میں سست روی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
حکومت، ماہرین اور عوام کو مل کر پانی کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ جدید آبپاشی کے طریقے، پانی کے غیر ضروری استعمال کو روکنے کے قوانین، اور آبی ذخائر کی بہتری کے لیے بڑے منصوبے وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ سنگاپور جیسے ممالک نے پانی کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور مؤثر پالیسیوں کو اپنایا ہے، جس سے پاکستان بھی سیکھ سکتا ہے۔
اس کے علاوہ، ملک میں پانی کے ذخائر بڑھانے کے لیے مزید ڈیموں کی تعمیر کی اشد ضرورت ہے۔ کالا باغ ڈیم جیسے منصوبے سیاسی تنازعات کا شکار ہیں، جبکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے ڈیمز کی تعمیر میں بھی سست روی دیکھی جا رہی ہے۔ اگر پاکستان اپنے پانی کے ذخائر میں اضافہ نہیں کرتا تو آنے والے سالوں میں شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ وقت عمل کا ہے، کیونکہ پانی کی قلت صرف ایک ملک یا خطے کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کے مستقبل سے جڑا ہے۔ پانی ایک انمول نعمت ہے، اور اس کے تحفظ کے بغیر ترقی و خوشحالی کا خواب ادھورا رہے گا۔ ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ پانی کے استعمال میں محتاط رویہ اپنائے اور اس بیش بہا وسائل کی حفاظت میں اپنا کردار ادا کرے۔
واپس کریں