دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
مادری زبانوں کا عالمی دن اور دانشورانہ جگالی
No image (رپورٹ ،خالد خان)۔ہر سال 21 فروری کو دنیا بھر میں مادری زبانوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد زبانوں کی اہمیت کو اجاگر کرنا، لسانی اور ثقافتی تنوع کو فروغ دینا اور ان زبانوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دینا ہے جو معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسکو نے 1999 میں اس دن کو منانے کا اعلان کیا، اور 2000 سے یہ دن باقاعدہ طور پر دنیا بھر میں منایا جا رہا ہے۔
مادری زبان کسی بھی قوم کی پہچان، تہذیب اور ثقافت کا اہم جزو ہوتی ہے۔ یہ فرد کی ابتدائی شناخت کا ذریعہ بنتی ہے اور اس کی ذہنی، سماجی اور تعلیمی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ بچے اپنی مادری زبان میں بہتر سیکھتے اور اظہارِ خیال کرتے ہیں، جس سے ان کی تعلیمی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
دنیا میں ہزاروں زبانیں بولی جاتی ہیں، لیکن گلوبلائزیشن اور جدیدیت کے سبب کئی زبانیں معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق، ہر دو ہفتے میں ایک زبان معدوم ہو رہی ہے، جس سے نہ صرف ایک زبان بلکہ اس سے جڑی ثقافت اور تاریخ بھی ختم ہو جاتی ہے۔
زبانوں کے تحفظ کے لیے تعلیمی اداروں میں مادری زبانوں کو فروغ دینا، ان میں ادبی تخلیقات کو بڑھاوا دینا اور انٹرنیٹ و سوشل میڈیا پر ان کی موجودگی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ حکومتوں اور سماجی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ ایسے اقدامات کریں جو مقامی زبانوں کو محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہوں۔
مادری زبانوں کے عالمی دن کا پیغام واضح ہے کہ زبانوں کا تحفظ، ثقافتوں کی بقا ہے۔ ہمیں اپنی زبانوں کو فروغ دینے اور ان کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ لسانی تنوع برقرار رہے اور آنے والی نسلیں اپنی تہذیب و ثقافت سے جڑی رہیں۔
عالمی زبانوں کے دن کے تناظر میں زیر نظر تحریر میں پشتو زبان کے حوالے سے ایک جداگانہ نظر پیش کی جا رہی ہے۔ مندرجہ بالا تحریر جو آپ نے پڑھی، یہ ان روایتی تقریروں اور سرکاری بیانات کے اقتباسات پر مبنی تھی، جنہیں ہم ہر سال پڑھتے، دیکھتے اور سنتے ہیں۔ یہ وہ دانشورانہ جگالی ہے، جسے صاحب الرائے شخصیات کرتے رہتے ہیں۔ آئیے اس روایتی نظریے سے ہٹ کر زبانوں کے عروج و زوال اور فنا و بقا کا جائزہ لیتے ہیں۔
زبان ابلاغ کا وہ آسان اور مجرب ذریعہ ہے جو بنیادی طور پر صوتی اثرات سے وجود میں آیا ہے۔ مختلف چیزوں کی حرکت سے پیدا ہونے والی آوازوں اور جانداروں کے حلق سے نکلنے والی لایعنی آوازوں کو اس کے صوتی اثرات کے زیر اثر الفاظ میں ڈھالا گیا اور یوں زبانیں وجود میں آگئیں۔ دنیا کی تمام زبانوں نے ایک دوسرے سے مستعار الفاظ لیے ہیں اور اسی سبب عالمی زبانوں میں اشتراکیت کثرت سے پائی جاتی ہے۔ زبانوں میں مادری زبان کی اہمیت سب سے زیادہ ہوتی ہے، کیونکہ یہ نسل در نسل علوم و فنون کو منتقل کرنے کا فطری اور آسان ذریعہ ہے۔ دنیا میں صرف وہ ممالک ترقی کر چکے ہیں جنہوں نے مادری زبانوں میں اپنی اقوام کی تعلیم و تربیت کی، انہیں علوم و فنون سکھائے۔ غلام اقوام اپنی مادری زبانوں کو کمتر درجے کا سمجھتے ہوئے اغیار کی زبانوں میں بچوں کی تعلیم و تربیت کرتے ہیں، جس سے ڈگری یافتہ افراد تو پیدا ہوتے ہیں، مگر تعلیم یافتہ قومیں کبھی بھی نہیں بنتیں۔ غلامانہ ذہنیت کے زیر اثر حکومتیں بجائے اپنی مادری اور قومی زبانوں کے، امورِ سلطنت اغیار کی زبانوں میں چلاتی ہیں، جس سے سارا نظام بجائے ترقی کرنے کے، زبان دانی کے گول چکر میں ہانپتا کانپتا رہتا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق، پاکستان میں تقریباً 32 زبانیں بولی جاتی ہیں، جن کی اکثریت شمالی علاقہ جات میں پائی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں قوانین اور علوم و فنون سے کم آگاہی کی بنیادی وجہ یہی اغیار کی زبانیں ہیں۔ کتنا اچھا ہوتا کہ اردو کو بجائے قومی زبان کا درجہ دینے کے، رابطے کی زبان بنایا جاتا اور پاکستان بھر میں بولی جانے والی تمام زبانوں کو قومی زبانوں کی حیثیت دی جاتی۔
پشتو زبان کے فروغ کے حوالے سے کبھی بھی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔ پشتون قوم پرست جماعتوں، جن کی یہ اولین ذمہ داری بنتی تھی، انہوں نے بھی پشتو زبان کی صرف زبانی کلامی خدمت کی۔ کتنی حیرت کی اور کتنی فطری بات ہے کہ کسی بھی کام کو نہ کرنے کو ہماری ثقافتوں میں "زبانی کلامی" خدمت کہا جاتا ہے۔ یہی سب کچھ ہم نے پشتو زبان اور دیگر قومی زبانوں کے ساتھ بھی کیا۔
پاکستان کے پہلے متفقہ آئین (1973) کے نفاذ کے وقت وزیرِاعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کی پیشکش اور آئینی اجازت کے باوجود خان عبدالولی خان نے بجائے پشتو کے، اردو زبان کو صوبہ سرحد کے لیے سرکاری زبان قرار دیا۔ وہ جماعت اور راہنما، جن کی ذمہ داری پشتو زبان کی پاسداری، تحفظ اور ترقی تھی، انہوں نے موقع ملنے کے باوجود اس کے خلاف کیا۔ سندھ نے البتہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سندھی کو صوبہ سندھ میں سرکاری زبان قرار دیا۔ سندھ کے طول و عرض میں نہ ہی تو سندھی زبان کے علاوہ کسی دوسری زبان میں سرکاری و نجی سائن بورڈ اور وال چاکنگ نظر آئے گی اور نہ ہی سرکار میں سندھی کے بجائے کسی اور زبان میں سرکاری امور نمٹاتے ہوئے نظر آئیں گے۔ بعض مخصوص اضلاع میں سندھی کے ساتھ ساتھ اردو زبان کو بھی سرکاری زبان کے درجے میں شامل کیا گیا ہے، مگر راج سندھی زبان کا ہے۔
مادری زبانوں اور خصوصاً پشتو زبان پر پاکستان پیپلز پارٹی کے احسان کے علاوہ پشتونوں پر اس جماعت کا ایک دوسرا بڑا احسان صوبے کا نام صوبہ سرحد سے خیبر پختونخوا میں تبدیل کرنے کا اقدام ہے۔ اگر غیر جانبدارانہ بات کی جائے، تو پاکستان پیپلز پارٹی، جو قوم پرست جماعت نہیں ہے، نے قومیتوں کے لیے وہ گراں قدر کام کیے ہیں جو دراصل قوم پرستوں کی ذمہ داری تھی، اور انہوں نے بجائے یہ ذمہ داری نبھانے کے، بھونڈی جوازیں تراشیں۔
ولی خان نے چٹان رسالہ کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ آئینی موقع اور ذوالفقار علی بھٹو کی فراخ دلانہ پیشکش کے باوجود ہم نے صوبے میں پشتو کی بجائے اردو کو سرکاری زبان قبول کر کے اپنایا تاکہ ہم اپنے اوپر لگے ہوئے پاکستان مخالفت کے داغ کو دھو سکیں۔
پختونخوا بھر میں آپ کو کوئی سرکاری یا نجی سائن بورڈ، پبلسٹی میٹریل اور دکانوں کے بورڈز پشتو میں نظر نہیں آئیں گے۔ پشتون اپنے آپ کو معزز ثابت کرنے کے لیے گھروں میں بچوں کے ساتھ اردو میں گفتگو کرتے ہیں، اور قدرے ایلیٹ کلاس انگریزی کو ترجیح دیتی ہے۔
زبان کبھی بھی نغمات اور شاعری کے ذریعے ترقی نہیں پاتی۔ قوم اور زبان نثر کے ذریعے بڑھتی ہیں، اور نثر تعلیم یافتہ اقوام کی نشانی ہوتی ہے۔ آج کے دور میں وہی زبان ترقی کرے گی جو معیشت، سائنس، ٹیکنالوجی اور علوم و فنون کی زبان ہوگی۔ ہر وہ زبان معدوم ہو جائے گی جو صرف صارفین کی زبان ہوگی۔ اگر ہم پاکستان کی قومی زبانوں کو فروغ دینا چاہتے ہیں، تو ہمیں انہیں معیشت، سائنس، ٹیکنالوجی اور علوم و فنون کی زبانیں بنانا ہوگا، فنون لطیفہ کی نہیں۔
واپس کریں