دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پاکستان کی مہلک گٹھ جوڑ: منشیات، جرائم اور دہشت گردی
No image تحریر: خالد خان ۔پاکستان کی منشیات کے خلاف جنگ ایک طویل اور کٹھن سفر ہے، جسے اس کی جغرافیائی حیثیت، سماجی و اقتصادی کمزوریاں اور ادارہ جاتی ناکامیاں مزید پیچیدہ بناتی ہیں۔ کئی دہائیوں سے یہ ملک منشیات کی غیر قانونی سمگلنگ کے لیے ایک مرکزی گزرگاہ بنا ہوا ہے، اور اس کی بنیادی وجہ افغانستان کی قربت ہے، جو دنیا کی تقریباً 85 فیصد افیون پیدا کرتا ہے۔ 1980 کی دہائی میں افغان جنگ نے منشیات کی تجارت کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کیا، جہاں اس ناجائز کاروبار سے حاصل شدہ رقوم مختلف مسلح گروہوں کی مالی معاونت کے لیے استعمال ہوئیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ غیر قانونی نیٹ ورکس ایک منظم اور پیچیدہ صنعت کی صورت اختیار کر گئے، جو نہ صرف سمگلنگ کے راستوں پر حاوی ہو گئے بلکہ مقامی منڈیوں میں بھی اپنی جڑیں مضبوط کر لیں، جہاں منشیات کی لت ایک سنگین بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
جو مسئلہ کبھی صرف سرحد پار سمگلنگ تک محدود تھا، وہ اب ملکی سطح پر تباہ کن صورتحال اختیار کر چکا ہے۔ پاکستان میں منشیات کا کاروبار ایک منظم نیٹ ورک کے ذریعے چلایا جاتا ہے، جس میں کاشت، تیاری، تقسیم اور بین الاقوامی سطح پر سمگلنگ جیسے تمام پہلو شامل ہیں۔ ہیروئن، چرس، مصنوعی منشیات اور افیونی مرکبات مقامی منڈی میں عام ہیں، جبکہ آئس (کرسٹل میتھ) ایک انتہائی منافع بخش نشہ آور مادہ بن چکا ہے۔ افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے والے سمگلنگ کے راستے بلوچستان اور خیبر پختونخوا سے گزرتے ہوئے ملک کے بڑے شہروں جیسے کراچی، لاہور اور اسلام آباد تک پہنچتے ہیں، جہاں سے یہ منشیات عالمی منڈیوں میں بھیجی جاتی ہیں۔ اندازہ ہے کہ پاکستان میں منشیات کا کاروبار سالانہ اربوں ڈالر کی مالیت رکھتا ہے، جس میں قیمتیں طلب اور رسد کے مطابق بدلتی رہتی ہیں۔ مقامی سطح پر ہیروئن کا فی کلو نرخ 2,000 سے 5,000 امریکی ڈالر کے درمیان ہوتا ہے، جبکہ آئس کی قیمت اس سے بھی زیادہ ہے۔ چرس برآمدی مارکیٹ میں خاصی مقبول ہے، جبکہ کوکین، اگرچہ نسبتاً کم عام ہے، لیکن اشرافیہ کے حلقوں میں اس کی مانگ بہت زیادہ ہے اور اس کی قیمت بھی غیر معمولی حد تک بلند ہوتی ہے۔
منشیات کی صنعت میں منظم جرائم پیشہ گروہوں اور عسکریت پسند تنظیموں کی شمولیت نے اس مسئلے کو مزید گمبھیر بنا دیا ہے۔ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی دہشت گردی اور بغاوت کو ایندھن فراہم کرتی ہے، جس کے باعث یہ مسئلہ صرف ایک قانونی معاملہ نہیں بلکہ قومی سلامتی کا سنگین خطرہ بھی بن چکا ہے۔ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق منشیات سے حاصل شدہ رقم براہ راست انتہا پسندانہ کارروائیوں میں استعمال ہوتی ہے۔ اگرچہ انسداد منشیات فورس اور وفاقی تحقیقاتی ادارے بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرتے ہیں، لیکن اصل نیٹ ورک کا محض ایک معمولی حصہ ہی پکڑا جاتا ہے۔ کرپشن، قانونی سقم اور وسائل کی کمی جیسے عوامل اس کاروبار کو مزید پنپنے کا موقع دیتے ہیں۔ اکثر اوقات درمیانے درجے کے سمگلروں کو گرفتار کیا جاتا ہے، جبکہ اس مافیا کے اصل سرغنہ اپنے وسیع اثر و رسوخ کے باعث ناقابلِ گرفت رہتے ہیں۔
منشیات کی سمگلنگ سے بڑھ کر، اس کا داخلی استعمال بھی ایک شدید بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ پاکستان میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد سات ملین سے تجاوز کر چکی ہے، جن میں نوجوانوں کا تناسب خطرناک حد تک زیادہ ہے۔ یونیورسٹیوں اور شہری مراکز میں آئس سمیت دیگر مصنوعی منشیات کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ نشے کی تباہ کاریوں کے باوجود، علاج و بحالی کے مراکز کی شدید کمی اور سماجی بدنامی کے خوف کی وجہ سے متاثرہ افراد مدد حاصل کرنے سے کتراتے ہیں۔ تعلیمی اداروں اور عوامی مقامات پر مؤثر نگرانی نہ ہونے کے سبب منشیات فروش بلا خوف و خطر اپنے دھندے کو وسعت دے رہے ہیں۔ اس بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث نہ صرف لاکھوں زندگیاں تباہ ہو رہی ہیں بلکہ یہ صحت کے نظام پر بوجھ، جرائم کی شرح میں اضافے اور معاشرتی تانے بانے کے ٹوٹنے کا بھی سبب بن رہی ہے۔
اس بحران سے نمٹنے کے لیے ایک جامع اور مربوط حکمت عملی ناگزیر ہے۔ سرحدی نگرانی کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنا، سخت قانونی اصلاحات متعارف کروا کر منشیات فروشوں کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائیاں یقینی بنانا، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اندر بدعنوانی کے خاتمے کو اولین ترجیح دینا ضروری ہے۔ منشیات کی سپلائی لائن کو توڑنے کے لیے افغانستان اور ایران کے ساتھ خفیہ معلومات کے تبادلے اور علاقائی سطح پر تعاون کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ دوسری جانب، طلب میں کمی کے لیے بھی سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔ بڑے پیمانے پر بحالی مراکز قائم کرنے، ملک گیر آگاہی مہمات چلانے اور کمیونٹی سطح پر منشیات کے خلاف اقدامات کو فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ سرحدی علاقوں میں اقتصادی ترقی کے مواقع فراہم کرنا بھی ضروری ہے تاکہ وہ لوگ جو منشیات کی کاشت اور سمگلنگ میں ملوث ہیں، متبادل معاشی ذرائع اختیار کر سکیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں میں شفافیت اور احتساب کے لیے ایک خودمختار نگران نظام بھی قائم کیا جانا چاہیے۔
اگر اس مسئلے کے حل کے لیے فیصلہ کن اور مستقل مزاجی کے ساتھ اقدامات نہ کیے گئے تو منشیات کا کاروبار نہ صرف پاکستان کے سماجی و اقتصادی ڈھانچے کو کھوکھلا کر دے گا بلکہ ملکی سلامتی کے لیے بھی ایک مستقل خطرہ بنا رہے گا۔ یہ جنگ محض قانون نافذ کرنے کی نہیں، بلکہ ایک پوری نسل کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی جنگ ہے۔ پاکستان ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے، اور اس بحران کا جواب طے کرے گا کہ آیا یہ ملک منشیات کی دلدل میں پھنسا رہے گا یا ایک صحت مند، مستحکم اور محفوظ معاشرے کی راہ پر گامزن ہوگا۔
واپس کریں