کرم میں زندگی دشوار، صوبائی حکومت لاچار ، فوج حرکت میں آنے کو تیار

پشاور : ( خصوصی رپورٹ خالد خان) کرم میں بدامنی کی شدت میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا ہے، اور حالات بے قابو ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ دہشتگردوں کے خلاف کارروائی میں ناکامی، حکومتی بے حسی اور سیکیورٹی اداروں پر بڑھتے ہوئے انحصار نے علاقے کو بدترین تشدد کی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ حالیہ حملوں میں سیکورٹی اہلکاروں سمیت متعدد افراد شہید اور زخمی ہوچکے ہیں، جبکہ اغوا کی وارداتیں بھی سامنے آئی ہیں۔ صورتحال اس قدر تشویشناک ہوچکی ہے کہ حکومت نے بالآخر شدت پسندوں کے خلاف بڑے آپریشن کی تیاری کرلی ہے، جبکہ چودہ مطلوب دہشتگردوں کے سروں کی قیمت مقرر کرنے کا بھی اعلان کردیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، کرم کے شورش زدہ علاقوں میں فوجی کارروائی کے لیے بڑے پیمانے پر حکمت عملی ترتیب دی جا رہی ہے۔ بگن، مندوری، ڈڈکمر، اور اوچت کے علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف بھرپور آپریشن متوقع ہے، اور مقامی آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ مقامی شدت پسندوں کو سرکاری سطح پر دہشتگرد قرار دے کر ان کے سروں کی قیمت مقرر کی گئی ہے۔ حکومت کی جاری کردہ فہرست کے مطابق، دہشتگرد کاظم کے سر کی قیمت تین کروڑ روپے رکھی گئی ہے، جبکہ دیگر تیرہ شدت پسندوں کے لیے دس لاکھ سے ایک کروڑ روپے تک انعام مقرر کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اطلاع فراہم کرنے والوں کے نام صیغہ راز میں رکھے جائیں گے۔
گزشتہ روز وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں چیف سیکرٹری اور اعلیٰ سول و عسکری حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کرم میں سیکیورٹی بڑھانے کے لیے 400 نئے اہلکار بھرتی کیے جائیں گے، تاہم ماضی میں بھی ایسے اعلانات کیے جا چکے ہیں، جن پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ صوبائی حکومت اپنی رٹ قائم کرنے میں مکمل ناکام ہوچکی ہے، اور تمام تر سیکیورٹی معاملات فوج کے سپرد کر دیے گئے ہیں۔
دریں اثنا، فوج نے جنوبی وزیرستان کے علاقے سراروغہ میں ایک بڑی کارروائی کے دوران دو درجن سے زائد دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔ دیگر حساس علاقوں میں بھی فوج مسلسل آپریشن کر رہی ہے، مگر صوبائی انتظامیہ کی عدم دلچسپی اور ناقص حکمرانی کی وجہ سے حالات مزید بگڑ رہے ہیں۔ آج صورتحال یہ ہے کہ صرف کرم ہی نہیں بلکہ پورے قبائلی اضلاع اور جنوبی خیبرپختونخوا کے بیشتر علاقے بدامنی کی لپیٹ میں آچکے ہیں۔ دہشتگردوں کی سرگرمیوں میں تیزی کے بعد جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو بھی تھریٹ الرٹ جاری کیا گیا ہے، جبکہ دیگر سیاسی رہنماؤں کو بھی نقل و حرکت میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو روایتی طریقوں سے ہٹ کر سخت اور غیر معمولی اقدامات اٹھانے ہوں گے، ورنہ صورتحال مزید سنگین ہوجائے گی۔ کرم میں جاری کشیدگی نہ صرف صوبائی حکومت بلکہ ریاست کی مجموعی ساکھ پر بھی سوالیہ نشان بن چکی ہے، اور اگر فوری طور پر سخت اقدامات نہ کیے گئے تو امن و امان کی یہ جنگ مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
واپس کریں