دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی ناکام تعلیمی پالیسیاں: مدارس کے فروغ اور انتہا پسندی کے بڑھتے سائے
No image تحریر: خالد خان ۔خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دور حکومت میں تعلیمی نظام کی تباہی نے ایک ایسا خلا پیدا کر دیا جسے مدارس نے تیزی سے پُر کر لیا، نتیجتاً مذہبی انتہا پسندی کو فروغ حاصل ہوا۔ یہ ناکامی خاص طور پر ضم شدہ قبائلی اضلاع، بالخصوص جنوبی وزیرستان میں نمایاں ہے، جہاں سینکڑوں بچے اپنے بنیادی تعلیمی حق سے محروم ہیں۔ سرکاری سکولوں کی اکثریت زبوں حالی کا شکار ہے، مستقل مالی بحران، اساتذہ کی غیر حاضری اور حکام کی بے حسی نے نظام کو مکمل مفلوج کر دیا ہے۔ اس بگڑتی ہوئی صورتِ حال نے عوام کا سرکاری اداروں پر سے اعتماد ختم کر دیا، جس کے باعث والدین اپنے بچوں کو مدارس میں بھیجنے پر مجبور ہو گئے— ایسے مدارس جو اکثر شدت پسندی کے مراکز میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔
مقامی ذرائع تصدیق کرتے ہیں کہ کئی سرکاری سکول محض کاغذوں میں موجود ہیں، جبکہ کچھ سکولوں کی عمارتیں تو موجود ہیں مگر وہاں تدریسی عمل نہیں ہوتا۔ بعض علاقوں میں اساتذہ سرکاری تنخواہیں تو وصول کر رہے ہیں، مگر کلاس روم میں نظر نہیں آتے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ خود سرکاری افسران اور اساتذہ بھی اپنے بچوں کو ان ناکام سکولوں میں داخل کرانے سے کتراتے ہیں اور نجی تعلیمی اداروں کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ کھلا تضاد اس تعلیمی بحران کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے، جہاں معاشی استطاعت رکھنے والے والدین معیاری تعلیم حاصل کر سکتے ہیں، جبکہ غریب بچے محروم رہ جاتے ہیں۔
نجی سکول اگرچہ نسبتاً بہتر تعلیمی سہولیات فراہم کرتے ہیں، مگر ان کی بھاری فیسیں اور دیگر اخراجات عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں۔ نتیجتاً، زیادہ تر والدین یا تو غیر فعال سرکاری سکولوں پر اکتفا کرتے ہیں یا مدارس کا رخ کرتے ہیں۔ تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ ضم شدہ اضلاع میں سرکاری سکولوں کو پرائیویٹ سیکٹر کے تعاون سے بحال کیا جا سکتا ہے، تاکہ تعلیمی معیار بہتر ہو اور وسائل کا مؤثر استعمال ممکن بنایا جا سکے۔
یہ مسئلہ صرف جنوبی وزیرستان تک محدود نہیں، بلکہ تمام ضم شدہ اضلاع میں تعلیمی شعبہ زبوں حالی کا شکار ہے۔ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں خیبر پختونخوا کا تعلیمی نظام زوال پذیر رہا، جس کی بنیادی وجوہات میں ناکافی سرمایہ کاری، اصلاحات کا فقدان، اور جعلی سکولوں اور اساتذہ کی بھرمار شامل ہیں۔ اس کمزوری کے نتیجے میں مدارس تیزی سے پھیلے، جہاں نہ صرف تعلیمی خلا کو پُر کیا گیا بلکہ ہزاروں بچوں کو سخت گیر نظریات کا حامل بنایا گیا۔ یہ مدارس غریب خاندانوں کے لیے خوراک، رہائش اور بنیادی تعلیم کا ذریعہ بنے، مگر ساتھ ہی انتہا پسند تنظیموں کی نرسری بھی ثابت ہوئے، جہاں معصوم ذہنوں کو شدت پسندی کی راہ پر ڈال دیا جاتا ہے۔
یونیسف کی ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں تقریباً دو کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں، جن میں سے ایک بڑی تعداد سابقہ قبائلی علاقوں سے تعلق رکھتی ہے۔ جنوبی وزیرستان جیسے پسماندہ اضلاع میں تعلیمی اداروں کی شدید قلت، تربیت یافتہ اساتذہ کی کمی، اور پرانا نصاب سنگین مسائل پیدا کر رہے ہیں۔ یہ محض تعلیمی ناکامی نہیں بلکہ ایک ایسا بحران ہے جو قومی سلامتی پر براہ راست اثر انداز ہو رہا ہے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ محض فوجی آپریشنز سے نہیں جیتی جا سکتی، بلکہ اس کے لیے تعلیمی نظام میں انقلابی تبدیلیاں ناگزیر ہیں۔ نہ صرف سکولوں کو فعال بنانا ضروری ہے بلکہ نصاب کو بھی جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا، تاکہ تنقیدی سوچ، سائنسی علوم اور برداشت کو فروغ ملے۔ موجودہ نصاب میں تاحال فرسودہ اور رجعت پسندانہ مواد شامل ہے، جو بچوں کو جدید دنیا سے ہم آہنگ کرنے میں ناکام ہے۔ اس کے علاوہ، اساتذہ کی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دینا ہوگی، کیونکہ بہترین نصاب بھی اگر غیر تربیت یافتہ اساتذہ کے ہاتھ میں ہو تو بیکار ثابت ہوتا ہے۔
تعلیمی زوال صرف تباہ حال سکولوں یا غائب اساتذہ کی کہانی نہیں، بلکہ یہ ایک پوری نسل کے مستقبل کا مسئلہ ہے۔ اگر حکومت نے فوری تعلیمی ایمرجنسی نافذ نہ کی اور تعلیمی نظام کی بحالی کے لیے ٹھوس اقدامات نہ اٹھائے، تو یہ بحران مزید شدت اختیار کرے گا۔ انتہا پسندی کے خلاف اصل جنگ میدانِ جنگ میں نہیں، بلکہ کلاس روم میں لڑی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کے رہنما اس حقیقت کو وقت رہتے سمجھ سکیں گے؟
واپس کریں