پاکستان کی چھپی ہوئی دولت: معدنی وسائل اور قومی خوشحالی کی جدوجہد

خالد خان ۔پاکستان، وہ سرزمین جسے قدرت نے بے پناہ وسائل سے نوازا ہے، لیکن اس کے باسی آج بھی غربت کی چکی میں پس رہے ہیں۔ قدرت کے عطا کردہ خزانوں سے فائدہ اٹھانے کے بجائے، یہ دولت ایک مخصوص طبقے کی تجوریوں میں قید ہے۔
ان ہی وسائل میں سب سے نمایاں بلوچستان کے ریکوڈک کے وہ ذخائر ہیں، جہاں سونے اور تانبے کی بے بہا دولت دفن ہے۔ اندازہ ہے کہ یہاں اکیس ملین اونس سونا موجود ہے، جس کی موجودہ عالمی قیمت تقریباً پچاس ارب ڈالر بنتی ہے، اگر سونے کی قیمت فی اونس 2367 ڈالر مقرر کی جائے۔ اسی مقام پر تقریباً ایک سو بیالیس ارب ڈالر مالیت کا تانبا بھی دفن ہے، جس کی قیمت فی اونس 9.464 ڈالر کے حساب سے لگائی گئی ہے۔ یہ خزانہ پاکستان کی تقدیر بدل سکتا تھا، لیکن بدعنوانی اور قانونی پیچیدگیوں نے اسے عوامی فلاح کے لیے استعمال ہونے نہیں دیا۔
یہاں سے پیداوار کا آغاز 2028 تک متوقع ہے، کیونکہ سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ دوسری طرف، دریائے سندھ، خاص طور پر اٹک کے مقام پر، 2.8 ملین تولہ سونا موجود ہے، جس کی مالیت تقریباً چھ سو سے سات سو ارب روپے بنتی ہے۔ یہ خزانہ بتیس کلومیٹر کے علاقے میں پھیلا ہوا ہے، مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ یہاں غیر قانونی کان کنی کی اطلاعات تو موجود تھیں، لیکن حکومت نے اس دولت کو نکالنے کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔ جب بھارتی میڈیا نے اس ذخیرے کا ذکر کیا، تب جا کر حکام کی آنکھ کھلی، اور غیر قانونی کان کنی پر دفعہ 144 نافذ کر دی گئی۔ اب پنجاب حکومت نے اس خزانے کی نیلامی کے لیے ایک کمیٹی قائم کر دی ہے، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اس دولت کا اصل فائدہ عوام کو کب اور کیسے پہنچے گا۔
امریکی ادارے "یو ایس انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن" (EIA) کے مطابق، پاکستان میں 353,500,000 بیرل ثابت شدہ تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ 2017 کے ایک سروے کے مطابق، ملک میں انیس کھرب مکعب فٹ گیس کے ذخائر تھے، جو وقت کے ساتھ مزید بڑھ چکے ہیں۔ اسی طرح، EIA کے مطابق، پاکستان میں 105 کھرب مکعب فٹ قدرتی گیس کے ذخائر موجود ہیں، جن میں شیل گیس بھی شامل ہے۔
2024 میں کئی دوست ممالک کے ساتھ کیے گئے مشترکہ مطالعات سے یہ معلوم ہوا ہے کہ پاکستان میں تیل اور گیس کے بے پناہ ذخائر موجود ہیں، جو ملک کو "بلیو واٹر اکانومی" کی طرف لے جا سکتے ہیں۔ تاہم، ان وسائل کے موثر استعمال اور نیلامی میں مزید کئی سال لگ سکتے ہیں۔
یہ ذخائر اب دنیا کے چوتھے بڑے ذخائر سمجھے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، پاکستان میں کرومائیٹ کے اربوں روپے مالیت کے ذخائر بھی موجود ہیں، جو مسلم باغ، بیلہ، زوب، درگئی ججل، ڈیرہ اسماعیل خان، اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پائے جاتے ہیں۔ کرومائیٹ، جو سٹین لیس سٹیل، پینٹ، اور کیمیکلز کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے، ایک قیمتی دھات ہے۔
پاکستان کو قدرت نے 65 ملین میٹرک ٹن چٹانی نمک کے ذخائر سے بھی نوازا ہے۔ ایک جائزے کے مطابق، جہلم، میانوالی، کالا باغ، کوہاٹ، اور کھیوڑہ کی کانوں میں تقریباً 22 ملین ٹن نمک موجود ہے، جو تین سے ساڑھے تین کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق، نمک کی تین اقسام ہیں: سفید، گلابی، اور سرخ۔ گلابی نمک پوری دنیا میں صرف پاکستان میں پایا جاتا ہے، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اسے بھارتی لیبل کے ساتھ عالمی مارکیٹ میں فروخت کیا جاتا ہے۔ بھارت، اسے انتہائی کم قیمت پر خرید کر، مہنگے داموں دنیا بھر میں فروخت کرتا ہے۔
پاکستان کے صحرائے تھر میں دنیا کے ساتویں بڑے کوئلے کے ذخائر ہیں، جن کا اندازہ 186 ارب ٹن لگایا گیا ہے۔ کوئلہ، درہ آدم خیل اور کوہاٹ کے علاقوں میں بھی پایا جاتا ہے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ملک میں وافر کوئلہ اور پانی ہونے کے باوجود، بجلی مہنگے پیٹرولیم، فرنس آئل، اور ڈیزل سے پیدا کی جا رہی ہے۔
ہمارے حکمران اور اشرافیہ عوام کو ایک منظم استحصالی نظام میں قید رکھے ہوئے ہیں۔ آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں (IPPs) کے ساتھ جو تباہ کن معاہدے کیے گئے ہیں، ان کی وجہ سے ملک کی معیشت تباہ ہو رہی ہے۔ اگر حکمران واقعی عوام کے ساتھ مخلص ہوتے، تو وہ ان مہنگے معاہدوں کو ختم کر کے بجلی کی لاگت کم کرتے، تاکہ عام آدمی اور چھوٹے صنعتکار کو فائدہ ہو۔
بلوچستان، خیبر پختونخوا، اور سندھ میں 160 ملین ٹن ماربل کے ذخائر موجود ہیں۔ خاص طور پر بلوچستان کے لورالائی، خضدار، جاگی، اور لسبیلہ کے علاقے اپنی منفرد رنگت والے ماربل کے لیے مشہور ہیں۔ پاکستان، چین، سپین، اور ترکی سے ماربل درآمد کرتا ہے، جبکہ ترکی اس صنعت میں ایک بڑی طاقت بن چکا ہے۔
اس کے علاوہ، پاکستان کے کئی علاقوں میں یورینیم کے ذخائر بھی پائے جاتے ہیں، جو جوہری توانائی کی تیاری میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ باغل چھور، کابل خیل، تونسہ نانمنائی، اور شنا واہ جیسے علاقوں میں یورینیم موجود ہے۔
قدرت نے پاکستان کو صرف معدنی وسائل ہی نہیں دیے، بلکہ اس ملک کو جنگلات، سمندر، دریا، تمام موسم، زرعی زمین، پہاڑ، میدان، جغرافیائی اہمیت، انسانی وسائل، جوہری طاقت، اور دنیا کی پانچویں بڑی فوج سے بھی نوازا ہے۔ لیکن ان میں سے کون سا وسیلہ عوام کی بھلائی کے لیے استعمال ہو رہا ہے؟ عام شہری بدستور غربت، مہنگائی، بیروزگاری، بدعنوانی، دہشت گردی، فرقہ واریت، عدم استحکام، اور ظالمانہ ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ اشرافیہ کبھی بھی نہیں چاہے گی کہ یہ دولت عام آدمی تک پہنچے، کیونکہ اگر عوام معاشی طور پر مستحکم ہو گئے، تو وہ اس ظالمانہ نظام کے خلاف کھڑے ہو جائیں گے۔ جب تک عوام میں سیاسی شعور پیدا نہیں ہوتا اور وہ اس استحصالی ایجنڈے کو للکارنے کے لیے تیار نہیں ہوتے، تب تک پاکستان کی تقدیر نہیں بدلے گی۔ ہمیں متحد ہو کر، فرقہ واریت، لسانی تعصب، اور سیاسی تقسیم سے بالاتر ہو کر ایک قوم بننا ہوگا۔
یہ اختلافات قدرتی نہیں، بلکہ اشرافیہ کی پیدا کردہ ہیں۔
واپس کریں