
بقول عمران خان خارجہ پالیسی اور دوسرے ممالک سے پیسے لینے میں ساری مدد فوج نے کی۔ بلکہ وہ تقریر سنیں تو وہ کہتے کہتے رہ جاتا ہے کہ میری خارجہ پالیسی فوج ہی سنبھالتی ہے۔بقول عمران خان کے بجٹ پاس کرنے اور کورم پورا کرنے کے لیے بھی فوج بندے پورے کرکے دیتی تھی۔عمران خان کہتا تھا کہ کرونا سے لڑنے میں فوج نے اہم کردار ادا کیا تھا۔عمران خان کا اعتراف موجود ہے کہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے میں فوج نے مدد کی بلکہ اپنا بجٹ بھی کٹ کیا۔
عمران خان نے کہا تھا کہ فیض حمید بطور ڈی جی آئی ایس آئی مجھے اس لیے چاہئے تھا کہ اپوزیشن سے نمٹ سکوں۔
بلکہ اگر تھوڑا تفصیل میں جاؤں تو عمران خان نے جب اچانک اعتماد کا ووٹ لینے اعلان کر دیا تو سیدھا فوج کو کہا کہ تم کر کے دو۔ اس وقت امریکی انخلاء جاری تھی اور فوج الجھی ہوئی تھی۔ عمران خان کی حکومت جو صرف دو تین سیٹوں پر کھڑی تھی اس سے بڑی تعداد میں ایم این ایز اور اتحادی ناراض تھے۔ یہ اعلان گویا خود کشی تھا۔
فوج جانتی تھی کہ اس حساس موقع پر حکومت گری اور سیاسی عدم استحکام آیا تو بہت نقصان ہوگا۔ لہذا فوج پوری طرح ملوث ہوئی اور عمران خان نے تقریباً فوج کو بلیک میل کر کے ان سے یہ کام لیا کہ حکومت گری اور جو انارکی پھیلی پھر تم لوگ سنبھالو گے۔ چودھری سالک، طارق بشیر چیمہ اور عامر لیاقت کے بیانات موجود ہیں کہ ہمیں زبردستی لایا گیا ووٹ دلوانے۔ جنرل باجوہ ایک دو صحافیوں کے سامنے اعتراف کر چکا ہے کہ ہم 48 گھنٹے سوئے نہیں تھے۔
یہی خون عمران خان کے منہ کو لگ گیا تھا۔ لہذا جب اپوزیشن سے تحریک عدم اعتماد لانے کا اعلان کیا تو عمران خان نے دوبارہ فوج سے کہا مجھے بچاؤ۔ تب فوج نے کہا ہم نیوٹرل رہیں گے تو عمران خان نے تقاریر میں کہنا شروع کیا 'نیوٹرل تو جانور ہوتا ہے۔ اللہ نے اجازت نہیں دی نیوٹرل رہنے کی۔' بعد یہ بھی کہا کہ میں نہیں کہتا 'فوج نے حکومت گرائی لیکن وہ مجھے بچا تو سکتے تھے بچایا کیوں نہیں؟'
(بعد میں فوج کے خلاف لڑائی مزید بڑھی تو فرمایا امریکہ تو معصوم ہے حکومت گرائی ہی فوج نے تھی)
تو اوپر عمران خان کے دور کی آزادی کی ایک جھلک ہے۔ یاد رہے کہ عمران خان نے اقتدار آزادی کا کہہ کر نہیں لیا تھا۔ اس نے مہنگائی ختم کرنے، بیرونی قرضے نہ لینے، کرپشن ختم کرنے، گھر اور نوکریاں دینے کا جھانسا دے کراقتدار حاصل کیا تھا۔ جب ان تمام وعدوں میں بری طرح ناکام رہا اور مہنگائی دگنی کر دی، بیرونی قرضوں کا ریکارڈ توڑ دیا، پچاس لاکھ تو کیا پچاس گھر بھی نہ بنا سکا تو پینترا بدلا اور اب کہتا ہے کہ 'مجھے ووٹ دو میں تمہیں آزادی دلاؤنگا۔'
جو صحافی، جج، وکیل یا کوئی بھی شخص عمران خان کا درباری بننے کا اعلان کر دے اور فوج کو گالی دے دے عمران خان اس کو سرٹیفکیٹ دے دیتا ہے کہ 'یہ شخص آزاد ہوگیا ہے۔'
عمران خان کی اپنی حکومت میں جس قسم کی 'آزادی' تھی اس پر کوئی ایک نظر ڈالنا گوارا نہیں کرتا۔
واپس کریں