
لبنانی شخص اپنی کہانی سناتا ھے کہ میں جاپان کے ایک فائیو سٹار ھوٹل میں ٹھہرا ھوا تھا۔۔۔
میں ھوٹل کے سوئمنگ پول میں اترا، تب میرے علاوہ وھاں کوئی نہیں تھا، نہاتے نہاتے میں نے سوئمنگ پول میں پیشاب کر دیا۔۔۔
کسی کیمیکل کی وجہ سے چند لمحوں میں پورے سوئمنگ پول کے پانی کا رنگ تبدیل ھو گیا۔۔۔*
سکیورٹی پر معمور افراد فوری پہنچ گئے اور مجھے سوئمنگ پول سے نکالا، میری نظروں کے سامنے عملہ آیا اور سوئمنگ پول کے پانی کو فوراً تبدیل کر دیا۔۔۔
مجھے ھوٹل کے ریسیپشن میں بلایا گیا، میرا پاسپورٹ اور سامان مجھے پکڑا دیا گیا اور ھوٹل سے مجھے باھر کر دیا۔۔۔
اب میں شہر کے جس بھی ھوٹل کا رُخ کرتا، ریسیپشن پر بیٹھا عملہ میرا پاسپورٹ دیکھ کر کہتا تم ھی ھو نا جس نے سوئمنگ پول میں پیشاب کیا تھا۔۔۔
مجھے کسی فائیو سٹار ھوٹل میں روم نہیں ملا، میں نے اپنے سفارت خانے کا رُخ کیا اور انہیں ساری کہانی سنا دی، سفارت خانے سے یہ راھنمائی ملی کہ ایسا ھوٹل تلاش کریں جہاں سوئمنگ پول نہ ھو۔۔۔
میں جب جاپان چھوڑنے کے لئے ائیرپورٹ امیگریشن پہنچا تھا۔۔۔
میرے پاسپورٹ پر مہر لگاتے ھوئے وھاں کے ایک آفیسر نے کہہ دیا امید ھے آپ کو اچھا سبق ملا ھو گا۔۔۔
*وہ لبنانی شخص کہتے ھیں، تین دنوں میں پورا جاپان جان چکا تھا کہ میں ھی تھا جس نے سوئمنگ پول میں پیشاب کیا تھا، اس واقعے کو عرصہ بیت گیا۔۔۔
آج بھی کوئی جاپانی مجھے نظر آتا ھے تو مجھے لگتا ھے اسے بھی پتہ ھو گا...
دوسری طرف ھمارے ملک میں اربوں ڈالر ملک کے لوٹ لئے گئے،
خزانہ خالی کر دیا گیا،
لیکن
کسی کو پتہ ھی نہیں ھے،
کہ
کون لوٹ گیا؟
کون کھا گیا؟
کس نے ھاتھ صاف کیا۔۔۔؟
ھمارے اداروں نے ھمیں معلوم ھی نہیں ھونے دیا کہ کون کون، قومی خزانے میں کتنا پیشاب کر گیا ھے۔۔۔؟؟؟
واپس کریں