دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
نو مئی کا راگ۔ تدارک اور حقائق
No image احتشام الحق شامی۔احتجاج کا حق، جس کی آئین نے ضمانت دی ہے اسے صرف، سڑکوں میں خلل ڈالے یا نجی اور سرکاری املاک کو تباہ کیے بغیر اسے صرف پرامن طریقے سے ہی استعمال کیا جا سکتا ہے۔عمران خان کی ہدایت پر پی ٹی آئی کے کارکنان نے 2014 میں، پی ٹی وی کے ہیڈ کوارٹر اسلام آباد پر حملہ کیا، پی ٹی آئی کے ان مظاہروں کے منتظمین کے پاس کرین، مشینی بلڈوزر، وائر کٹر، سلیجز اور گولہ بارود تھا اور پارلیمنٹ اور وسپریم کورٹ آف پاکستان کا محاصرہ تھا۔
دنیا میں کہیں بھی ایسی مجرمانہ کارروائیوں کی اجازت نہیں ہے۔ اس واقع نے ایک پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکنان اور ان کے حامیوں کو دوبارہ مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے کی ترغیب دی۔ 9 مئی کے پر تشدد میں ملوث تمام افراد کو سخت سزا دی جانی چاہیے، بشمول ان کے سہولت کار اور معاونت کرنے والوں کے ساتھ ساتھ وہ لوگ جنہوں نے 126 روزہ 2014 کے دھرنا محاصرے اور 21 روزہ فیض آباد دھرنے کو فنڈ فراہم کیا اور اسٹیج کا انتظام کیا۔2014/2017 کے پرتشدد مظاہروں کا دورانیہ اور ان کی طرف سے کی جانے والی بے لگام بربریت اور آتش زنی کی کارروائیاں طاقتور حلقوں کی ملی بھگت کے بغیر نہیں ہو سکتی تھیں۔
یہ حقیقت کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک سینئر جج کے فیصلے کے باوجود، موجودہ قوانین کے مطابق مذکورہ واقعات میں سے کسی پر بھی مقدمہ نہیں چلایا گیا اور سزا نہیں دی گئی،انتہائی شرمناک امر ہے۔
مذکورہ بالا واقعات نے ہی ایسے شرپسندوں کو 9 مئی کے تشدد کا سہارا لینے کی ترغیب دی ہے۔ٹی ایل پی کے زیر اہتمام 21 روزہ 2017 فیض آباد دھرنا تھا، جہاں چند سو عسکریت پسند کارکن ایک ایٹمی ملک کے دارالحکومت کا محاصرہ کرنے میں کامیاب ہوئے۔
نو مئی،نو مئی، نو مئی کا راگ لگانے سے فرصت ملے تو پہلے 2014/2017 کے واقعات میں ملوث پی ٹی آئی کے دہشت گردوں کو مقامِ عبرت بنایا جائے اور پھر نو مئی میں ملوث دہشت گردوں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔
واپس کریں