دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
آٹو موبائل انڈسٹری اور اربوں ڈالر کا انخلا ۔محمد عرفان صدیقی
No image پاکستان کی آٹو موبائل انڈسٹری میں اربوں ڈالر کے فراڈ کا سلسلہ کئی دہائیوں سے جاری و ساری ہے ، کوئی پرسان حال نہیں ہے اور نہ ہی کوئی روکنے والا ہے ، پاکستان کی معیشت پر یہ ڈاکہ سابقہ حکمرانوں کے ساتھ مل کر ڈالا گیا ورنہ تھوڑا سے بھی چیک اینڈ بیلنس ہو اور پاکستان انجینئرنگ بورڈ میرٹ پر کام کررہا ہوتو صرف چند سال میں پاکستان میں سڑکوں پر چلتی مہنگی گاڑیوں کی قیمتیں آدھی سے بھی کم ہوجائیں اور لاکھوں لوگ اس شعبے میں روزگار حاصل کرنے کے قابل ہوجائیں لیکن جب بعض افسران اس غیر قانونی عمل کا حصہ بن کر اپنا حصہ وصولنے لگ جائیں تو نہ ملک میں روزگار میں اضافہ ہوگا اور نہ ہی نئی انڈسٹری لگے گی اور نہ ہی معیشت بہتر ہوگی ، ملک میں تھوڑی سی جانچ پڑتال اور قانون کی عملداری ممکن بنانے سے ہی سالانہ جعلسازی کے ذریعے اربوں ڈالر کا انخلاروکا جاسکتا ہے اور سینکڑوں نئی انڈسٹریاں لگا کر ہزاروں ملازمتیں بھی آٹوموبائل انڈسٹری کے شعبے میں پیدا کی جاسکتی ہیں ،اس شعبے سے منسلک ایک معروف اور تجربہ کار شخصیت کے مطابق اس وقت آپ کو سڑکوں پر جو چین ، کوریا اور جاپان کی نئی نویلی گاڑیاں چلتی نظر آتی ہیں حقیقت یہ ہے کہ ان کو تیار کرنے والے ایک بھی ادارے نے پاکستان کے قانون پر عملدرآمد کیے بنا پاکستان میں لاکھوں گاڑیاں اسٹیٹ بینک کے ذریعے ڈالرز باہر بھجوا کر امپورٹ کرلی ہیں ، جس کی نہ انھیں اجازت ہے اور نہ ہی یہ گاڑیاں اس معیار کی ہیں جو ان کے اپنے ممالک میں رائج ہے لیکن پاکستان میں ان غیر معیاری گاڑیوں کی جانچ پڑتال کرنے والا ادارہ پاکستان انجینئرنگ بورڈ اس باب میں کوئی کام نہیں کررہا۔ اس وقت پاکستانی قانون کے مطابق اگر کوئی نئی کمپنی پاکستان میں اپنی گاڑیاں متعارف کرانا چاہتی ہے تو اس کو اجازت ہے کہ وہ کمپنی صرف سو گاڑیاں امپورٹ کرکے ملک کے مختلف شو رومز پر کھڑی کرکے لوگوں کو دکھا سکے کہ ان کی گاڑی کیسی ہے اور اس میں کیا کیا سہولیات ہیں جس کے بعد اس غیرملکی کمپنی کو پاکستان میں گاڑیاں تیار کرنے کا پلانٹ لگانا ہوتا ہے، شروع کے پانچ برس تک ستر فیصد تیار گاڑی سی ڈی کے کٹ کے نام پر پاکستان میں امپورٹ کرسکے جبکہ تیس فیصد پارٹس پاکستان میں تیار کرنے کی فیکٹری لگائے لیکن اگلے سات سال کے اندر کم از کم اس گاڑی کے ستر فیصد پارٹس پاکستان میں تیار کرنا لازمی ہوتے ہیں تاکہ پاکستان میں نئے کارخانے لگیں ، لوگوں کو ملازمتیں حاصل ہوں اور پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو ، لیکن سابقہ دورحکومت میں اس وقت کے وزیر اعظم کے قریبی دوست نے چینی ماڈل کی سو کے بجائے دس ہزار گاڑیاں پاکستان میں براہ راست امپورٹ کرکے مارکیٹ میں فروخت کردیں ۔جس کے لیے سینکڑوں ملین ڈالرز پاکستان کے بینکنگ چینل سے پاکستان سے باہر بھجوائے گئے ، اس کے بعد تو چینی اور کورین کمپنیوں کی پاکستان میں لائنیں لگ گئیں ، سب نے اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے اور پاکستان کی کمزور معیشت پر خوب ڈاکہ ڈالا ، اس وقت پچاس سال سے پاکستان میں گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنیاں بھی صرف تیس فیصد پارٹس ہی پاکستان میں تیار کررہی ہیں باقی سب اسٹیٹ بینک سے ڈالر باہر بھجواکر انجن اور پارٹس امپورٹ کیے جارہے ہیں ، آج کسی بھی بڑی آٹوموبائل کمپنی کا پاکستان میں کارخانہ چیک کروالیں وہاں صرف چند سو ملازمین ہی اسمبلنگ کا کام کررہے ہیں جن کے نام پر یہ ادارے حکومت پاکستان کو بلیک میل کرکے پاکستانی عوام کو غیر معیاری اور مہنگی ترین گاڑیاں فروخت کررہے ہیں ، آج بھارت میں تین لاکھ میں فروخت ہونے والی آلٹو کار پاکستان میں اٹھائیس لاکھ روپے میں فروخت ہورہی ہے ، آج بھارت میں لاکھوں لوگ آٹو موبائل انڈسٹری میں ملازمت کررہے ہیں کیونکہ وہاں یہ کمپنیاں سو فیصد پرزہ جات تیار کررہی ہیں جبکہ پاکستان میں صرف تیس فیصد پرزہ جات تیار ہو رہے ہیں، جبکہ تازہ ترین اطلاعات یہ ہیں کہ اوورسیز پاکستانیوں کو حکومت نے جو ایک گاڑی بھاری ڈیوٹی ڈالروں میں ادا کرکے پاکستان لانے کی اجازت دی ہے اسے رکوانے کے لیے بھی یہ لوکل اسمبلرز کا کارٹل سرگرم ہے، تاکہ اس شعبے میں ان کی مناپلی قائم رہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ان لوکل اسمبلرز پر پاکستانی قوانین لاگو کرتے ہوئے ان سے گاڑیوں کی لوکلائزیشن کو سو فیصد کروائے تاکہ لاکھوں لوگوں کو روزگار میسر آسکے اور پاکستانی عوام کو سستی اور معیاری گاڑیاں مل سکیں اور ملکی معیشت پر اربوں ڈالرکے ڈاکے کی روک تھام کی جا سکے۔
واپس کریں