
تجزیہ نگاروں کے مطابق ملک ریاض کبھی بھی ڈٹ کر نہیں کھڑے ہوئے اگر انہیں اندر سے کسی کی سپورٹ نہ حاصل ہو۔ وہ کوئی نظریاتی آدمی نہیں ہیں، ڈٹ کر کھڑے ہونا تو دور کی بات وہ کبھی کھڑے بھی نہیں ہوئے۔ انہوں نے تازہ بیان محض بارگیننگ کے لیے دیا ہے۔
ملک ریاض کی نئی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ سیٹلمنٹ نہیں ہو رہی، ایسا نہیں کہ وہ عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ جس دن ان کی نئی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ سیٹلمنٹ ہو گئی وہ عمران خان کو چھوڑ جائیں گے۔ 9 مئی کے بعد سے فوج کے اندر عمران خان کی سپورٹ ختم ہو گئی ہے۔ کوئی حاضر سروس افسر عمران خان کا ساتھ دینے کا رسک نہیں لے سکتا۔
ملک ریاض کبھی بھی ڈٹ کر نہیں کھڑے ہوئے اگر انہیں اندر سے کسی کی سپورٹ نہ حاصل ہو۔ انہیں اس وقت اسٹیبلشمنٹ کے اندر سے کچھ لوگ مشورے دے رہے ہیں۔تجزیہ نگاروں کے مطابق فروری میں ملک ریاض پاکستان آ رہے تھے مگر انہیں عین وقت پر بتا دیا گیا کہ آپ کو ٹریپ کیا جا رہا ہے اور وہ ایئرپورٹ سے ہی واپس چلے گئے۔ وہ کوئی نظریاتی آدمی نہیں ہیں، ڈٹ کر کھڑے ہونا تو دور کی بات وہ کبھی کھڑے بھی نہیں ہوئے۔ انہوں نے تازہ بیان محض بارگیننگ کے لیے دیا ہے۔
واپس کریں