دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
بند دروازوں کے پیچھے بنائی جانے والی پالیسیاں کامیاب نہیں ہوتیں۔تاجر اتحاد رہنما عتیق میر
No image آئندہ قومی بجٹ میں ملک کو معاشی بحالی کی راہ پر گام زن کرنے کیلئے کلیدی اقدامات متوقع ہیں۔ ایک میڈیا گروپ نے اس موقع پر اقتصادی ماہرین اور کاروباری برادری کی شراکت سے ایک بڑے مباحثے کا اہتمام کرکے نہایت اہم تجاویز پیش کی ہیں جنہیں ملحوظ رکھا جائے تو مالیاتی بحران سے نجات پانے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ اس گریٹ ڈبیٹ کے شرکاء میں سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل، ایف بی آر کے سابق چیئرمین شبر زیدی، ماہر معاشیات عمار حبیب، کسان اتحاد کونسل کے صدر خالد کھوکھر، آل کراچی تاجر اتحاد کے صدر عتیق میر اور آباد کے چیئرمین آصف صمصام شامل تھے اور تقریباً ان سب نے اس امر پر مکمل اتفاق کیا کہ زراعت اور رئیل اسٹیٹ سمیت قومی زندگی کے تمام شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لائے بغیر معاشی بحالی ممکن نہیں جبکہ پاکستان میں اب تک بیشتر ٹیکس صرف تنخواہ دار طبقے سے وصول کیا جاتا ہے اور اس میں دیگر شعبوں کا حصہ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہوتا۔ سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا پوری دنیا نے ٹیکس نیٹ کو وسعت دی ہے اور پاکستان بھی ایسا کر سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سال ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا تناسب اگرچہ 10 فیصد تک پہنچ جائے گا لیکن یہ بھی ناکافی ہوگا۔ مفتاح اسماعیل نے انکشاف کیا کہ ہمارے ملک میں سونے کے کاروبار جیسے انتہائی منافع بخش شعبے تک سے کوئی ٹیکس وصول نہیں کیا جاتا۔انہوں نے تجویز دی کہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں جائیدادوں پر ٹیکس کی مختلف شرحیں ختم کی جائیں اور ریٹیلرز سے ٹیکس وصول کرنے کے بجائے صنعتی سطح پر سیلز ٹیکس لگایا جائے۔انہوں نے ٹیکس وصولی کے معاملات سے متعلق تمام اسٹیک ہولڈرز کو آن بورڈ لینے اور ایک فکسڈ ٹیکس سسٹم متعارف کرانے پر بھی زور دیا۔ گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے شبر زیدی نے تجویز دی کہ بجلی کے کنکشن حاصل کرتے وقت بجلی کے صارفین کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے‘ انہوں نے بتایا کہ ملک میں 30 لاکھ صنعتی صارفین ہیں مگر ان میں سے صرف ایک لاکھ ٹیکس ریٹرن فائل کرتے ہیں جبکہ بھارت کے صرف ایک شہر ممبئی سے جمع ہونے والے پراپرٹی ٹیکس کی رقم پورے پاکستان سے جمع کیے گئے پراپرٹی ٹیکس سے زیادہ ہوتی ہے۔ اس شعبے کو مکمل طور پر ٹیکس کے دائرے میں لانے کے لیے انہوں نے ملک بھر میں جائیدادوں کا سروے کرائے جانے کی ضرورت کا اظہار کیا۔تاجر اتحاد کے رہنما عتیق میر نے تاجروں پر زور دیا کہ وہ فائلر بنیں کیونکہ اس سے انہیں فائدہ ہوگا۔ انہوں نے اس اہم نکتے کی نشان دہی کی کہ تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے ان سے مشاورت کرکے پالیسی بنائی جائے ، چھوٹے تاجروں کے مسائل سنے اور حل کیے جائیں کیونکہ بند دروازوں کے پیچھے بنائی جانے والی پالیسیاں کامیاب نہیں ہوتیں اور ٹیکس نیٹ بڑھانے کا کام طاقت کے بل پر نہیں ہوسکتا۔ اقتصادی ماہر عمار حبیب نے تمام مالی لین دین کو ریکارڈ پر لانے کیلئے یہ اہم تجویز پیش کی کہ پانچ ہزار سے زیادہ کے نقد لین دین پر پابندی عائد کردی جائے اور اس سے اوپر کی تمام ادائیگیاں ڈیجیٹل طریقے سے کی جائیں۔اگر ایساہوجائے تو کوئی لین دین خفیہ نہیں رہے گا اور ہر ایک کی آمدنی پر معقول ٹیکس وصول کیا جاسکے گا۔یہ فی الواقع نہایت مفید تجویز ہے جو حکومت کی ترجیحات میں بھی شامل ہے ، دنیا بھر میں اب یہ طریقہ عام ہے لہٰذا ہمیں بھی جلدازجلد اسے مکمل طور پر نافذ کردینا چاہئے۔ زرعی شعبہ بھی جس میں ملک کے مقتدر طبقوں کا تناسب بہت زیادہ ہے، پوری طرح ٹیکس نیٹ میں لایا جانا چاہئے معیشت میں جس کا حصہ تقریباً ایک چوتھائی ہے لیکن مجموعی ٹیکس میں بمشکل اعشاریہ دو فی صد ہے۔ کسان اتحاد کے رہنما خالد کھوکھر کا یہ موقف قابل فہم نہیں کہ زراعت کا پیشہ اب منافع بخش نہیں رہا اور اگر زرعی پیداوار پر ٹیکس لگایا گیا تو یہ شعبہ ختم ہوجائے گا۔
واپس کریں