دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ٹیکس وصولی،ایک نہیں دو پاکستان
No image پاکستان میں امیر افراد کی اکثریت انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی زحمت کیے بغیر اصل قابل ٹیکس آمدنی پر انکم ٹیکس کا کم حصہ ادا کرتی ہے۔ گزشتہ برس جوگوشوارے داخل کیے گئے، ان میں صرف 100,000 افراد نے 500,000 روپے سے زیادہ کی ٹیکس ذمہ داری قبول کی۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی پورے جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ ٹیکس دینے والی قوم ہیں۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی ویب سائٹ پر دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 31 مارچ 2024 تک 192 ملین موبائل سیلولر صارفین تھے (اگر ہم غیر فعال صارفین کو چھوڑ دیں) جو 15 فیصد ایڈجسٹ پیشگی انکم ٹیکس ادا کر رہے ہیں اور ساتھ میں 19.5 فیصد سیلز ٹیکس بھی۔ 13 مئی 2024 تک 2،712،725 انفرادی(امیر افراد) انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرائے گئے جس میں سے 70 فیصد نے کوئی ٹیکس ادا نہیں کیا۔اشرافیہ کے زیر کنٹرول پاکستان کی معیشت مراعات یافتہ طبقے کے مفادات کو پورا کرتی ہے۔
حکمران طبقے، جو پوری آبادی کی صرف 2 فیصد نمائندگی کرتے ہیں، قومی وسائل کے 95 فیصد کے مالک ہیں۔ وہ ضروری اشیا کی قیمتوں میں مصنوعی اضافہ کر تے ہیں تاکہ 98 فیصد عام لوگوں کی کمائی یا بچائی گئی رقم بھی چھین لی جائے۔60 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں مگر ان کی فکر نہیں ہے۔
موجودہ جابرانہ ٹیکس نظام میں ریاستی اشرافیہ کو ہر طرح کی ٹیکس فری سہولتیں ملتی ہیں۔ پاکستانی اراکین پارلیمنٹ کی اوسط دولت کی مالیت 900,000 امریکی ڈالر ہے، لیکن ان کا انکم ٹیکس میں حصہ کل ٹیکس وصولی کے ایک فیصد سے بھی کم ہے۔
پاکستان کی معیشت صرف مراعات یافتہ طبقے کی خدمت کرتی ہے۔ سیاست دانوں اور زمینداروں پر مشتمل اشرافیہ 244 ملین سے زیادہ کی پوری آبادی کے ایک فیصد سے بھی کم کی نمائندگی کرتے ہیں، لیکن ٹیکس دہندگان کے پیسے پر بے مثال مراعات اور فوائد سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اس سے بڑا ظلم اور کیا ہو گا کہ
اوسطاً، ایک امیر فرد جس کی سالانہ زرعی آمدنی 6 ملین روپے ہے، کو صرف 15 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہے اور اسی آمدنی پر اعلیٰ تعلیم یافتہ تنخواہ دار فرد 35 فیصد انکم ٹیکس ادا کرتا ہے۔
بشکریہ،حذیمہ بخاری، ڈاکٹر اکرام الحق
واپس کریں