
ورلڈ بینک کی 2023ء کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے غریب ترین صوبے ضلع خضدار میں غربت کی شرح 71.5 فیصد ہے۔دبئی پراپرٹی لیکس کے مطابق پاکستان کے غریب ترین صوبے بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ سردار ثنااللہ زہری، ان کی اہلیہ اور بیٹی ازبل زہری نے دبئی کے لگژری ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں بڑی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ سردار ثنااللہ زہری 2024ء کے عام انتخابات میں ضلع خضدار سے ایم پی اے منتخب ہوئے تھے اور ان کی اہلیہ خواتین کی مخصوص نشست پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئی ہیں۔
ثنااللہ زہری کی اہلیہ کے نام پر محمد بن راشد المکتوم سٹی ڈسٹرکٹ ون میں 6 بیڈ رومز پر مشتمل دو منزلہ بنگلہ تھا۔ یہ رہائشی علاقہ اپنے کرسٹل لاگونز کی وجہ سے جانا جاتا ہے جوکہ دنیا میں انسانوں کی جانب سے بنایا گیا سب سے بڑی مصنوعی دریا ہے جس کا رہائشی اپنے گھروں سے نظارہ کرسکتے ہیں۔ یہ بنگلہ 2018ء میں 40 لاکھ ڈالرز میں خریدا گیا جبکہ 2023ء میں 62 لاکھ ڈالرز میں اسے فروخت کردیا گیا۔
2019ء سے 2022ء کے درمیان اس مکان سے 5 لاکھ ڈالرز سے کچھ زائد کا کرایہ موصول ہوا۔ ثنا اللہ زہری کی اہلیہ اس وقت اسکائے اسکریپر رہائشی عمارت 23 مرینہ میں 3 بیڈ رومز پر مشتمل اپارٹمنٹ کی مالکن ہیں جسے 2020ء میں 3 لاکھ 83 ہزار 882 ڈالرز میں خریدا گیا تھا۔ ثنااللہ زہری اور ان کی بیٹی برج خلیفہ کے علاقے میں دی لوفٹس سینٹرل پروجیکٹ میں 2 بیڈ رومز والے دو اپارٹمنٹس کے مالک ہیں۔ ایک اپارٹمنٹ 2014ء میں خریدا گیا جبکہ دوسرا اس کے اگلے سال سب نے بتایا کہ ثنااللہ زہری نے ان دو جائیدادوں کے لیے 15 لاکھ ڈالر ادا کیے۔
اسی ضلع سے تعلق رکھنے والے ایک اور سردار اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے ایک دھڑے کے سربراہ سردار اختر مینگل کے نام پر بھی ایک بیڈروم کا اپارٹمنٹ ہے جو انہوں نے 2009ء میں خریدا تھا۔ یہ پراپرٹی کم از کم 2013ء سے کرائے پر ہے اور آج اس کی قیمت تقریباً 3 لاکھ 64 ہزار 831 ڈالرز ہوچکی ہے۔
بشکریہ ڈان نیوز
واپس کریں