دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
دبئی لیکس، کارروائی ہونی چاہئے
No image پاکستانیوں کی بیرون ملک میں موجود 11ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کی جائیدادوں کا انکشاف حیران کن ہو یا نہ ہو، غور و فکر کے کئی پہلو ضرور رکھتا ہے۔ مذکورہ انکشاف تفتیشی صحافت کے عالمی سطح کے ایک پروجیکٹ کے تجزیے کی صورت میں سامنے آیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا بھر کی اشرافیہ کی دبئی میں املاک موجود ہیں۔ اس فہرست میں سیاسی شخصیات، بین الاقوامی پابندیوں کے شکار افراد، کالا دھن سفید کرنے والے اور مبینہ مجرم شامل ہیں۔ اس فہرست میں پاکستانیوں کی نشاندہی بھی ہوئی ہے اور ان کی مجموعی دولت کا تخمینہ 11ارب ڈالر بتایا گیا ہے۔ ڈیٹا کی بنیاد پر کام کرنے والے گروپ ’’دبئی ان لاکڈ‘‘ نے متحدہ عرب امارات کے شہر میں موجود لاکھوں املاک اور انکے مالکان یا استعمال کے حوالے سے اطلاعات اور تفصیلی جائزہ فراہم کیا ہے۔ یہ جائزہ زیادہ تر 2020ء سے 2022ء تک کا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتاہے کہ دبئی میں غیر ملکیوں کی تقریباً 400ارب ڈالرز کی جائیدادیں ہیں جن میں پاکستانیوں کی بھی 11ارب ڈالر کی جائیدادیں شامل ہیں۔ 17ہزار پاکستانی 23ہزار رہائشی املاک کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں جبکہ بھارتی پہلے نمبر پر اور برطانوی شہری تیسرے نمبر پر آتے ہیں۔ مختلف کمپنیوں کے نام پر خریدی گئی املاک اور تجارتی علاقوں میں موجود املاک اس تجزیے کا حصہ نہیں ہیں۔یہ ڈیٹا سینٹر برائے ایڈوانسڈ ڈیفنس اسٹیڈیز نے واشنگٹن ڈی سی میں قائم ایک نان پرافٹ تنظیم (C4ADS) سے حاصل کیا ۔ بعدازاں یہ ڈیٹا ایک ناریجیں مالیاتی آئوٹ لیٹ (E24) اور منظم جرائم اور کرپشن کی رپورٹنگ کے پروجیکٹ (OCCRP) کے ساتھ شیئر کیا گیا ۔ اس رپورٹ میں دبئی میں جائیدادیں بنانے والے جن افراد کے نام شامل ہیں۔ ان میں تاجر، سیاستداں، سابق جرنیل اور بیوروکریٹس شامل ہیں ان کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی خریدی یا بنائی گئی جائیدادیں ڈکلیئرڈ ہیں۔ ویسے بھی ’’پراپرٹی لیکس‘‘ پاکستان پر مرکوزنہیں۔ 389بلین ڈالر مالیت کی جائیدادوں میں سے پاکستانی 2.5فیصد سے بھی کم کے مالک ہیں۔ یہ بات واضح رہنی چاہئے کہ پاکستان سے باہر کسی فرد کا کسی جائیداد کا مالک ہونا ازخود کوئی غیر قانونی سرگرمی نہیں۔ بہت سے لوگوں کے پاس بیرون ملک جائیدادیں ہوتی ہیں کیونکہ یا تو انہوں نے بیرون ملک کام کیا ہوتا ہے یا ان اثاثوں کی خریداری اپنی ٹیکس شدہ آمدنی سے کی ہوتی ہے۔ اس معاملے کی قانونی حیثیت کا تعین ان کے متعلقہ ملکوں کے ٹیکس حکام کا کام ہے۔پاکستانیوں کے لئے قابل غور بات یہ ہے کہ دبئی میں امن و امان کی صورتحال، آسانیاں، کاروبار دوست ماحول پاکستان سمیت مختلف ممالک کے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ بھارت کے معاشی حالات پاکستان سے بہتر ہیں مگر وہاں کے لوگوں نے بھی دبئی میں جائیدادیں بنائی اور سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جہاں سرمایہ محفوظ رہنے اور بڑھنے کے امکانات ہوتے ہیں وہاں سرمایہ آتا ہے۔پیسہ وہ ڈر پوک شے ہے کہ جہاں خطرہ محسوس کرتا ہے وہاں سے فرار ہوجاتا ہے۔ وطن عزیز کے جو سیاسی حالات ہیں ان کی وجہ سے بھی لوگوں نے ملک سے باہر محفوظ ٹھکانے بنا رکھے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے پاکستان میں لوگ خود کو اور اپنے جائز سرمائے کو محفوظ محسوس کریں۔ کسی بھی شخص کو اس طرح دیوار کے ساتھ نہ لگایا جائےکہ عدالت اور انصاف کے الفاظ بے معنی ہو جائیں اور اس کے لئے اپنا سرمایہ محفوظ جگہ منتقل کرنے کے سوا کوئی راستہ نہ رہے ۔ اگر ہم یہاں اعتماد اور حفاظت کی فضا قائم کرنے میں کامیاب رہے تو ہر قسم کی سرمایہ کاری کے ثمرات یقیناً پھیلیں گے۔ تاہم اگر یہ ثابت ہو جائے کہ کسی نے غیر قانونی طور پر حاصل کردہ رقم سے بیرون ملک جائیدادیں بنائی ہیں تو اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔
واپس کریں