
امتحانات میں طالب علموں کی ناکامی ایک بہت وسیع موضوع ہے اور اس کی بہت سی عمومی وجوہات ہیں۔ زیر نظر مضمون میں ہم انہی چیدہ چیدہ نکات کا جائزہ لیں گے تاکہ یہ علم ہوسکے کہ طالب علم آخرکار امتحان میں فیل کیوں ہوتے ہیں۔
طلبا کی پڑھائی میں عدم دلچسپی
درحقیقت ہر بچہ پڑھنے والا نہیں ہوتا اور یہی ایک سچ ہے۔ ہمارے ہاں بہت سے طالب علم اسکول اور کالج جانے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ کلاس میں بھی کئی طالب علم غائب دماغی کا شکار رہتے ہیں۔ اس عدم دلچسپی کی وجہ سے وہ امتحانات کے دنوں میں ناکام ہوجاتے ہیں۔ وہ پڑھائی میں دلچسپی نہیں لیتے اور روز کا سبق روز یاد نہیں کرتے۔درست مضامین کا انتخاب نہ کرنا
اکثر طالب علموں کو ان کی مرضی کے مضامین کا انتخاب نہیں کرنے دیا جاتا، جس کی بنیادی وجہ والدین کی جانب سے دباؤ ہے۔ اکثر والدین سوچے سمجھے بنا یہی چاہتے ہیں کہ بچوں کو اپنی مرضی کے مطابق ڈاکٹر یا انجینئر بنائیں، جبکہ ہوسکتا ہے کہ بچہ فائن آرٹس لینا چاہتا ہو یا انگریزی ادب کا شوق رکھتا ہو۔ جب بچوں کو ان کی مرضی کے مطابق مضامین لینے نہیں دیے جاتے تو وہ پڑھائی کو بوجھ سمجھ کر سر سے اتارنا چاہتے ہیں اور جب پڑھائی بوجھ کی صورت لگے تو اس میں ناکامی ہی ہوتی ہے۔
وسائل کی کمی اور غربت
غربت ہمارے ملک کا بڑا المیہ ہے۔ لاکھوں بچے اسکول سے باہر ہیں اور اکثر طالب علم ایسے ہیں جن کے پاس مناسب وسائل کی کمی ہے، یعنی گائیڈز بک تو الگ رہیں وہ ٹیکسٹ بکس تک نہیں خرید سکتے۔ ایسی صورت میں جب آپ کے پاس مکمل نصابی کتابیں نہ ہوں، اسٹیشنری نہ ہو، نوٹس نہ ہوں تو بالکل بھی تدریس جاری نہیں رکھی جاسکتی اور طلبا امتحانات میں ناکام ہوجاتے ہیں۔
اساتذہ کا طالب علموں کی ذہنی استعداد نہ سمجھنا
ایک ہی کلاس روم میں مختلف ذہانت رکھنے والے طالب علم موجود ہوتے ہیں لیکن اساتذہ ایک ہی طرح سے تمام بچوں کو پڑھا دیتے ہیں، جب کہ کسی بچے کو زیادہ توجہ کی ضرورت ہوتی ہے اور کوئی سبق جلدی یاد کرلیتا ہے۔ ایسے میں تمام کو ایک ہی لحاظ سے رکھنا بالکل درست نہیں ہوتا اور جن بچوں کو خصوصی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے جب انھیں بھی عمومی توجہ ملتی ہے تو وہ امتحانات میں اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکتے۔
والدین کا بے خبر ہونا اور اساتذہ کو الزام دینا
بچوں کی کامیابی میں والدین اور اساتذہ دونوں کا ہی ہاتھ ہوتا ہے لیکن ہمارے اکثر والدین صرف نتیجے والے دن ہی بچے کی کارکردگی سے خود کو آگاہ کرنا ضروری سجمھتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اسکول، کالج یا اکیڈمی کی فیس دے دی گئی تو بس اب سب فرض استادوں کا ہی ہے۔ جبکہ ایسا ہرگز نہیں ہوتا۔ بچوں کو گھر میں پڑھنے کےلیے شاذ و نادر ہی والدین کبھی کہتے ہیں، حالانکہ نویں اور دسویں دو ایسی جماعتیں ہیں جن کے اوپر بچے کا سارا کیرئیر منحصر ہے۔ اگر اس وقت بھی والدین بچوں کی مانٹیرنگ نہیں کرتے اور بچوں کو پڑھائی کی تلقین نہیں کرتے تو بچے امتحانات میں اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکتے۔
استادوں کا کلاس کو کم توجہ دینا
کئی استادوں نے اپنی اکیڈمیاں اور ٹیوشن سینٹر کھول رکھے ہیں۔ مانا کہ یہ غلط نہیں، لیکن ایسے اساتذہ اپنے ٹیوشن سینٹرز میں آنے والے بچوں کو اچھا پڑھاتے ہیں اور کلاس میں اتنی توجہ کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ اس سے بھی جو بچے نظر انداز ہوتے ہیں وہ بمشکل امتحانات میں پاس ہوتے ہیں۔
سوشل میڈیا اور دیگر برقی آلات کا استعمال
مان لیا کہ جدید دور سوشل میڈیا کا دور ہے اور ہماری نئی نسل ہر وقت موبائل سے چپکی رہتی ہے۔ لیکن یہ سب جانتے ہیں کہ موبائل کا استعمال تفریح کےلیے زیادہ کیا جاتا ہے اور پڑھائی کےلیے کم۔ بچوں کی توجہ پڑھائی کے دوران بھی انہی آلات پر مرکوز رہتی ہے اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ناکام ہوجاتے ہیں۔
امتحانات کا خوف
امتحان ایک ایسی چیز ہے جس کا کم و بیش ہر طالب علم کو خوف ہوتا ہے، اب چاہے وہ کتنے لائق ترین ہی کیوں نہ ہوں۔ ایگزام فوبیا ایک تلخ سچائی ہے۔ بہت سے طالب علم عام دنوں میں اچھی پڑھائی کرتے ہیں لیکن کمرہ امتحان میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ اس لیے نہیں کرسکتے کہ وہ امتحانات کے خوف میں مبتلا ہوتے ہیں اور جو بھی انھیں یاد ہوتا ہے وہ سب بھول جاتے ہیں۔
پرچہ حل کرنے کی تکنیک کا علم نہ ہونا