
اگر پی ٹی آئی کا عدلیہ ونگ ایک عرصہ سے اپنے لیڈر اور کرش عمران خان کی حمایت اور سہولت کاری میں مخصوص بنچوں کی آڑ میں فل ٹائم سیاست بازی کر رہا ہے تو پھرپی ڈی ایم کو اب یہ فیصلہ کر لینا چاہیئے یا شاید انہوں نے یہ طے کر بھی لیا ہو کہ ایسے تو پھر ایسے ہی سہی یعنی اعلی عدالتی سیاست بازی کا جواب بھر پور سیاست سے دیا جائے گا۔
سابقہ اشٹبلشمنٹ یا باالفاظِ دیگر باجوہ گینگ نے اپنے باغی لاڈلے سے اپنی فیس سیونگ کے لیئے اگر پی ڈی ایم کو گن پوائنٹ پر ایک ناکام حکومت چلانے کو کہا اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ چار پانچ ماہ قبل معاشی طور پر تباہ حال حکومت میں آنے کا پی ڈی ایم کو کس قدر سیاسی نقصان ہو گا،خیر جو ہوا سو ہوا۔
اول تو اس وقت فرمائشی الیکشن کروانے کے لیئے اربوں روپے ہی دستیاب نہیں اور اوپر سے ایک کٹھ پتلی وزیرِاعظم کی جانب سے ورثے میں ملی ہوئی تباہ حال معیشت، ایسے میں کوئی پرلے درجے کا بے وقوف ہی ہو گا جو الیکشن کروا کر اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارے،اور یقینا پی ڈی ایم کے لیڈر اتنے سادے بھی نہیں کہ موجودہ حالات میں الیکشن کروا کر سیاسی خود کشی کریں۔
جہاں تک آئین کے مطابق90 دنوں میں الیکشن کروانے کا سوال ہے تو پی ٹی آئی کا عدلیہ ونگ(جو کرکٹ میچ کے ٹکٹ خریدنے کے بجائے فری پاس کے لیئے بھی تحریری آرڈر جاری کرتا ہے) 100 ارب روپے کا بندوبست کر دے اس کے بعد سپریم پارلیمنٹ دیکھے گی کہ ملکی حالات الیکشن کے انعقاد کی اجازت دیتے بھی ہیں یا نہیں۔یا ممکن ہے معاشی ایمرجنسی لگانی پڑ جائے۔
مختصر کہ عام انتخابات تک پی ڈی ایم حکومت چل کرے،معاشی حالات ٹھیک کرنے پر توجہ دے اور عمران خان کے خلاف قائم مقدمات پر اپنی توجہ مرکوز رکھے۔آج تو مولانا فضل الرحمان نے بھی دبنگ انداز میں کہ دیا ہے کہ90 روز میں الیکشن نہیں ہوں گے۔ پی ٹی آئی کے عدلیہ ونگ نے سیاست بازی کرنی ہے تو پھر ایسے ہی سہی۔
واپس کریں