دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
مائی لارڈ عوام سے ان کا حق نا چھینیں
محمد صالح مسعود
محمد صالح مسعود
ڈپٹی اسپیکر مزاری رولنگ کیس کی سماعت کے دوران چودھری شجاعت حسین کے وکیل نے ججز سے مخاطب ہو کر جو بات کہی وہ سونے کی حروف میں لکھنے کے قابل ہے.
‏"کچھ دیر پہلے ہم نے ماڈل ٹاؤن کے شریفوں کے ونڈرز دیکھے اور گجرات کے چوہدریوں کا عظیم ماضی. کوئی تباہی نہیں ہوگی اگر کوئی بھی وزیراعلیٰ بن گیا ہاں اگر یہ تاثر چلا گیا کہ سیاسی اہمیت کے کیسوں کا فیصلہ چند جج ہی کرتےہیں تو تباہی ضرور مچے گی." بیرسٹر صلاح
الدین احمد
ماء لارڈ، میں نے افتخار محمد چوہدری اور مشرف کا عروج دیکھا ہے. مشرف نے جب جہاز ہاء جیکنگ کیس میں میاں برادران کو سزا دلوائی تو یہ مشہور ہو گیا کہ شریف اب پانچ سال رہیں یا پچاس سال، سلاخوں کے پیچھے ہی رہیں گے.
وقت نے دیکھا وہی مشرف انہی شریفوں سے رحم کی بھیک مانگنے لگا. زرداری صاحب کو منتیں کرنے لگا کہ میرا محاسبہ نا کیا جائے. جس شریف کے بارے میں کہا گیا کہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے بقیہ زندگی گذارے گا وہ تیسری مرتبہ طاقتور وزیراعظم بن کر آیا. مشرف کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت مقدمہ چلایا اسے سزا دلوائی.
افتخار محمد چوہدری نے اپنے تئیں یہی سمجھا کہ میں نے گیلانی کی سیاست ہمیشہ کے لیے دفن کر دی ہے آج وہی گیلانی سینیٹ میں ہے اور افتخار محمد چوہدری پی پی اور نون قیادت کو منتیں کرتا رہا تھا کہ مجھے نیب چیئرمین کی ملازمت دو.
مشرف نے محترمہ کی پارٹی پر پابندی لگائی، پارٹی پارلیمنٹیرین کے نام سے ایوان میں آگئی، محترمہ کے نمائندے ایوان میں پہنچ گئے، لیکن مشرف کا آج تک ایک بھی نمائندہ ایوان کی زینت نہ بن سکا.
ماء لارڈ، میں نے پڑھا ہے کہ ضیاء نے بھٹو کی سیاست دفن کرنے لیے اسے پھانسی چڑھایا، تدفین بھی جرنیلوں کی نگرانی میں کروائی، ان کی بیٹی کو جیل میں بند کیا لیکن آج بھی سندھ میں قلندر کے بعد بڑا میلہ بھٹو کی مزار پر ہوتا ہے، ضیاء کو شاید اولاد ہی بھول گئ ہے اور ہاں مولوی مشتاق کی تو قبر کا کسی کو علم نہیں ہے.
ماء لارڈ، یہ بات آپ جیسے پڑھے لکھے لوگوں کو سمجھ میں کیوں نہیں آتی کہ سیاستدانوں کو خدا کے بعد عوام ہی مائنس کر سکتی ہے ملازمین نہیں.
ماء لارڈ، اگرچہ عدلیہ ریاست کا تیسرا ستون ہے لیکن آپ تنخواہ دار ہیں اور ہر تنخواہ دار ملازم ہی کہلاتا ہے چاہے وقتی طور مالک کو یرغمال ہی کیوں نا بنا دے لیکن وہ ملازم ہی رہنا ہے. ساٹھ پینسٹھ سال کے بعد اسے گھر جانا ہی ہوتا ہے.
ماء لارڈ، کتنا ہی اچھا ہوتا کہ آپ جسٹس جواد ایس خواجہ، اور جسٹس بھگوان داس کے فوٹ اسٹیپس پر چلتے ہوئے غیر متنازعہ رہتے. جب سائلین آپ کے فیصلوں پر عدم اعتماد کا اظہار کریں تو آپ خود کو بنچ سے علیحدہ ہی کر لیتے تو آج سوشل میڈیا پر آپ کی کردار کشی نا ہوتی.
ماء لارڈ، عوام نے جس روز سیاستدانوں کا احتساب کیا تو سریلنکن صدر کی طرح انہیں چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی، اور جب تک عوام انہیں منتخب کرتی رہے گی ملازمین انہیں مائنس نہیں کر سکتے.
ماء لارڈ، عوام سے ان کا حق نا چھینیں. عوام کو اپنے فیصلے خود کرنے دیں. کسے لانا ہے کسے مائنس کرنا ہے یہ صرف عوام کا استحقاق ہے ملازمین کا نہیں.
واپس کریں