دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
حساس انسانوں کے نام.....
محمد صالح مسعود
محمد صالح مسعود
یہ ملک اُس وقت بھی چل رہا تھا جب یحییٰ جیسے صدر تھے. یحییٰ کا دور تو ہم نے نہیں دیکھا لیکن قائم علی شاہ، نواب رئیسانی، عثمان بزدار اور محمود خان کو صوبائی حکومتیں چلاتے دیکھا ہے. اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ بظاہر آپ کا حکمران کون ہے. اصل حکمران وہی ہیں جو شروع سے آ رہے ہیں. مجھے خان صاحب میں اور کوئی خامی نظر نا آئی تو انہیں اور ان کی کابینہ کو نا اہل ترین حکمران سمجھ کر تنقید کرتا تھا ، اب جب اہل ترین اور تربیت یافتہ حکمران کے کرتوت دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں اس سے تو وہ نا اہل ہزار درجہ بہتر تھے. روز روز کی مہنگائی وعدہ و اصول خلافی پر اپنے آپ کو ڈپریشن کا شکار نا کریں. پیٹرول قیمتوں میں پندرہ روز میں 85 روپے اضافے کے باوجود لیگی آج بھی شہباز شریف کو مسیحا اور نجات دہندہ سمجھتے ہیں. کشمیر کھونے، فرانسی سفیر کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے باوجود آج بھی انصافی عمران خان کو امت مسلمہ کا لیڈر اور سلطان محمد فاتح قسطنطنیہ مانتے ہیں. تو آپ اور میں قوم کا درد لیکر کیوں پریشان ہوں.

میاں کی قیادت میں ہم لوگ مشرف کی سزا کا مطالبہ کرتے لیکن پتا تب چلا کہ میرِ کارواں نے لندن میں بیٹھ کر ایک ٹوئیٹ کے ذریعے سارے نطریاتی کارکنان پر مفاہمت کا بم گرا دیا .
قائد انقلاب، امامِ جمہوریت میاں کے اصولوں اور نظریہ کی قیمت چند ماہ کی مانگے تانگے کی حکومت تھی. اب نا مریم کو جنرل باجوہ سے شکایت ہے نا ان کے ابا حضور کو جنرل ظہیر پاشا اور فیض صاحب سے ہے. سب کے سب عوام کو چ بنا کر اپنا حصہ لینے کے چکروں میں ہیں.

اس لیے وقت کا تقاضا ہے ہم شوکت عزیز صدیقی، وقار سیٹھ اور جاوید ہاشمی کے انجام سے سبق سیکھ کر کسی جماعت کا آلہ نا بنیں نا ہی ان کے چکنے نعروں پر فوج سے دشمنی کرنے لگیں. سب کو فوج اُس وقت بری لگتی ہے جب وہ ان کو حکمران نہیں بناتی ہے، تب ووٹ کی عزت یاد آجاتی ہے سویلین سپریمسی کا درد جاگ اٹھتا ہے.

اگر پر سکون رہنا چاہتے ہو تو سیاست سے دوری اختیار کرو، یا پھر ثاقب نثار، کھوسہ، اقبال میمن اور علامہ اشرفی کی طرح اسٹیبلشمنٹ کے وفادار بن کے رہو کوئی بھی سیاستدان تمہارا بال بیکا نہیں کر سکے گا. یا پھر طلال چودھری، دانیال عزیز کی طرح موسمی مینڈک بن جاؤ، اپوزیشن کے وقت ساتھ چھوڑ دو اقتدار کے دسترخوان پر مریم کی جئہ ہو کا نعرہ لگا کر شریک ہوجاؤ.
یاد رکھیں آپ کا حساس پن آپ کا دشمن ہے. اس ملک میں نظریہ ہاشمی و صدیقی کامیاب نہیں ہے صرف نظریہ شہباز و تنویر و نثار ہی قابلِ قبول ہے اور وہی کامیاب ہے.
واپس کریں