محمد صالح مسعود
دو ہزار چودہ کے دھرنے کے بعد شاید ہی کسی نیوٹرل نے میرے جتنا خان صاحب کے خلاف لکھا ہو. لوگ مجھے نون لیگ کا کارکن سمجھتے تھے لیکن میں نے کبھی نون لیگ ووٹ نہیں دیا نا ہی کبھی باقاعدہ ان کی رکنیت کا فارم بھرا. حالات ایسے تھے کہ ان کو آئینی طور پر ملے اقتدار چلانے نہیں دیا جا رہا تھا جس کی وجہ سے ان سے ہمدردیاں تھیں. یہ الگ بات ہے کہ ان ہمدردیوں میں حسب عادت ہم سے غلو ہوا تھا. ہم جسے نیلسن منڈیلا سمجھ رہے تھے ان کی منزل ووٹ کی آزادی نہیں اقتدار کی کرسی تھی.
سوشل میڈیا کے متحرک دوست اور اچھے لکھاری بھی جماعت پرستی میں مبتلا ہیں یا لالچ میں مبتلا ہیں. حضرت گل صاحبہ، حضور پاشا صاحب جیسے لوگ جنہوں نے ہمیشہ توہینِ رسالت کو جسٹیفائی کیا ہے ان کو بھی اچانک اسلام کا درد جاگ اٹھا اور توہینِ مسجد نبوی کے اشو پر خوب عوام کا لہو گرمایا. کہ شاید کوئی دوسرا ممتاز قادری پیدا ہو جائے.
حضرت فاروقی نے بھی دادِ مریم کے لیے اپنے قلم کا گھوڑا خوب دوڑیا لیکن ہنوز بارگاہ میں باریابی نا ہو سکی ہے. حامد میر، سلیم صافی سید طلعت حسین، جیسے صاحبانِ قلم کا ذکر کیا کریں انہوں نے بھی حقائق پیش نہیں کیں پروپیگنڈہ خوب کیا جس کے صلے میں حضرت سلیم صافی کو بلاول کی معیت میں عمرہ نصیب ہو گیا، امید ہے باقیوں کے نصیب میں بھی قرعہ نکلنے والا ہوگا.
چلیں خیر ایسے حضرات سے تاریخ بھری پڑی ہے، جنہوں نے اپنی قوم تک سچ پہنچانے کے بجائے صاحبان اقتدار کی ہدایات پر عمل کیا. اگر مولانا طارق جميل نے اپنی دعا اور دستار بیچی ہے تو میرے قلم کار بھی اس سودے میں کسی طرح بھی پیچھے نہیں رہے ہیں.
لیکن.....
میں جس بات کا منتظر تھا وہ نا ہوئی.
ساڑھے تین سالہ اقتدار کے دوران یہی سنتے آئے کہ خان کے جانے کے بعد اس کی کرپشن جو ظاہر ہوگی وہ ام الکرپشن ہوگی جسے دیکھ کر لوگ زرداری اور نواز کو بھول جائیں گے. چنانچہ میں شب و روز اسی انتظار میں تھا کہ کب کسی پانامہ میں خان کی کرپشن ظاہر ہوتی ہے.
مجھے انتظار تھا کوئی اگوسٹا آبدوز کا معاہدہ ظاہر ہوگا، کہیں سوئس میں اکاؤنٹس کی تفصیل سامنے آئے گی، یا خان کا بھی کوئی سرے محل نکل آئے گا، یا سلمان اور قاسم کے نام پر لندن میں اربوں کے فلیٹس نکل آئیں گے، یا علیمہ کے استعمال سے بم۔پروف گاڑی بر آمد ہوگی یا کسی مقصود چپڑاسی یا فالودے والے کے اکاؤنٹس سے اربوں ڈالر نکل آئیں گے لیکن نکلی تو صرف گوگی ہی نکلی.
تھی خبر گرم کہ "غالب" کے اڑیں گے پرزے
دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشہ نہ ہوا
(غالب
فرح کے اثاثوں سے زیادہ تو ایک SSP کے اثاثے نکل آتے ہیں، سندھ کے چند پٹواریوں کے پاس بھی فرح سے زیادہ دولت ہے، میرپور خاص میں ایک 14 گریڈ کے ہندو کلرک کا دبئی اور انڈیا میں کاروبار ہے ، وہاں ایک وزیراعظم نے ساڑھے تین سالوں کے دوران صرف فرح بیبی کو تین بار سفر کروایا اور چند کروڑ کی کرپشن کی. (میں فرح کا دفاع نہیں کروں گا وہ ضرور اپنے دامن سے یہ داغ صاف کریں گی، لیکن سوچنے کی بات ہے وزیراعظم کے منصب پر بیٹھے شخص نے صرف یہی کرپشن کی، واقعی میں خان تو بڑے ہی نا اہل ثابت ہوئے.).
میرا انتظار لا حاصل رہا، باقی کچھ لوگ تو بس پانی میں مدھانی چلانے میں مگن ہیں، مکھن تو یا نصیب ہے باقی روزانہ گوگی پر دس بیس پوسٹس رکھنے سے شاید قیادت کی نظروں میں آجائیں .
واپس کریں