دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
میں تیرے ساتھ کیسے چلوں سجنا
محمد صالح مسعود
محمد صالح مسعود
پیارے خان صاحب،اس وقت آپ پر انتہائی مشکل وقت ہے، ملک بھر میں آپ پر 80 کے لگ بھگ مقدمات درج ہو چکے ہیں، کبھی ECP تو کبھی NAB وارنٹ گرفتاری لئے زمان پارک پر کھڑے ہیں اور میں جانتا ہوں کے سارے جھوٹے مقدمات ہیں لیکن اس سب کے باوجود frankly & honestly speaking مجھے آپ سے ذرا برابر ہمدردی نہیں ہے.میں اُس شخص سے کیسے ہمدردی کروں جو ہزارہ برادری کے جنازوں کا مذاق اڑاتا رہا، سرد راتوں میں چالیس جنازے رکھے ہزارہ برادری کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ ہمارا نگران ہمارا والی ہمارا محافظ ہمارا وزیراعظم صرف ایک بار ہمارے پاس آئے ہمارا دکھڑا سنے لیکن آپ نے کمال بے اعتنائی اور گھمنڈ کے ساتھ ان کے اس مطالبے کو مسترد کر دیا کہ میں بلیک میل ہونے والا نہیں ہوں۔

محترم خان صاحب،،،میں اُس شخص سے کیسے ہمدردی کا اظہار کروں جس نے رمضان المبارک کے با برکت مہینے میں رحمت العالمین مسجد پر گولیاں چلوائیں، 28 معصوم روزیداروں کو شہید کیا.
اُس شخص سے کیسے ہمدردی کروں جس نے ایک معذور اور ناموس رسالت کے محافظ شخص پر ملک بھر میں 1600 سے زائد مقدمات درج کروائے.
میں کیسے ہمدری کروں اُس شخص کے ساتھ جس نے تسلیم کیا کہ مغرب کی رضا کی خاطر ایک شاتمہ مجرمہ کو رہا کیا.
میں کیسے ہمدردی کروں جس نے جاوید ہاشمی کی چاردیواری کا تقدس پامال کیا ان کی بیٹی کا اسکول اور کالج بلڈوز کیا.
میں کیسے ہمدری کا اظہار کروں جس نے ثاقب نثار سے مل کر پنجاب کو Liver Transplant کی سہولت سے محروم کیا.
میں کیسے ہمدردی کروں اس شخص کے ساتھ جس نے خواجہ سعد رفیق اور شاہد خاقان عباسی جیسے بے ضرر اور سنجیدہ سیاستدانوں کو بلاوجہ زندان میں رکھا.

سرکار یہ مکافات عمل ہے کل جن کے کندھوں پر سوار ہوکر آپ انسانوں کو کیڑے مکوڑوں کی طرح مسل رہے تھے آج وہ کام مریم بی بی سے لیا جا رہا ہے. کل کسی اور سے لیا جائے گا. مریم بی بی انتقام میں خوش ہے بلاول صاحب خاموشی سے مستقبل کی راہیں ہموار کر رہے ہیں۔

بس اتنا سا مشورہ ہے حضور بہادر بنیں کیسز کا مقابلہ کریں اگر مقابلہ کرنے کی ہمت نہیں تو ڈیل کر کے باہر چلے جائیں تا کوئی ماں سائے (ظل) سے محروم نا ہو.
ویسے بھی گجرات کی چودھری بنا مقصد کے اپنی پارٹی چھوڑ کر نئ پارٹی میں نہیں جاتے. قائد لیگ اعجاز الحق نے بنائی جسے میاں اظہر سے ہرایا گیا اور میاں اظہر کو صوبائی الیکشن میں ہرا کر پارٹی پر کیسے یاروں کے وفاداروں کو مسلط کیا گیا.
یقین جانیں میں اتنا بڑا آدمی نہیں لیکن آپ کی جگہ ہوتا تو یقیناً قید یوسف کو ترجیح دیتا. لیکن دوسروں کی چھتری کے سائے میں چلنے والے نازک مزاج انسان کہاں سے جیل کی سختی برداشت کر سکتا ہے.
میرے پیارے خان

کاش آپ نے تکبر کی ردی اقتدار کے دوران اتاری ہوتی تو آج یوں تنہا نا ہوتا.
واپس کریں