دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ریاست ماں سے دلتوں کی فریاد
محمد صالح مسعود
محمد صالح مسعود
پرسوں رات حیدرآباد سے گاؤں آتے ہوئے، میں نے وہ مناظر دیکھے کہ بٹوارے کے ہولناک مناظر کتابوں سے نکل کر میرے سامنے رقص کرنے لگے،ہنگورنو سے کھپرو تک تقریباً پچیس کلومیٹر روڈ کے دونوں أطراف لوگ بے سدھ پڑے تھے، مچھروں کے کاٹنے اور گاڑیوں کے ٹائروں تلے کچلے جانے کے ڈر سے بے پرواہ گیلی زمین پر لیٹے تھے، اکا دکا مویشی بھی پاس باندھے تھے، بزرگ بیچارے اپنی جھگیوں کے ڈوب جانے کے غم میں تھے، سارا دن گردن برابر پانی سے گھر کی چیزیں نکالنے والی خواتین نڈھال پڑی تھیں، بچے سہمے ہوئے تھے۔

جی ہاں ماں جیسی مہربان ریاست...
یہ مناظر پرسوں میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھے تھے. چارپائی کی اوٹ میں گیلی لکڑیوں پر کھانا پکانے کی ناکام کوشش کرتی وہ ہندو مائیں، بارش کے پانی سے برتن دھونے والی بیٹیاں، نیم برہنہ بچے، یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ اکیسویں صدی میں نیوکلیئر پاور میں رہنے والے شہری ہیں یا 1943 کے قحط بنگال کے ستائے ہوئے غلام شہری۔
نہیں معلوم انہیں کتنا عرصہ یہاں گذارنا پڑے، شاید چھ ماہ یا اس سے بھی زیادہ عرصہ، روڈ کا یہ کنارہ ان کا کچن بھی تھا، ٹوائلٹ بھی تھا تو بیڈ روڈ روم بھی تھا.
ایک جگہ پر اسپیڈ بریکر بنا تھا، جو شام کے وقت نہیں تھا ، ڈرائیور کو اچانک نظر آیا، ایمرجنسی بریک ماری ، گالیاں دینے لگا کہ یہ کیسے بیوقوف ہیں ہاء وے پر بریکر بنا رہے ہیں.
دل میں سوچا ہاں کتنے بے وقوف لوگ ہیں جو خود بھوکا رہ کر ہمیں اناج پیدا کر کے دیتے ہیں، خود ننگے رہ کر ہمارے بدن کو ڈھانپنے کے لیے کپاس اگاتے ہیں.
یار یہی تو لوگ ہیں جن کی وجہ ہمیں رزق ملتا ہے، اگر یہ غریب نہ ہوتے تو امیر کب کے بھوک سے خود کشی کر چکے ہوتے، آسمان سے رزق کے دروازے ان غریبوں کی وجہ سے تو کھلتے ہیں لیکن ہم نے اس رزق کو اکاؤنٹس میں بند کر کے ان غریبوں کو سڑکوں پر مرنے کے لیے چھوڑا ہے.
نہ کوئی عوامی نمائندہ پہنچا نہ ہی انتظامیہ کا کوئی عملدار، این جی اوز والے تو ویاگرا کی خریداری میں مصروف تھے کہ اب سیو دا چلڈرن جیسی عالمی این جی اوز پہنچیں گی ہم انکے ڈالرز پر پی سی میں خوب موج مستیاں کریں گے، ابھی سے لوکل این جی اوز کے کرتا دھرتاؤں کے اٹھانے شروع کر دیئے ہیں۔
پیاری ماں...
اس علاقے میں مسلم آبادی بھی ہے وڈیرے بھی ہیں لیکن ان کے گھر سلامت تھے، ہر بارش میں برق ان غریب #دلتوں پر ہی گرتی ہے. ایک جگہ بان کی چارپائی پر بیٹھے پانچ جوانوں کے پاس گاڑی روکی، حال احوال پوچھا، اس حالت کے باوجود زبان پر شکرانے کے الفاظ تھے. میں نے ان سے پوچھا یار یہ ہر بار آپ کے ساتھ ایسا کیوں ہوتا ہے؟؟؟
انسان اپنا گھر تو اچھا بنا لے کہ ہر سال اسے نقل مکانی نہ کرنی پڑے.
ایک جوان نے روایتی انداز میں ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا مجیری، ہمارا دل بھی کرتا ہے کہ ہمارا گھر ہو جس میں موسم کی ستم ظريفيوں سے محفوظ رہ سکیں لیکن کیا کریں جہاں بھی جاتے ہیں وہاں کا وڈیرہ پہلی شرط یہی رکھتا ہے کہ اپنا مکان پکا نہیں بناؤ گے ، جب کہوں گا زمین خالی کر کے چلے جاؤ گے، اور یوں 73 سالوں سے ہم یہی ستم سہتے آ رہے ہیں.
سر جی ہم نے انڈیا کو اس لیے چھوڑا کہ وہاں برہمن کے ہوتے ہوئے ہم دلتوں کو حقوق نہیں مل سکتے تھے، پاکستان میں ہمیں جینے کی آزادی ہوگی لیکن میرا دادا میرا والد اسی آزادی کی آس لئے دنیا سے چلے گئے، پتا نہیں ہماری اور کتنی نسلیں اس طرح دربدر ہوتی رہیں گی انہیں دو گز زمین بھی نصیب ہوگی یا نہیں.....

سر جی آپ کو معلوم ہے اس وقت پاکستان میں کم عمری کی شادیاں صرف ہم دلتوں میں ہی ہوتی ہیں، بارہ چودہ سال کی بچی ہوتے ہی اس کی شادی کروالیتے ہیں، کبھی سوچا ہے کہ کیوں؟؟؟ ؟
کیوں کہ سندھ کا وڈیرہ آج بھی ہماری بیٹیوں کو اپنی کنیزیں سمجھتا ہے، ہم سے وہی راجا داہر والا سلوک جاری ہے کہ نئی دلہن کی شب عروسی مہاراجہ کے ساتھ ہوگی...
آج راجا ڈاہر کی جگہ نام بدل کر ہزاروں ڈاہر موجود ہیں جو دلتوں کی عزتوں پر اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں.
مجبوراً غريب والدین اسی ڈر سے کہ بیٹی کہیں کسی ڈاہر وڈیرے کی ہوس کا شکار نہ ہوجائے ہم دلت کم عمری میں شادیاں کروا دیتے ہیں.
سرسنا ہے آپ لکھتے بھی ہیں، تو ہماری یہ فریاد ریاست ماں کو پہنچانا...
بھٹو نے مکان کا اعلان کیا لیکن ایک بھی دلت کو گھر نہیں ملا، بیبی شہید نے بھی اعلان کیا لیکن زمینیں وڈیروں کو ملیں، زرداری نے بینظیر بستی کا اعلان کیا لیکن مکان وڈیروں کے چیلے چمچوں کو ملے ہم آج بھی کھلے آسمان کے نیچے ہیں کوئی پرسانِ حال نہیں.

اگر ریاست ان زمینداروں کو باؤنڈ کرے کہ دس سال زمین پر کام کرنے والے کسان کو بے دخل نہیں کر سکتے ہو، انہیں 50 باء 60 کا پلاٹ دینے کے لیے پابند کرے تو یہ لاکھوں ایکڑ بنجر علاقے بستی بن سکتے ہیں، ہم دلت ہڈ حرام نہیں ہیں، پاکستان کی واحد رزق حلال کھانے والی قوم ہیں، ہم کسے این جی او کے بغیر اپنا مکان کھڑا کر سکتے ہیں. ہم خود دار ہیں ہمیں بھکاری مت بنائیں ہمیں ریاست صرف چند گز زمین الاٹ کرے. بحریہ ٹاؤن یا ڈی ایچھ اے کے پلاٹ کا مطالبہ نہیں بس کسی سرکاری ٹیلے پر، صحرائے تھر کی لاکھوں ایکڑ زمین پر ایک مکان بنانے کی اجازت دی جائے پھر ہم ریاست پر بوجھ نہیں ہوں گے.
سر جی ہمارا یہ پیغام ریاست ماں لو پہنچاؤ گے نا....
واپس کریں