طاہر چوہدری
کل لاہور کے مشہور ایک لا کالج میں جانا ہوا۔ گپ شپ کے دوران پتہ چلا کہ کالج کے پرنسپل ہائیکورٹ کے فلاں ریٹائرڈ جج صاحب ہیں۔ میں نے چونک کر پوچھا۔ کالج کے پرنسپل تو فلاں صاحب نہیں ہوا کرتے تھے؟ جب سے کالج بنا ہے وہی پرنسپل چلے آ رہے ہیں۔ وہ ادارے سے الگ ہو گئے؟
میرے میزبان بولے سر، ہائیکورٹ نے لا کالجز کو پابند بنایا ہے کہ اس کا پرنسپل ہائیکورٹ کا جج ہونا لازمی ہے۔ سادہ ایل ایل بی یا وکیل پرنسپل نہیں ہو سکتا۔ کالج کو چلا پرانے پرنسپل ہی رہے ہیں لیکن اب ان کا عہدہ کچھ اور ہے۔ پرنسپل فلاں جج صاحب ہیں۔
میں سوچ میں پڑ گیا۔
فوجی اسٹیبلشمنٹ اپنے فوجی افسران کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اچھے سویلین عہدوں وغیرہ کی صورت عیاشی لگوائے رکھتی ہے۔ عام فوجی بیچارہ کہیں گارڈ کی نوکری کرتا ہے یا کوئی اور چھوٹی موٹی ملازمت جبکہ بڑے صاحب ریٹائر ہو کر بھی کسی بڑے عہدے پر۔
یہی کچھ جج صاحبان بھی کرتے ہیں۔ کچھ پالیسیز ایسی بنا لی جاتی ہیں کہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ان کی نوکریاں پکی ہوتی ہیں۔ بلکہ پہلے سے بڑھ کر تنخواہوں والی۔
ریٹائرڈ ججوں کو کھپانے کیلئے کالجز کو پابند کر دیا گیا کہ وہ اپنا پرنسپل ہر حال میں ریٹائرڈ جج رکھیں گے۔
کالج ختم ہو جائیں اور ریٹائرڈ جج ابھی بھی باقی ہوں تو پھر چندہ اکٹھا کر کے ان کی تنخواہ کے برابر پیسے پورے کر کے انہیں دیے جائیں۔
ایک بندہ جو 20 سال سے پرنسپل چلا آ رہا ہے اور درس و تدریس ہی جس کی ترجیح رہی ہو اس میں یکدم ایسی کیا خرابی ہو گئی کہ وہ پرنسپل کے طور پر کام نہیں کر سکتا اور ایک بندہ جس نے کبھی نہیں پڑھایا یا بطور پرنسپل/استاد کوئی تجربہ نہیں اس میں یکدم ایسی کیا خاص بات ہو گئی کہ پرنسپل بس وہی بن سکتا ہے؟
جرنیل اور جج صاحبان! ساری زندگی تھوڑی کمائی کر لی؟ کیوں میرٹ کی دھجیاں اڑاتے ہو؟ سویلین اداروں پر بوڑھے جرنیل، دوسرے ملکوں میں سفیر جرنیل۔ بھائی جس نے سفارتکاری کی تعلیم حاصل کی ہے۔ انٹرنیشنل ریلیشنز کو پڑھا اور مہارت حاصل کی ہے۔ اسے ملک بدر کر دیں؟
واپس کریں