دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
آپ کو سینیٹر عرفان صدیقی یاد ہے؟
طاہر چوہدری
طاہر چوہدری
آپ کو سینیٹر عرفان صدیقی یاد ہے؟ پڑھنے لکھنے والا بندہ تھا۔ بزرگ تھا۔ رات کے اندھیرے میں اسے اس کے گھر سے، اس کے بچوں کے سامنے اٹھوایا گیا۔ بدتمیزی کی گئی۔ ہتھکڑیاں ڈالی گئیں۔ عدالتوں میں گھسیٹا گیا۔ قصور کیا تھا؟ وہ نواز شریف کا حمایتی تھا، اس کے حق میں لکھتا تھا۔ آپ نے کوئی مذمت نہیں کی۔ ویسے دکھ اور تکلیف کا اظہار نہیں کیا جیسے آج سینیٹر اعظم سواتی سے متعلق کر رہے ہیں۔
اعظم سواتی کے ساتھ جو کچھ ہوا بدترین ہے۔
آپ کو حامد میر، ابصار عالم، مطیع اللہ جان، اسد طور، احمد نورانی یاد ہیں؟ کیسے انہیں گولیاں ماری گئیں۔ بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ آپ خاموش رہے کہ یہ آپ کے مخالف کیمپ کے صحافی تھے۔
آج آپ ارشد شریف کی موت اور اس کے ساتھ ہوئے ظلم کا رونا روتے ہیں۔ کس منہ سے؟ یہ آپ کی اس بربریت اور قتل کی مذمت نہیں بلکہ حقیقت میں اپنے کیمپ کے ایک صحافی پر ہوئے ظلم پر واویلا ہے۔ مخالف کیمپ کے صحافی کو گولیاں ماری جائیں، تشدد کیا جائے تو آپ لبوں کو سی لیں۔ اپنے ساتھ ہو تو شور۔
آپ قتل اور تشدد کے مخالف نہیں بلکہ صرف اس بات کے مخالف ہیں کہ میرے والوں کے ساتھ نہ ہو بس۔
اسی طرح آپ اینٹی اسٹیبلشمنٹ نہیں بلکہ آپ کی لڑائی صرف یہ ہے کہ ہاتھ دوسروں کے سر سے اٹھا کر میرے سر پر رکھا جائے۔
جو جو آپ کے مخالف کیمپ میں ہو گا وہ چور، ڈاکو، قاتل، لٹیرا ہو گا۔ اس کا قتل، اسے گولیاں تک مارا جانا جائز ہو گا۔ لیکن ان میں سے جو جو آپ کے ساتھ ملتا جائے گا۔ نیک ہوتا جائے گا۔ اس کے کرپٹ، ڈاکو، لٹیرا وغیرہ ہونے کے سارے گناہ ایک دم صاف ہو جائیں گے۔ اب اس پر حملہ انسانی حقوق کی بدترین پامالی اور بربریت کی مثال ہو گی۔
ارشد شریف، ایک جوان موت کا کسے افسوس نہیں ہو گا۔ یقینا ایک انتہائی کربناک اور تکلیف دہ لمحہ ہے۔ لیکن یہ موت کئیوں کی اصول پسندی، ماورائے عدالت قتل، تشدد کے موقف کی قلعی چاک کر گئی ہے۔
واپس کریں