دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
مردہ سنت اور سو شہیدوں کا ثواب!
قاری حنیف ڈار
قاری حنیف ڈار
امت مسلمہ میں اس قدر اجماع کسی عمل پر نہیں ہؤا جتنا چھ سالہ بچی کے ترک نکاح پر ہؤا ۔عرب و عجم میں پوری امت ساڑھے چودہ سو سال سے اس بات پر مجتمع ہے کہ چھ سال کی بچی نکاح کے قابل نہیں ہوتی اور چھ سال کی بچی کا نکاح نہیں کیا جائے گا ۔ صحابہ و تابعین اور تبع تابعین سے لے کر صحیحین کے منصفین سمیت اصحاب السنن اور وہ تمام محدثین اور علم الرجال کے ماہرین نیز موجودہ زمانے کے شیوخ الحدیث اور ائمہ حرمین سمیت کسی نے بھی چھ سالہ بچی سے نکاح نہیں کیا نہ ہی اپنی بیٹی یا پوتی یا نواسی کسی کو چھ سال کی عمر میں بیاہ کر دی ۔۔۔

اس عمل کی کراہت اس قدر شدید اور ناقابل تسلیم ہے کہ یہ سب عبقری بس کتابوں میں لکھ لکھ کر ہی ثواب کماتے رہے ، کہ اس امت میں بس ایک ہی ابوبکر صدیق نام کا آدمی گزرا ہے ، اللہ ان سے راضی ہو کہ انہوں نے اپنی چھ سالہ بچی کسی کے نکاح میں دی تھی ۔

اور اس امت میں صرف ایک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی اکیلے گزرے ہیں جنہوں نے ایک چھ سالہ بچی سے شادی کی تھی ،اس کے بعد ان کے امتی اس سنت کو دہرا نہیں سکے۔ کسی کے طعنے کا علاج دکانیں اور گاڑیاں جلانا یا سڑکوں پر ٹائر جلا کر سارا دن پاگلوں کی طرح ہر ایک کو کاٹ کھانا نہیں بلکہ گھر گھر ،گلی گلی اس سنت کو عام کرنا ہے ۔ سب سے پہلے اپنی مسجد کے امام سے اس کی چھ سالہ بیٹی کا رشتہ مانگیے ۔ پھر ان مشائخ اور مدارس کے مہتمم حضرات کے گھروں کا گھیراؤ کر کے ان سے ان کی چھ سالہ بیٹیوں ، پوتیوں اور نواسیوں کے رشتے مانگیے اور اسی طرح مجمع عام میں نکاح کیجئے جس طرح ڈاکٹر ذاکر مجمع لگا کر ھندوؤں کو مسلمان کرتا ہے ۔اپنے اپنے سینٹ پال سے مطالبہ کیجئے کہ وہ سنت صدیق کو زندہ کریں ہم سنت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کو زندہ کرنے کے لئے تیار ہیں ۔۔

اگر یہ نہیں تو پھر خدا را صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی اس الزام سے بری کر دیجئے ۔

واپس کریں