قاری حنیف ڈار
حکومت کے خلاف تحریک چلائی جا سکتی ہے مگر ملک کے خلاف تحریک چلانا ، سول وار کی دھمکی دینا ۔ بینکوں سے پیسے نکال کر ، زر مبادلہ روکنے کی اپیل کر کے اور یوٹیلیٹی بلز جمع نہ کرانے کے حلف لے کر ملک کو دیوالیہ کرنے کی مسلسل اور انتھک جدوجہد کرنا صرف پی ٹی آئی کا ہی اعزاز ہے ۔
ایک قاضی کی عدالت میں دو عورتوں کا مقدمہ آیا جو ایک بچے کو اپنا اپنا بچہ کہہ کر ملکیت کا دعویٰ کر رہی تھیں ۔ ڈی این اے کا زمانہ نہیں تھا ۔۔جس عورت نے بچہ اٹھایا ہؤا تھا اس کی فیصلہ کن دلیل یہی تھی کہ چونکہ میرے پاس ہے لہذا یہ میرا بچہ ہے ۔ دوسری عورت نے کہا کہ وہ بچے کو اٹھائے گی اگر بچہ اس کے پاس نہ آئے تو وہ دعویٰ ترک کر دے گی ۔ قابض عورت نے کہا کہ یہ میری سہیلی ہے اور پڑوسی ہونے کے ناطے ہر وقت ہمارے گھر میں گھسی رہتی ہے لہذا بچہ اس کے ساتھ بہت مانوس ہے ۔
تنگ آ کر قاضی نے فیصلہ کیا کہ بچے کو دو ٹکڑے کر کے دونوں عورتوں کو دے دیا جائے ۔ جس عورت نے بچہ اٹھایا ہؤا تھا وہ خاموش رہی مگر دوسری عورت چیخ پڑی کہ بچے کو کچھ مت کیجئے میں اپنا دعویٰ واپس لیتی ہوں بیشک اس عورت کے پاس رہے زندہ تو رہے گا ، یہ دیکھ کر قاضی نے بچہ اس عورت کو سونپ دیا اور کہا کہ حقیقی ماں کے ردعمل نے بتا دیا ہے کہ بچے کی سلامتی اسے اپنی ملکیت سے زیادہ عزیز ہے ۔
اس اصول کو دیکھیں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ اور دیگر سیاسی جماعتوں نے احتجاج کی ایک حد مقرر کر رکھی ہے ، جہاں سے ملکی سلامتی داؤ پر لگ جائے وہ نہ صرف وہاں رک جاتی ہیں بلکہ ہر شرط منظور کر کے حکومت کرنے کے دعوے سے دستبردار ہو جاتی ہیں ۔ پی ٹی آئی واحد جماعت ہے جس کو ملک سے رائی کے دانے کے برابر دلچسپی نہیں ،ملک دیوالیہ ہو یا ٹوٹ جائے ان کے فرشتوں کو بھی پرواہ نہیں ، چار سال کی حکومت میں انہوں نے نالائقی اور عدم دلچسپی کے ریکارڈ قائم کر دیئے ۔ عمران نیازی کے نشے کی عادت سے سب واقف ہیں ۔ اس کے قریب ترین رشتوں نے تفصیلات بیان کی ہیں ۔ یہ لکیریں کھینچ کر سوتے اور دوپہر کو اٹھتے تھے ۔ ( خان صاحب چاہیں تو اپنا بلڈ ٹیسٹ کروا کر نتیجہ نیگیٹو آنے کی صورت میں مجھ پر ہتک عزت کا دعویٰ کر سکتے ہیں ) پرائم منسٹر ھاؤس میں پارٹی کے اجلاس ہوتے تھے ، کابینہ اجلاسوں میں بھی پارٹی معاملات ہی ڈسکس ہوتے ، سوشل میڈیا ترجمانوں کے اجلاس بلا کر گھنٹوں واہ واہ کے ڈونگرے برستے اور مخالفین کی ماں بہن ایک کرنے کے احکامات صادر ہوتے ۔ پارلیمنٹ سے کسی قسم کی کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔ وزیراعظم ھاؤس وزارت خارجہ اور داخلہ کی کرسیوں پر ٹک ٹاکر لڑکیاں پھدکتی پھرتیں اور چوتھے فلور پر خراج وصول کیئے جاتے ۔ پاکستان رنگیلے شاہ کے حوالے تھا جو فیصلے نہیں کرتا تھا بلکہ اس کو ٹی وی سے خبر ملتی تھی کہ پاکستانی روپے کی قیمت پچاس فیصد گرا دی گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان دیوالیہ ہونے سے صرف دو ماہ دور تھا کہ حقیقی ماں کو ڈرواہ دیا گیا کہ تیرا بچہ دولخت ہو جائے گا اور اس بیچاری نے اپنی انا ایک طرف رکھتے ہوئے ملک کو بچانے کا ذمہ اپنے سر لے لیا ۔۔ زرداری کرپٹ ہو گا مگر وہ ملک دشمن نہیں ہے ۔
بینظیر بھٹو کی شہادت والے دن سندھ تعصب کی آگ میں جل رہا تھا اور پاکستان نہ کھپے کا نعرہ لگ چکا تھا ۔ اس انتہائی گھمبیر صورتحال میں بھی واحد شخص زرداری تھا جو اس آگ کے سامنے کھڑا ہو کر گرجا کہ پاکستان کھپے ۔ پاکستان سلامت رہے ۔ نواز شریف نے زار و قطار روتے ہوئے الیکشن بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ۔۔ مگر یہ زرداری تھا کہ جس نے نواز شریف کی منت کر کے الیکشن لڑنے پر آمادہ کیا تا کہ اس الیکشن کو معتبر بنایا جائے ۔
عمران خان جمائمہ پر ایک پرچہ بننے کا انتقام ملک توڑ کر لینا چاہتا ہے ، اس کو یہ صدمہ ہی برداشت نہیں ہو رہا ، کیونکہ اس کا اس ملک میں ہے ہی کوئی نہیں ، اس نے ملک کو دیوالیہ کر کے ڈائری اٹھانی ہے اور اپنے اثاثوں ،سلمان قاسم اور ٹیرین کے پاس چلے جانا ہے ۔
کپڑا مالکوں کا پھٹتا ہے ، دھوبی کی بس ایک چھو خرچ ہوتی ہے ۔۔
واپس کریں