کپتان صاحب ہارا ہوا میچ تماشائی میدان میں اتار کر جیتیں گے؟
سید مجاہد علی
یہ کہے بغیر کہ اپوزیشن نے قومی اسمبلی میں نمبر پورے کر لئے ہیں، عمران خان کے طرز عمل سے لگتا ہے وہ میچ ہار چکے ہیں لیکن اسے تسلیم کرنے کا حوصلہ جمع نہیں کر پا رہے۔ وزیر اعظم اور ان کے ساتھیوں نے تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد جو ہیجانی کیفیت پیدا کی ہے، وہی ان کے خوف اور اعتراف شکست کی سب سے بڑی علامت ہے۔
اب یہ بے معنی ہو چکا ہے کہ اسمبلی میں نمبروں کی گنتی کیسے پوری ہوتی ہے اور پلڑا کس طرف جھکتا ہے۔ عمران خان اگر عدم اعتماد سے بچ بھی گئے تو بھی وہ باقی ماندہ مدت میں ملک کے چیف ایگزیکٹو سے زیادہ پرائم منسٹر ہاؤس کے ’چوکیدار‘ سے زیادہ اہم نہیں رہیں گے۔ بدقسمتی سے یہ صورت حال عمران خان نے خود اپنی عاقبت نا اندیشی کی وجہ سے پیدا کی ہے۔ تحریک انصاف کے جن ارکان اسمبلی کو وزیر اعظم کی کمزوری کا علم نہیں بھی تھا، اب وہ بھی سوچنے پر مجبور ہوچکے ہیں کہ اس شخص کی قیادت میں ان کا سیاسی مستقبل کیا ہو گا۔ عمران خان تو اپنے ہی بقول ’نیا پاکستان‘ تعمیر کرنے کے لئے سیاست کر رہے ہیں لیکن ان کے سب ساتھی خاندانی وراثت، شخصی مفاد کی حفاظت اور وقتی فائدے کے لئے سیاست کرتے ہیں۔ کیا کوئی اس حقیقت کو نظر انداز کر سکتا ہے کہ عمران خان اگر اقتدار میں نہ رہے تو ان کے نورتنوں میں سے کتنے کسی نئی حکومت میں شامل ہونے کے لئے ایک بار پھر الٹی قلابازی نہیں لگائیں گے؟
شیخ رشید، فواد چوہدری، شاہ محمود قریشی یا پرویز خٹک کسی جیل کی کوٹھری کے مقابلے میں جھنڈے والی گاڑی میں بیٹھنے کو ہی ترجیح دیں گے۔ جب سیاست ایسے دوراہے پر آ جائے تو ایسے کرداروں کے لئے فیصلہ کرنا مشکل نہیں ہوتا۔ بدقسمتی سے پاکستانی سیاست میں کوئی لیڈر پہلی بار ایسے دوراہے پر نہیں پہنچا۔ البتہ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس بار وزیر اعظم نے بنفس نفیس یہ اہتمام کیا ہے کہ وہ سیاست کو ایک ایسے موڑ پر لے آئیں جہاں سیاسی زندگی یا موت میں سے ایک کا فیصلہ کرنا ناگزیر ہو جائے۔ عمران خان اگر اپوزیشن کو صلواتیں سنانے کے بعد ٹھنڈے پانی کا گلاس پی کر سوچیں تو جان سکیں گے کہ اس سفر میں سب حیات نو کے ہمراہی ہوتے ہیں۔ بند گلی میں دھکا دینے والے تو مل جاتے ہیں لیکن اس گلی میں ساتھ کھڑا رہنے والا دستیاب نہیں ہوتا۔ عمران خان اس بند گلی کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
نہ جانے وہ کون سا نابغہ وقت تھا جس نے عمران خان کو یہ سبق ازبر کروایا ہے کہ وہ جمہوریت کے نام پر سیاست کرتے ہوئے عوامی نمائندوں سے دشمنی کا رشتہ استوار کریں گے تو کوئی ان کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں ہو گا۔ یہ درست ہے کہ نواز شریف اور آصف زرداری کے خلاف ایک پرہنگام ماحول پیدا کرنا اور ان کی کردار کشی کے ذریعے یہ تاثر قوی کرنا کہ وہ بدعنوان اور سرکاری خزانہ لوٹنے والے ہیں، عمران خان کی سیاسی مجبوری تھی۔ انہیں کرپشن کا ورد پڑھتے ہوئے اپنے سیاسی مخالفین پر چڑھ دوڑنے کا پیغام دیا گیا تھا اور بدلے میں وزارت عظمی کی پیش کش ہوئی۔ اندھے کو کیا چاہیے دو آنکھیں کے مصداق عمران خان نے پوری تندہی سے اس نعرے کو زبان زد عام کروانے کے لئے محنت شروع کر دی۔ تاہم وہ یہ سمجھنے سے قاصر رہے کہ جو عناصر نواز شریف اور آصف زرداری کو پاکستانی سیاست سے منفی کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، ان کا مسئلہ کرپشن کا خاتمہ نہیں تھا۔ بلکہ وہ ان دونوں لیڈروں کی فراست اور تجربہ سے خوف زدہ تھے۔ وہ جان گئے تھے کہ اس بار تو میمو گیٹ اسکینڈل اور ڈان لیکس جیسے عذر کھڑے کر کے فوج کے سیاسی کردار پر اٹھنے والے سوالوں کو دبا دیا گیا ہے لیکن اگر ان لیڈروں کو سیاسی منظر نامہ پر مسلسل قبولیت حاصل رہی تو وہ کسی اگلے مرحلے میں ضرور فوج کو اپنی آئینی حدود کا پابند کرنے اور سیاسی و قومی معاملات کو مکمل طور سے عوام کے منتخب نمائندوں کے حوالے کرنے پر مجبور کریں گے۔
اسٹبلشمنٹ سیاسی اختیار سے اجتناب کو ’قومی مفاد‘ کے برعکس سمجھتی رہی ہے۔ اس کے نزدیک یہی ملکی آئین ہے اور اسی اصول کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔ تاہم 90 کی دہائی میں پنجہ آزمائی کے دوران اور بعد میں جیسے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کا کھیل کھیلا گیا، وہ بالآخر دونوں پارٹیوں کے قائدین کو 2006 میں میثاق جمہوریت تک لے آیا۔ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں جو قربت پیدا ہوئی، وہ ملکی سیاست میں ایک مثبت اور صحت مند تبدیلی کا پیش خیمہ ہو سکتی تھی۔ سیاسی استحکام اور سیاسی لیڈروں کے درمیان احترام کا ماحول اسٹبلشمنٹ کے اختیار پر براہ راست وار تھا۔ اس کا مظاہرہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں مسلم لیگ (ن) کے تعاون سے ہونے والی اٹھارہویں آئینی ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ تھا جس میں چھوٹے صوبوں کے مالی استحقاق کو تسلیم کیا گیا تھا۔ باہمی سیاسی مفاہمت سے سیاسی معاملات طے کرنے کا یہ طریقہ راسخ ہوجاتا تو ملک صحت مند دو پارٹی نظام کی جانب پیش قدمی کر سکتا تھا جس سے ملک کا آئینی پارلیمانی نظام مستحکم ہوتا اور معاشی احیا کے لئے حالات سازگار ہو جاتے۔
یہ ہم آہنگی مقتدر حلقوں کے لئے ناقابل قبول تھی کیوں کہ اس میں سیاسی فریقین کو آپس میں لڑا کر بادشاہ گر بننے کے مواقع محدود ہو جاتے۔ اس صورت حال کو پیپلز پارٹی کے دور میں میمو گیٹ اسکینڈل کے ذریعے تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی اور نواز شریف کو اس میں فریق بنا کر سیاسی قیادت میں تفریق پیدا کرنے کا مقصد حاصل کر لیا گیا۔ تاہم اسٹبلشمنٹ کو یہ اندازہ ہو چکا تھا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی پارلیمنٹ کی بالادستی کے مقصد پر زیادہ سپیس دینے پر آمادہ نہیں ہوں گی لہذا 2014 میں عمران خان اور طاہر القادری کے ذریعے دھرنے کا ڈرامہ رچا کر ان دونوں سیاسی قوتوں کو کمزور کرنے اور سیاسی گروہ بندی میں ایک من چاہی تیسری سیاسی قوت کی جگہ بنانے کا اہتمام کیا گیا۔ اس وقت پارلیمنٹ میں سیاسی اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس ’سازش‘ کو ناکام بنا دیا گیا لیکن پارلیمانی اتحاد کے اسی مظاہرے کے بعد درحقیقت تحریک انصاف کو قوت بخشنے کا فیصلہ ہوا اور عمران خان کو وزیراعظم کے منصب پر فائز کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا۔ اس منصوبہ کی تکمیل کے لئے تحریک لبیک کے دھرنوں سے لے کر پاناما کیس تحقیقات کے نام پر رچائے گئے ڈرامے کو پوری مستعدی اور مہارت سے استعمال کیا گیا۔
انتخابات میں کی جانے والی انجینئرنگ کے نتیجہ میں عمران خان 2018 کے انتخابات میں سب سے ’مقبول‘ لیڈر بن کر ابھرے اور باقی کمی لے پالک سیاسی گروہوں کو تحریک انصاف کے ساتھ مل کر حکومت بنانے پر آمادہ کر کے پوری کردی گئی اور عمران خان اگست 2018 میں وزیر اعظم بننے میں کامیاب ہو گئے۔ البتہ ان سے دو سنگین غلطیاں سرزد ہوئیں :
1) ملکی معاشی استحکام کا کوئی منصوبہ تیار نہیں کیا جا سکا۔ اس کی بجائے ہیلتھ کارڈ اور احساس پروگرام جیسے مہنگے سرکاری منصوبوں کے ذریعے ذاتی مقبولیت بڑھانے پر زور دیا گیا۔ اس دوران یہ بھی فراموش کر دیا گیا کہ کرپشن کا نعرہ اقتدار تک پہنچنے کے بعد ناکارہ ہو چکا تھا۔ اس کے بعد کارکردگی نے ہی عمران خان کی کامیابی کی ضمانت فراہم کرنا تھی۔ اس طرف توجہ دینے کی بجائے ملک میں ہیجان اور الزام تراشی کا شدید ماحول پیدا کیا گیا۔ اس سنسنی خیزی کی وجہ سے ملک میں سرمایہ کاری اور معاشی استحکام کا مقصد حاصل نہیں ہوسکا۔
2) عمران خان مقبولیت کے زعم اور اسٹبلشمنٹ کی سرپرستی کے گمان میں یہ بھی فراموش کر بیٹھے کہ ان کی حقیقی طاقت پارلیمنٹ ہے۔ انہیں اپنی پارٹی کے ارکان کے علاوہ اتحادیوں کو بھی مطمئن کرنا ہے اور اپوزیشن سے بھی صحت مند تعلقات استوار رکھنے ہیں کیوں کہ اپوزیشن ارکان بھی عوام کے ووٹ لے کر ہی قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوتے ہیں۔ لیکن کسی سیاسی منشور کے بغیر اسٹبلشمنٹ کی تیار کی گئی سازش اور ایک نام نہاد ہائبرڈ نظام کے نتیجے میں اقتدار تک پہنچنے کے بعد عمران خان یہ اندازہ نہیں کرسکے کہ وہ تن تنہا مرکز اور پنجاب میں بیک وقت معاملات نہیں چلا سکیں گے۔ عثمان بزدار جیسے کمزور شخص کو بدستور وزیر اعلیٰ بنائے رکھنے کی واحد قابل فہم وجہ یہی بیان کی جا سکتی ہے کہ عمران خان کسی ایسے لیڈر کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ نہیں دینا چاہتے جو ان کے اختیار اور قیادت کو چیلنج کر سکتا۔
اس کے باوجود بے ڈھنگی ہی سہی معاملات کسی طور سے چل رہے تھے اور اسٹبلشمنٹ بھی صبر سے اپنے ہائبرڈ نظام کی ناکامی کو برداشت کر رہی تھی لیکن طاقت کے بے بنیاد گمان میں مبتلا عمران خان نے قومی سلامتی، خارجہ امور اور بین الملکی تعلقات کے بارے میں پے در پے متنازعہ بیانات دے کر ملکی اور عالمی سطح پر اپنی قیادت کے بارے میں شبہات کو راسخ کیا۔ عمران خان جسے پاکستان کی غیر جانبدار پالیسی کہتے ہیں، اس کی حقیقت یہ ہے کہ سعودی عرب اور چین جیسے دوست ملکوں سے تعلقات میں سرد مہری آ چکی ہے۔ امریکہ پاکستان کو غیر ضروری بوجھ سے زیادہ اہمیت نہیں دیتا اور عالمی اداروں میں پاکستان کی سیاسی پوزیشن کی کوئی پذیرائی نہیں ہے۔ یوکرائین پر روسی حملے کے موقع پر عمران خان کی ماسکو میں موجودگی اور صدر پوتن سے طے شدہ ایک گھنٹے کی ملاقات کو تین گھنٹے طویل کرنے پر رضامندی نے طاقت ور دارالحکومتوں میں پاکستان کی پوزیشن کمزور کی ہے۔ سیاسی جلسوں میں یورپی ملکوں کو اپنا دشمن قرار دے کر اور حامیوں کے ذریعے اپنے خلاف عالمی سازش کی افواہیں عام کروا کے صورت حال کو مزید مشکل بنا دیا گیا ہے۔ اس پر جب فوج ’غیر جانبدار‘ رہنے کا اعلان کرتی ہے تو اسے حیوانی صفت بتا کر خود کو سپر مین ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
تحریک عدم اعتماد ایک سیاسی فیصلہ اور آئینی طریقہ ہے۔ اس پر قومی اسمبلی میں فیصلہ کروا کے آگے بڑھا جاسکتا تھا لیکن یہ تحریک پیش ہونے کے بعد عمران خان نے پر جوش عوامی مہم کا سلسلہ شروع کر کے یہ اعتراف کیا ہے کہ انہیں قومی اسمبلی میں اکثریت کی حمایت حاصل نہیں رہی اور اب وہ عوام کی حمایت سے اس کمی کو پورا کریں گے۔ عمران خان ہمیشہ سیاست کو کرکٹ کی اصطلاحات میں بیان کرتے ہیں۔ اس حوالے سے سمجھنے کی کوشش کی جائے تو تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے موقع پر اسلام آباد میں 10 لاکھ حامیوں کو جمع کرنے کا اعلان بالکل ایسے ہی ہے کہ ہارنے والی ٹیم کا کپتان تماشائیوں کو میدان میں آ کر میچ خراب کرنے کی دعوت دے۔ وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے احتجاج کی وجہ سے کوئی مسئلہ ہوا تو ’تحریک عدم اعتماد کا معاملہ پیچھے رہ جائے گا‘ ۔ قومی اسمبلی میں اکثریت سے محروم ہونے کا اس سے واضح اشارہ اور کیا ہو سکتا ہے۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپوزیشن سے پوچھا ہے کہ اگر ان کے 172 ارکان پورے ہیں تو وہ اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کیوں کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ سوال اپنے وزیر اعظم سے نہیں کیا کہ اگر انہیں اکثریت کی حمایت حاصل ہے تو وہ ڈی گراؤنڈ پر دس لاکھ حامی کیوں جمع کرنا چاہتے ہیں؟
واپس کریں