دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پاکستان میں انتخابات کا انعقاد ایک چیلنج سے کم نہیں
غریدہ فاروقی
غریدہ فاروقی
ملک کے دیگر حصوں کی طرح شہر اقتدار میں بھی موسم سرما نے آہستہ آہستہ ڈیرے ڈالنے شروع کردیے ہیں۔ سرد ہواؤں کی شدت میں اضافے کے ساتھ ملک میں سیاسی درجہ حرارت میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابات کے مبہم اعلان نے صورت حال مزید دلچسپ کردی۔ ایسے میں سیاسی قیادت کی سرگرمیوں میں دن بدن اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ان سب چیزوں سے یہ بات واضح ہے کہ الیکشن کا طبل بج چکا ہے اور تمام سیاسی جماعتوں نے اس سلسلے میں تیاریوں کا آغاز کر دیا ہے۔
گذشتہ کئی دنوں سے مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت مسلسل خبروں کی زینت بنی ہوئی ہے۔ سب سے پہلے نواز شریف کی وطن واپسی کا اعلان ہوا اور اس کے فوراً بعد سابق وزیراعظم کی جانب سے حیران کن طور پر 2017 کے کرداروں کے احتساب کا بیانیہ سامنے آ گیا۔
احتساب کا بیانیہ سامنے آنے کے بعد مسلم لیگ ن میں بڑی ہلچل دکھائی دی اور اس سلسلے میں شہباز شریف وطن واپسی کے چند گھنٹوں بعد ایک اہم پیغام لے کر دوبارہ لندن روانہ ہو گئے۔ اس کے بعد ان کی نواز شریف کے ساتھ ایک اہم بیٹھک ہوئی اور اس میں کئی اہم فیصلے ہوئے۔
یہ لگ رہا تھا کہ 2017 کے کرداروں کا احتساب، نواز شریف اور ن لیگ کا نیا بیانیہ بننے جا رہا ہے لیکن گذشتہ دنوں پارٹی کے سینیئر رہنما اور میاں نواز شریف کے قریبی ساتھی جاوید لطیف کی پریس کانفرنس کے بعد یہ لگ رہا ہے کہ مسلم لیگ ن اپنے اس بیانیے سے پیچھے ہٹ رہی ہے۔
اسی طرح اکثر نیوز چینلز میں بیانیے کے سوال پر لیگی رہنما یا تو سوال گول کر گئے یا پھر یہ کہہ کر جان چھڑوا لی کہ فی الحال ہمارا بیانیہ عوام کی تعمیر و ترقی کے گرد گھومے گا، بعد میں اگر موزوں وقت ہوا تو احتساب بیانیے پر بات کی جائے گی۔
اب نواز شریف وطن واپسی پر کون سا بیانیہ اپنائیں گے، یہ تو وقت ہی بتائے گا مگر فی الحال یہ بات اہم ہے کہ ایسے اچانک ن لیگ کو جرنیلوں اور ججوں کے احتساب کا بیانیہ کیوں یاد آ گیا؟
کیونکہ جن لوگوں کے خلاف اب نواز شریف احتساب کی بات کر رہے ہیں، ماضی میں وہ انہی سے مستفید ہوتے آئے ہیں اور یہ بات بھی سب کو معلوم ہے کہ کس طرح ن لیگ نے سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی توسیع سے متعلق قانون سازی میں حصہ لیا۔
اسی طرح ابھی حال ہی میں جب ن لیگ کی اتحادی حکومت تھی اور شہباز شریف وزیراعظم تھے تو تب انہیں اس احتساب کا خیال کیوں نہ آیا؟ احتساب تو درکنار، ان کی حکومت تو ان کا دفاع تک کر رہی تھی؟ اس صورت حال میں اب اس بیانیے کی کوئی خاص اہمیت نہیں رہی کیونکہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جب جب الیکشن نزدیک آ جاتے ہیں تو مسلم لیگ ن کھوکھلے نعروں سے ووٹ حاصل کرنے کی تگ و دو میں لگ جاتی ہے۔
اسی طرح حال ہی میں نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کے ایک معمول کے بیان پر ن لیگ نے شدید ردعمل کا مظاہرہ کیا، جو اس بیان کے برعکس کچھ زیادہ لگ رہا تھا۔ یہاں تک کہ سابق وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے نگران وزیر داخلہ کو ایک طرح سے دھمکی تک دے دی کہ کچھ کرنے سے پہلے شیخ رشید کا حال دیکھ لیں۔ ن لیگ کے اس طرح کے ردعمل سے لگنے لگا کہ اب وہ بھی نگران حکومت سے پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کی طرح لیول پلیئنگ فیلڈ نہ ملنے کا شکوہ کر رہی ہے لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس لگ رہے ہیں۔ ایسے محسوس ہو رہا ہے کہ آئندہ انتخابات میں ن لیگ کو ایک بار پھر برسر اقتدار لانے کے لیے تیاریاں ہو رہی ہیں۔بلوچستان سے خبریں ہیں کہ شاید بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی)، مسلم لیگ ن میں ضم ہونے جا رہی ہے۔ بی اے پی کا جھکاؤ کس طرف ہے یہ پورے پاکستان کو معلوم ہے۔ بی اے پی میں وہ افراد شامل ہیں، جو ہر دور میں اقتدار میں رہے ہیں اور انہیں ہر مرتبہ مقتدر قوتوں کی حمایت حاصل رہی ہے۔ اگر بی اے پی ن لیگ میں ضم ہوجاتی ہے تو اس سے یہی بات اخذ کی جا سکتی ہے کہ آئندہ انتخابات میں ن لیگ کو اسٹیبلشمنٹ کا دست شفقت حاصل ہے، اس کا مطلب ن لیگ کی ڈیل ہو گئی ہے۔
اس ساری صورت حال میں پیپلز پارٹی کافی خاموش نظر آرہی ہے، کیونکہ جب پی ڈی ایم حکومت ختم ہوئی تو شروع شروع میں پیپلز پارٹی اور بلاول بھٹو زرداری کافی سرگرم دکھائی دیے اور ن لیگ مسلسل ان کی سیاسی تنقید کا نشانہ بنی رہی لیکن فی الحال اس طرف سے خاموشی کا اظہار، کیا اشارے دے رہا ہے؟ کیا پیپلز پارٹی نے بھی اس بات پر اکتفا کرلیا ہے کہ اگلی حکومت ن لیگ کی ہوگی؟
ویسے تو پاکستانی سیاست میں روز کوئی نہ کوئی بڑی پیش رفت ہوتی رہتی ہے لیکن حال ہی میں ایک اور بڑی پیش رفت نے پوری سیاسی قیادت کی توجہ اپنی جانب مبذول کیے رکھی ہے، گذشتہ کئی دنوں سے پاکستان میں ایک نئی سیاسی جماعت کے قیام پر بحث جاری ہے اور یہ امید ہے کہ شاید آئندہ چند دنوں میں اس کا باقاعدہ اعلان کیا جائے۔
اس نئی سیاسی جماعت کے لیے فی الحال مسلم لیگ ن سے نالاں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل جبکہ پیپلز پارٹی سے سینیئر سیاست دان مصطفیٰ نواز کھوکھر کافی متحرک دکھائی دے رہے ہیں۔ وہ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ پاکستان میں تین بڑی جماعتیں عام لوگوں کے مسائل حل کرنے میں مکمل ناکام ہو چکی ہیں اور اب وقت آ چکا ہے کہ ایک نئی اور جامع جماعت بنے جو پاکستان کے اصل مسائل پر توجہ دے۔اب یہ جماعت کب قائم ہوتی ہے یا نہیں بھی ہوتی، وہ الگ بحث ہے لیکن اس کے قیام کی خبروں کے بعد چند چیزوں پر توجہ دینی ضروری ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ اس نئی جماعت کو بنانے کا مقصد کیا ہے اور یہ باقی سیاسی جماعتوں سے کیسے مختلف ہو گی؟ کیونکہ جو نام اس جماعت کے ساتھ جڑے ہیں وہ خود بھی تو اسی سیاسی ماحول کا حصہ رہے ہیں، جن کے خلاف اب یہ کھڑے ہیں۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ پاکستان میں اقتدار کے حصول کے لیے اکثر سیاسی جماعتوں کو اسٹیبلشمنٹ کی رضامندی کی ضرورت ہے اور یہ تاثر ہے کہ ان کی رضا کے بغیر اقتدار کا حصول ناممکن ہے، جبکہ اس نئی جماعت کا مؤقف یہ ہے کہ پاکستان کی سیاست کو اب اسٹیبلشمنٹ کے سہارے کو چھوڑ کر صرف عوامی طاقت سے اقتدار میں آنا چاہیے، تو یہ جماعت اسٹیبلشمنٹ کی رضا کے بغیر کیسے وجود میں آ سکتی ہے؟ اسی طرح کیا پاکستانی عوام اس جماعت کو قبول کریں گے بھی یا یہ جماعت صرف جلسوں اور سیمیناروں کی حد تک محدود رہے گی؟
اس صورت حال میں پاکستان کا آئندہ دنوں میں سیاسی منظرنامہ کیا ہوگا، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ الیکشن کمیشن نے اگلے سال جنوری میں الیکشن کا مبہم اعلان تو کردیا لیکن دیکھنا یہ ہوگا کہ الیکشن کمیشن عام انتخابات کی مکمل تاریخ کا اعلان کب کرے گا اور اگر الیکشن کا اعلان ہو بھی جائے تو کیا الیکشن کا پرامن اور شفاف انعقاد ممکن ہے بھی یا نہیں؟ کیونکہ حالیہ عوامی سروے کے مطابق اس وقت ملک کی سب سے مقبول جماعت کا لیڈر جیل میں ہے اور خبریں یہ بھی ہیں کہ ہوسکتا ہے آئندہ انتخابات تحریک انصاف کے بغیر ہوں گے۔ اگر مائنس پی ٹی آئی الیکشن ہوتے ہیں تو وہ کیسے شفاف تصور ہوں گے؟
دوسری جانب ملک میں اس وقت معاشی و سکیورٹی چیلنج بھی شدت اختیار کرچکے ہیں۔ معیشت کا حال سب کو معلوم ہی ہے جبکہ سکیورٹی صورت حال روز بروز ابتر ہوتی جا رہی ہے، ابھی کل ہی بلوچستان کے ضلع مستونگ میں خیبرپختونخوا کے ضلع ہنگو میں ہونے والے دو دھماکوں کے نتیجے میں 50 سے زائد شہری لقمہ اجل بن گئے اور ملک بھر میں امن و امان کی صورت حال انتہائی مخدوش ہے۔
ایسے میں انتخابات کا انعقاد ایک بہت بڑے چیلنج سے کم نہیں۔
واپس کریں