شاہین کوثر ڈار
شہید ذولفقارعلی بھٹو سے لے کر شہید رانی محترمہ بے نظیر بھٹو، مرد حر آصف علی زرداری،محترمہ فریال تالپور اوروزیرخارجہ پاکستان بلاول بھٹو زرداری نے ہمیشہ مزدور طبقے کی بات کی
شاہین کوثر ڈار،سابق ڈپٹی سپیکر آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی
یکم مئی محنت کشوں کاعالمی دن ہے۔اس روز پاکستان سمیت دنیا بھر میں محنت کش 1886ء کو شکاگو میں آٹھ گھنٹے اوقات کار مقرر کرانے اور اپنے بنیادی حقوق منوانے کی جد و جہد میں قربان محنت کشوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔اس روز محنت کشوں کی سماج میں محنت اور قدروں کی پاسداری کامظاہرہ کرنے کے لئے پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں عام تعطیل ہوتی ہے۔اور مختلف جلسے،جلوس اور سمینار ز کا اہتمام کر کے محنت کشوں کی عظمت کو سلام پیش کیا جاتا ہے۔محنت کشوں کے حق میں تقاریر کرکے ان کی عظمت کو اجاگر کیا جاتا ہے۔مگر بدقسمتی سے اس دن محنت کش کی عظمت کو سلام پیش کرنے کے بعد پورا سال خاموشی چھا جاتی ہے اور پھر اس کے حقوق تک بھول جاتے ہیں۔اس ٹھو س حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ ہمارے معاشرے میں سب سے زیادہ محنت مزدور کرتا ہے۔مگر اس کے باوجود سب سے کم معاوضہ انہی کو ملتا ہے۔جس کے باعث وہ انتہائی کسمپرسی کی حالت میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔مزدوروں کے حالات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آج بھی پوری دنیا میں واضع طور پر مزدوروں کے قوانین پر عمل درآمد اس طریقے سے نہیں ہورہا جس طریقے سے کسی بھی ملک کی تعمیر میں وہ اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔پاکستان میں سب سے پہلے شہید ذوالفقار علی بھٹو نے مزدوروں کے حقوق کی بات کی اور محنت کرنے والے کو معاشرے کا ایک اہم جزو قرار دیتے ہوئے اس کے لئے بنیادی قوانین بنائے۔2010ء کی لیبر پالیسی کے مطابق غیر تربیت یافتہ ورکرز کا معاوضہ کم از کم سات ہزار روپےء مقرر کیا گیا۔مگر بدقسمتی سے آج اس کم از کم اجرت والے قانون پر بھی مکمل طور پر عمل نہیں ہو رہاہے۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ سات ہزار روپےء میں ایک مزدوراپنا اور اپنے بیوی بچوں کا پیٹ کیسے پالتا ہوگا۔مہنگائی اس تیزی سے بڑھ رہی ہے کہ ایک اچھے گھرانے کا نظام مشکل ہے مگر نہ جانے کیسے وہ محنت کش جو کسی ملک یا ادارے میں اپنا خون پسینہ ڈال کر اس کی آبیاری کرتا ہے وہ اپنے معصوم بچوں کے سوالوں کے جواب دیتا ہو گا۔اس وقت پاکستان سمیت دنیا بھر کے ممالک میں مزدوروں کیلئے واضع قوانین بنا کر ان پر عمل درآمد کروانے کی اشد ضرورت ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی اپنے قیام سے ہی مظلوم اور غریب طبقے کی بات کرتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب بھی پاکستان میں پیپلز پارٹی بر سر اقتدار آئی اس نے ہمشہ مزدور اور غریب کیلئے کو ئی نہ کوئی پالیسی دی۔ شہید ذولفقارعلی بھٹو سے لے کر شہید رانی محترمہ بے نظیر بھٹو، مرد حر آصف علی زرداری،محترمہ فریال تالپور اور اب پاکستان پپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے ہمیشہ مزدور طبقے کی نہ صرف بات کی بلکہ کئی ایسی پالیسیاں بنائی جس کا برائے راست مزردور طبقے کو فائدہ ہوا۔ پپلز پارٹی در حقیقت مزدوروں کی پارٹی ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اس کی واضع مثال ہے۔ جس کی تعریف دنیا بھر میں کی گئی ہے۔ مگر بد قسمتی سے پاکستان میں ایک طویل عرصہ تک آمریت کی وجہ سے پاکستان کی مالی حالت انتہائی مخدوش ہو چکی ہے۔جس کی وجہ سے پیپلز پارٹی کی جمہوری حکومت کو بے شمار مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ہمارا مذہب اسلام ہے جس میں محنت کش کی بہت بڑی عظمت بیان کی گئی ہے۔
سیدنا صدیق ؓ جب مسلمانوں کے پہلے حکمران مقرر ہوئے تو ان کے اخراجات کا سوال پیدا ہوا کیونکہ وہ اپنا کپڑے کا کاروبار اب بند کرچکے تھے۔ امیر المومنین نے اس کا آسان جواب دیا کہ تم لوگ مدینے کے مزدورکے برابر میری تنخواہ مقرر کردو لوگوں نے اپنے اس بادشاہ سے کہا کہ مدینے کے مزدور کی آمدنی تو بہت کم ہوتی ہے جس میں آپ کے اخراجات پورے نہیں ہوسکیں گئے۔اس کا آسان جواب دیا کہ پھر میں مدینے کے مزدور کی آمدنی اور تنخواہ اتنی بڑھا دوں گا جس کے برابر کی آمدنی سے میرے حکومتی اخراجات پورے ہوسکیں گے۔ یہ حیران کن جواب کوئی سچا رہنما ہی دے سکتا ہے کوئی شعبہ باز اور فریبی حکمران نہیں دے سکتا چنانچہ اس پر عملدرآمد ہوا اور ہوتا رہا۔ ان کے جانشین سیدنا عمرؓ کہا کرتے تھے کہ صدیق ؓ بھائی نے آنے والوں کی زندگی آزمائش میں ڈال دی ہے۔ خلافت راشدہ کے اس حیران کن دور کے اثرات چند برس بعد ایک بار پھرظاہر ہوئے جب عمر بن عبدالعزیر ؓ نے یہ منصب سنبھال لیا۔ ایک عہد کے موقع پر بچیوں نے نئے کپڑوں کی خواہش کی تو انہوں نے اپنی بیوی سے پوچھا کہ تمہارے پاس کچھ ہے۔ اس شہزادی نے جواب دیا کہ کچھ بھی نہیں چنانچہ وہ بچیوں کی خواہش سے مجبور ہوکر بیت المال کے افسر کے پاس گئے اور ایک مہینے کی تنخواہ کا ایڈوانس مانگا۔
یہ افسر بھی عمربن عبدالعزیر کا افسر تھا اس نے کہا کہ آپ مجھے ضمانت دیں کہ اس قرض کی ادائیگی تک زندہ رہیں گے تو میں یہ ایڈوانس رقم دینے پر تیار ہوں۔ امیرالمومنین کے اپنے ملازم کے اس اعتراض کا جواب نہ تھا وہ خاموش ہوکر واپس آگئے اور اپنی ان بیٹیوں کو پیار کے سوا کچھ نہ دے سکے جن کے ماں باپ دونوں شاہی خاندان سے تھے۔محنت کشوں کے حوالہ سے اسلام کے زریں اصول ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔اگر ہم ان پر عمل کریں تو ہم ترقی کی بلندیوں کو چھو سکتے ہیں۔ہمارے پیارے نبی نے محنت کشوں سے بہت محبت کی۔آپ کا فرمان ہے کہ محنت کش اللہ کا دوست ہے۔آئیے آج اپنے ہاتھ اٹھا کر محنت کش کی عظمت کو سلام کریں۔دنیا بھر کے محنت کشو۔۔۔۔۔۔۔تجھے سلام
واپس کریں
شاہین کوثر ڈار کے دیگرکالم اور مضامین