دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
سر جنرل جیمز ایبٹ اور ایبٹ آباد شہر
محمود اسلم
محمود اسلم
سن اٹھارہ سو انچاس عیسوی میں لوگ سکھا شاہی سے خفا تھے سر جنرل جیمز ایبٹ صاحب نے شدید محنت کر کے امن قائم کر دیا تھا ۔۔ دن رات محنت کر کے زمین کا بندوبست کر کے عدالتیں اور محکمے قائم کر کے اور ہزارہ کو جنگلات سے بھر کر لوگوں کے دل جیت لئے تھے ۔.. تاریخ کی کسی کتاب یا دستاویز میں سر جنرل جیمز ایبٹ صاحب کی کسی مالی یا اخلاقی کرپشن کا شائبہ تک نہیں ملتا ۔۔ آج صرف کمشنر ظہیرالسلام ان گنت لگژری بنگلوں کے مالک ہیں ۔۔ عام صحافی ، بلدیہ کے کلرک اور سی اینڈ ڈبلیو کے سب انجنیئر تک ایبٹ آباد شہر اور جناح آباد میں بنگلوں اور کمرشل پلازوں کے مالک ہیں ۔۔ مگر ایبٹ آباد کے شہری تباہ حال ہیں ۔۔ آئے روز کے سیلابوں ، ماحولیاتی آلودگی اور ٹریفک کے مسائل اور مہنگاہی کے ہاتھوں برباد ہیں ۔۔ ایبٹ صاحب جب فوت ہوئے تو بائیس سو پاؤنڈ یعنی ایبٹ آباد کے کسی محلے کے پانچ مرلہ گھر کے برابر ترکہ چھوڑ کر فوت ہوئے ۔۔ انگریز افسروں نے جو بھی لوٹا وہ یا تو ہندوستانی عوام کی فلاح و بہبود پر لگا دیا یا اپنی قوم اور اپنے وطن کی خاطر برطانیہ بھیج دیا ۔۔ اور ملکہ برطانیہ نے وہ نوادرات مفاد عامہ کے لئے مفت انٹری والے عجائب گھروں میں رکھ دئے ۔۔ جب ایبٹ صاحب ٹرانسفر ہوئے تو ہزارہ کے عوام روتے ہوئے ان کو حسن ابدال تک پیدل چھوڑنے گئے ۔۔ ایبٹ صاحب اپنی تنخواہ سے اور عوام اپنی جیب سے بیس دن تک الوداعی کھانے پکاتے رہے اور بیس دن تک حسن ابدال تک تھوڑا تھوڑا چلتے رہے ۔۔ ایبٹ صاحب نے فوت ہونے والے اپنے دوستوں ، مشوانی ، تنولی ، جدون اور گوجر سرداروں کی قبروں کے کتبے برطانیہ سے بھیجے ۔۔ تو یہ ہوتی ھے اصل اور مخلص لوگوں کی عوام سے محبت ۔۔ ہم ایبٹ صاحب کا موازنہ آج کے خود غرض اور لٹیرے افسروں اور حکمرانوں سے کیسے کر سکتے ہیں ۔۔
واپس کریں